X

فیکٹ چیک: یہ تصویر استنبول میں حال میں ہوئے حملہ کی نہیں ہے، وائرل تصویر پرانی ہے

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ تصویر اکتبور 2022 کی ہے جب استنبول کی ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی۔ اس پرانی تصویر کو گمراہ کن حوالے کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: November 16, 2022

نئی دہلی (وشواس نیوز): گزشتہ روز ترکی کے استنبول میں ہوئے حملہ کے بعدسوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک عمارت میں آگ کو لگے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو شیئر کرتے ہوئے صارفین یہ دعوی کر رہے ہیں کہ یہ تصویر استنبول میں ہوئے حالیہ حملہ کی ہے۔ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ تصویر اکتبور 2022 کی ہے جب استنبول کی ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی۔ اس پرانی تصویر کو گمراہ کن حوالے کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’بریکنگ نیوز افسوسناک خبر ترکی کے شہر استنبول میں خودکش حملہ 5 افراد ہلاک اور 40 افراد زخمی‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

خبروں کے مطابق 13 نومبر کو ’ترکی میں وسطی استنبول کے ایک بھیڑ بھاڑ والے علاقے میں ایک دھماکے میں کم سے کم چھ افراد ہلاک اور 81 زخمی ہوگئے۔ یہ دھماکہ سہ پہر تقسیم اسکوائر علاقے میں استقلال اسٹریٹ میں ہوا‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے تصویر کو گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر محر نیوز نام کی ویب سائٹ پر 10 اکتوبر 2022 کو شیئر ہوئی ملی۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’ترک میڈیا نے اتوار کو اطلاع دی ہے کہ استنبول میں ایک رہائشی عمارت میں ہونے والے دھماکے میں تین افراد ہلاک اور ایک زخمی ہو گیا۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

اسی تصویر سے جڑی خبر ہمیں صباح نام کی ایک ویب سائٹ پر ملی۔ 9اکتوبر 2022 کو شائع ہوئی خبر کے مطابق’ کادکی کے علاقے فکرتیپے محلیسی میں امیر سوکاک پر واقع دو منزلہ عمارت میں نیچورل گیس کا دھماکہ ہوا اور پھر آگ بھڑک اٹھی۔ آگ کچھ ہی دیر میں بڑھی تو آگ کے شعلے مزید دو عمارتوں تک پھیل گئے۔

اسی معاملہ کا ویڈیو ہمیں سی ایس این ترک کے یوٹیوب چینل پر ملا۔ 10 اکتوبر 202 کو اپلوڈ ہوئے ویڈیو کے مطابق، ’کل شام کادکی میں ایک عمارت میں دھماکہ ہوا۔ میونسپلٹی اور گورنر کے دفتر نے دھماکے کی وجہ کے بارے میں الگ الگ بیان دیا جس میں 3 افراد کی جانیں گئیں۔ فائر فائٹرز اور پیرا میڈیکس فوری طور پر علاقے میں پہنچ گئے ہیں۔ دھماکے کے نتیجے میں تباہ ہونے والی عمارت میں مداخلت کی گئی ہے۔ 3 گھنٹے کی کوشش کے بعد آگ پر قابو پالیا گیا۔

وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے ترکی کے آر ٹی ایل نیوز صحافی پپائین ناگزام سے رابطہ کیا اور وائرل تصویر ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں معلومات دیتے ہوئے بتایا کہ ’اس تصویر کا اتوار کے روز ہوئے خود کش حملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ پچھلے ماہ ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی یہ اس کی تصویر ہے۔

ہم نے ٹویٹر کے ذریعہ ترکی کی صحافی روجدا اوگز سے بھی رابطہ کیا اور انہوں نے بھی تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ اس تصویر کا خود کش حملہ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے اور اس اکاؤنٹ کو 16 لوف فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ تصویر اکتبور 2022 کی ہے جب استنبول کی ایک عمارت میں آگ لگ گئی تھی۔ اس پرانی تصویر کو گمراہ کن حوالے کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : یہ تصویر استنبول میں ہوئے حالیہ حملہ کی ہے۔
  • Claimed By : Aftab Mugheri
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later