X

فیکٹ چیک: سعودی ایئر لائنس کا ویڈیو ایئر انڈیا کا بتا کر غلط حوالے کے ساتھ کیا جا رہا وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: July 15, 2019

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر آج کل ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جو ایک مسافر طیارہ کے اندر کا ہے۔ ویڈیو میں ایک گندا ہوائی جہاز دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ ایئر انڈیا کا طیارہ ہے جس میں ہندوستانی حاجی سفر کر رہے تھے اور انہوں نے ہی اس طیارہ کی یہ حالت کی ہے۔ ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ اصل میں یہ طیارہ سعودی عرب کا ہے اور اس میں سفر کرنے والے لوگ ہندوستان کے حاجی نہیں تھے۔

دعویٰ

فیس بک صارف راجپوت ونود دشرتھ سنگھ نے 6 جولائی کو اس ویڈیو کو اپ لوڈ کرتے ہوئے کیپشن لکھا ہے ’’حاجیوں سے بھرا ہوا ایئر انڈیا طیارہ، ہم صرف عملہ کے ساتھ ہم دردی کر سکتے ہیں‘‘۔

فیکٹ چیک

ہم نے پڑتال کو شروع کرنے کے لئے اس ویڈیو کو ان ویڈ ٹول (نیچے انگریزی میں دیکھیں) پر ڈالا اور اس کے کی فریمس نکالے۔ ان کی فریمس کو ہم نے یانڈیکس پر رورس امیج سرچ کیا۔ اس سرچ میں ہم نے پایا کہ یہ کلپ 6 ستمبر 2016 کو ویڈیو شیئرنگ ویب سائٹ لائو لیک (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کے ذریعہ پوسٹ کی گئی تھی۔ ویڈیو کو کیپشن دیا گیا تھا: ’سعودی ایئر لائنس کے ایئر بس اے 330 کی خستہ حالت‘‘۔
Invid, LiveLeak

ڈیلی میل نے بھی مذکورہ معاملہ پر 6 ستبر 2016 کو ایک رپورٹ شائع کی تھی۔ اس خبر کے مطابق، فوٹیج کو جدہ سے ایتھوپیا عدیس ابابا تک سعودی ایئر لائنس کے افتتاح اڑان پر فلمایا گیا تھا۔ پوری خبر کو آپ یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے ایئر انڈیا کے دفتر میں بات کی جہاں ہمیں بتایا گیا کہ یہ ویڈیو ایئر انڈیا کی فلائٹ کا نہیں ہے۔

ہم نے اس سلسلہ میں سعودی ایئرلائنس سے بھی میل کے ذریعہ رابطہ کیا حالاںکہ ابھی تک وشواس ٹیم کو ان کی جانب سے جواب نہیں ملا ہے۔ جواب ملتے ہی اس خبر کو اپ ڈیٹ کیا جائے گا۔

اس پوسٹ کو سجیتھ سویہر سوکومورن (نیچے انگریزی میں دیکھیں) نام کے ایک فیس بک صارف نے شیئر کیا تھا۔
Sajith Svihar Sukumaran

نتیجہ: ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ دعویٰ غلط ہے۔ اصل میں یہ طیارہ ایئر انڈیا کا نہیں، بلکہ سعودی ایئر لائنس کا ہے اور اس میں سفر کرنے والے مسافر ہندوستان کے حاجی نہیں تھے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later