X

فیکٹ چیکٹ: اصل جانور کی نہیں ہے یہ تصویر، بلکہ فنکار کے ذریعہ بنائی گئی ڈال کی ہے

وشواس نیوز نے اس پوسٹ کی پڑتال کی تو پایا کہ یہ تصویر اصل جانور کی نہیں بلکہ ایک آرٹسٹ کے ذریعہ بنائی گئی ڈال کی ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: June 12, 2022

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس کو شیئر کرتے ہوئے صارفین سلود جانور کی خصوصیات بتا رہےہیں اور ساتھ میں ایک تصویر شیئر کر رہے ہیں جس میں جانوری کو اپنے بچوں کے ساتھ دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو صارفین اصل سمجھ کر وائرل کر رہے ہیں۔ جبکہ ہمارے پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ تصویر اصل جانور کی نہیں بلکہ ایک آرٹسٹ کے ذریعہ بنائی گئی ڈال کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’ایک سلود دن میں 18 گھنٹے سوتا ہے ، اور جب یہ جاگتا ہے تو مسکراہٹیں بانٹتا ہے‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل رورس امیج سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر جولیا سویا کے انسٹاگرام پیج پر ملی۔ یہاں دی گئی معلومات کے مطابق یہ سلود ایک گٰڈیا ہے جسے جولیا نے ہی بنایا ہے۔ مکمل پوسٹ نیچے دیکھی جا سکتی ہے۔

جولیا سویاٹوکھا کے انسٹاگرام پر ہمیں اور بھی ڈالس کی تصاویر ملیں۔ جولیا کے بایو کے مطابق وہ ٹیڈی آرٹسٹ ہیں۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے جولیاس سویاٹوکھا سے انسٹاگرام سے ذریعہ رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ یہ فوٹو ڈال کی ہے جسے انہوں نے ہی بنایا ہے۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کو 1,034,536 لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اس پوسٹ کی پڑتال کی تو پایا کہ یہ تصویر اصل جانور کی نہیں بلکہ ایک آرٹسٹ کے ذریعہ بنائی گئی ڈال کی ہے۔

  • Claim Review : ایک سلود دن میں 18 گھنٹے سوتا ہے ، اور جب یہ جاگتا ہے تو مسکراہٹیں بانٹتا ہے
  • Claimed By : دافني
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later