X

فیکٹ چیک: چین کے مصنوعی سورج کا نہیں یہ وائرل ویڈیو، راکیٹ لانچ کی تصاویر اور ویڈیو فرضی دعوی کے ساتھ وائرل

وشواس نیوز نے اس ویڈیو کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ مصنوعی سورج کا نہیں بلکہ دسمبر 2021 میں چین میں ہوئے ایک رکیٹ لانچ کے موقع کا ویڈیو ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: January 16, 2022

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو ہا ہے جس میں آسمان میں آگ کے گولے جیسی روشنی دیکھی جا سکتی ہے۔ویڈیو میں بہت سے لوگوں کو سمندر کے پاس کھڑے اس کا ویڈیو بناتے ہوئے بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ اب اسی پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے صارفین یہ دعوی کر رہے ہیں کہ یہ چین کا مصنوعی سورج ہے اور یہ اسی کے نکالے جانے کا ویڈیو ہے۔ جب وشواس نیوز نے اس ویڈیو کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ مصنوعی سورج کا نہیں بلکہ دسمبر 2021 میں چین میں ہوئے ایک رکیٹ لانچ کے موقع کا ویڈیو ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک اور دیگر سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر اس وائرل پوسٹ کی صارفین ویڈیو اور تصاویر شیئر کر رہیں اور یہ دعوی کر رہے ہیں کہ چین کا یہ مصنوعی سورج ہے۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو ان ویڈ ٹول میں اپ لورڈ کیا اور اس کے متعدد کی فریمسن نکالے۔ اور انہیں گوگل رورس امیج کےذریعہ سرچ کیا۔ ہمیں وائرل ویڈیوکسی بھی قابل اعتماد ادارہ کی ویب سائٹ پر نہیں ملا۔ پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے گوگل اوپن سرچ کے ذریعہ ’چین مصنوعی سورج‘ کے کی ورڈ کے ساتھ خبروں کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ سرچ میں ہمیں اسپیس ڈاٹ کام پر چین کے مصنوعی سورج سے متعلق خبر ملی۔ یہاں دی گئی معلومات کےمطابق، ’چین کے “مصنوعی سورج نے 17 منٹ سے زیادہ وقت تک سورج سے پانچ گنا زیادہ گرم درجہ حرارت پر پلازما کے ایک لوپ کو سپر ہیٹ کرنے کے بعد نیا عالمی ریکارڈ قائم کیا ہے۔ حالاںکہ یہ ایک اکسپیریمنٹل لیب میں ہوا ہے۔ مکمل خبر یہاں دیکھی جا سکتی ہے۔

ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور چین میں حال میں ہوئے راکیٹ اور سیٹیلائٹ لانچ کے ویڈیو کو سرچ کرنا شروع کیا۔ ہمیں ایک ٹویٹر صارف کی جانب سے اپ وڈ کیا ہوا وائرل ویڈیو سے ملتا جلتا ایک ویڈیو ملا۔ ویڈیو کو 23 دسمبر 2021 کو اپ لوڈ کرتے ہوئے راکیٹ لانچ کا بتایا گیا ہے۔

گوگل نیوز سرچ میں ہم نے 23دسمبر 2021 کا ٹائم ٹول لگا کر چین کے راکیٹ لانچ سے جڑی خبروں کو تلاش کرنا شروع کیا۔ نیوز سرچ میں ہمیں ناسا اپسیس فلائٹ پر ایک آرٹیکل ملا۔ اس میں دی گئی جانکاری کے مطابق، ’چین نے شیان-12-01 اور شیان-12-02 نامی سیٹلائٹس کا ایک جوڑا چانگ زینگ اے راکٹ پر 10:12 یوٹی سی پر لانچ۔ مصنوعی سیاروں کا جوڑا چین کے وینچانگ اسپیس لانچ سینٹر سے جیو سٹیشنری ٹرانسفر مدار پر روانہ ہوا۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

سی این جی ٹی کے آفیشئل یوٹیوب چینل پر بھی اس راکیٹ لانچ کا ویڈیو دیکھا جا سکتا ہے۔

ویڈیو کی اسی بنیاد پر یوٹیوب سرچ کرتے ہوئے ہمیں ’چائنیز فورسز‘ نام کے یوٹیوب چینل پر ایک ویڈیو ملا۔ یہاں وائرل ویڈیو کے فریم کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق 23 دسمبر 2021 کو چین کے وین چینگ لانچ سینٹر میں لانگ مارچ 7اے راکیٹ کا ویڈیو ہے۔

وشواس نیوز نے تصدیق کے لئے ایرو اسپیس کے سائنٹسٹ ارجن ولوتل سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ وائرل ویڈیو شیئر کیا۔ انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ یہ ایک راکیٹ کے لانچ کا ویڈیو ہے۔ انہوں نے کہا کہ، یہ ویڈیو چین میں حال میں لانچ ہوئے لانگ مارچ 7 اے راکیٹ کا ہے۔ جسے 23دسمبر 2021 میں لانچ کیا گیا ہے۔ اور چین میں گزستہ کئی برسوں میں مصنوعی سوج کو تیار کرنے کی بھی کوششیں چل رہی ہیں۔ حالاںکہ اس کو اس طرح کھلے آسمان میں لانچ نہیں کیا جا سکتا کیوں کہ سورج کی گرمی ارتھ کے ایٹماسفیئر میں نہیں ڈھل سکتی حالاںکہ اسی لئے چین مصنوعی سورج کو لیبروٹری کے اندر سے تمام ایکسپیٹرمینٹ کرتا ہے‘’۔

وشواس نیوز اس بات کی آزادانہ طور پر تصدیق نہیں کرتا کہ اس وائرل ویڈیو کی جگہ کون سی ہے لیکن یہ واضح ہے کہ یہ چین کا مصنوعی سورج نہیں ہے۔

فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ اس صارف کو 244 لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اس ویڈیو کی پڑتال کی تو ہم نے پایا کہ یہ مصنوعی سورج کا نہیں بلکہ دسمبر 2021 میں چین میں ہوئے ایک رکیٹ لانچ کے موقع کا ویڈیو ہے۔

  • Claim Review : چین کا یہ مصنوعی سورا
  • Claimed By : ریاض
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later