X

فیکٹ چیک: کورونا وائرس پر یہ وائرل مسیج یونیسف نے نہیں کیا ہے جاری

  • By Vishvas News
  • Updated: March 17, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے۔ اس پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ 27-26 ڈگری سلسیس سے زائد درجہ حرارت میں کورونا وائرس مر جاتا ہے۔ اس میں کہا گیا ہے کہ گرم پانی پینا اور سورچ کی روشنی میں رہنا بہتر ثابت ہو سکتا ہے۔ اس میسج میں آیئس کریم اور کولڈ ڈرنک سے بھی پرہیز کرنے کی گزاراش کی گئی ہے۔ وائرل پوسٹ میں اس میسج کے ذرائع ابلاغ کے طور پر یونیسف بتایا گیا ہے۔ وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ وائرل میسج فرضی پایا گیا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

سوشل میڈیا پر ’سین میٹیو بیٹلرس‘ نام کے صارف کی جانب سے اس پوسٹ کو شیئر کیا گیا ہے۔ اس میں لکھا ہے، ’کورونا وائرس معلومات: یونیسف: اگر کورونا وائرس 26-27 ڈگری سلسیس میں آئے تو یہ مر جائےگا، کیوں کہ یہ گرم علاقوں میں زندہ نہیں رہتا۔ گرم پانی پینا اور سورج کی روشنی کے رابطہ میں آنا بھی بہتر ثابت ہوگا۔ آئیس کریم اور ٹھنڈے کھانے سے دور رہنے کا مشورہ دیا گیا ہے‘‘۔

پڑتال

جیسا کہ دیکھا جا سکتا ہے، اس وائرل پوسٹ میں یونیسف کو اس معلومات کا ذریعہ بتایا گیا ہے۔

وشواس نیوز نے یونیسف کی ہیلتھ اسپیشلسٹ ڈاکٹر کنوپریا سنگھل سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ: ’’یونیسف کی جانب سے اس طرح کا میسج نہیں بھیجا گیا ہے‘‘۔

وائرل پوسٹ کا دعویٰ ہےکہ کورونا وائرس 27۔26 ڈگری سلسیس سے زائد درجہ حرارت میں ختم ہو جاتا ہے۔ حالاںکہ، میڈیکل ماہرین نے اس نئے وائرس کو لے کر ایسا کوئی دعویٰ نہیں کیا ہے۔

ڈاکٹر کنوپریا سنگھل کے مطابق، ’’درجہ حرارت کو لے کر اس وائرس کی حساسیت کی تاحال شناخت نہیں ہوسکی ہے۔ فی الحال یہ بے حد ضروری ہے کہ صرف قابل اعتماد ذرائع ابلاغ جیسے وزارت صحت کی آفیشیئل ویب سائٹ، عالمی ادارہ صحت یا یونیسف پر ہی یقین کیا جائے۔ فرضی نیوز اور گمراہ کن خبروں کو بغیر تصدیق کے سوشل میڈیا پر شیئر نہیں کرنا چاہئے‘‘۔

یونیسف کے کمیونیکیشن اسپیشلسٹ کرسٹوفر ٹیڈی نے ہمیں میل کے ذریعہ بتایا، ’’یہ پوسٹ نہ تو یونیسف کی ہے اور نہ ہی صحیح ہے۔ پوری دنیا میں لوگ کورونا وائرس سے اپنے اور خاندان کو بچانے کے لئے ضروری احتیاط برت رہے ہیں۔ حالاںکہ، بہت سارے لوگ وائرس اور اس سے بچاؤ کو لے کر معلومات شیئر کر رہے ہیں، لیکن ان میں سے کچھ معلومات کام کی یا یقین کے لایق ہیں۔ صحت کے ایک بڑے بحران کے اس دور میں گمراہ کن معلومات شیئر کرنے سے لوگوں کو بچنا چاہئے‘‘۔

وشواس نیوز نے مزید تفتیش کرنے کے لئے سنٹرس فار ڈزیز کنٹرول اینڈ پریونشن (سی ڈی سی) کی آفیشیئل ویب سائٹ پر ایک رپورٹ ملی۔ رپورٹ کے مطابق، ’’اب تک اس کی معلومات نہیں ہے کہ موسم یا درجہ حرارت کا سی او ویڈ 19 کے پھیلنے پر اثر ہے یا نہیں۔ عام سردی- زکام اور فلو جیسے وائرس ٹھنڈ کے موسم میں زائدہ پھیلتے ہیں، لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ دوسرے مہینوں میں ان وائرسوں سے متاثر نہیں ہوا جا سکتا۔ فی الحال یہ نہیں پتہ چل پایا ہے کہ موسم گرم ہونے پر نوول کورناوائرس کو پھیلنے سے روکا جا سکےگا۔ نوول کورونا وائرس کے پھیلنے، اس کی سنجیدگی اور دیگر چیزوں کے بارے میں جاننے کے لئے ابھی بہت کچھ ہے اور اس معاملہ میں تحقیق جاری ہے‘‘۔

اس وائرل پوسٹ میں آگے دعویٰ کیا گیا ہے کہ گرم پانی پینے اور سورج کی دھوپ میں آنے سے آرام ملتا ہے۔

ہمیں اس بات کا کوئی ثبوت نہیں ملا کہ گرم پانی پینے اور سورج کی روشنی انفیکشن کو روک سکتی ہے۔ جنرل فزیشئن ڈاکٹر سنجیو کمار کے مطابق، ’’اس بات کی تصدیق نہیں ہوئی ہے۔ اب تک کورونا وائرس کا کوئی علاج نہیں ہے۔ سردی۔ کھانسی جیسی سانس متعلقہ معمولی بیماریوں سے متاثر شخص کے قریبی رابطہ میں آنے پر کورونا وائرس پھیل سکتا ہے‘‘۔

وائرل پوسٹ میں یہ بھی دعویٰ کیا گیا ہے کہ لوگوں کو آئیس کریم اور کولڈ ڈرنک نہیں پینی چاہئے۔

ہماری پڑتال میں پتہ چلا کہ یونیسف کے ڈپوٹی اگزیکیوٹو ڈائریکٹر فار پارٹنرشپ، چارلٹ پٹری گورنٹکا نے کرورونا وائرس کی متعلق گمراہ کن خبروں پر ایک بیان جاری کیا ہے۔

اس بیان میں کورونا وائرس سے منسلک تمام گمراہ کن دعویٰ کو خارج کیا گیا ہے۔ اس کے مطابق، ’’پوری دنیا میں کئی زبانوں میں ایک غلط آئن لائن میسج گھوم رہا ہے۔ اسے یونیسف کا بتایا جا رہا ہے۔ بیماری سے بچنے کے لئے اس میں دیگر چیزوں کے ساتھ ساتھ آئیس کریم اور دوسری ٹھنڈی کھانے والی چیزوں سے پرہیز کرنے کو کہا جا رہا ہے۔ یہ پوری طرح سے غلط ہے‘‘۔

نتیجہ: کورونا وائرس کو لے کر یہ وائرل میسج یونیسف کی جانب سے جاری نہیں کیا گیا ہے۔

  • Claim Review : یونیسف کے حوالے سے دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اگر کورونا وائرس 26-27 ڈگری سلسیس میں آئے تو یہ ختم ہو جاتا ہے
  • Claimed By : Fb User- San Mateo Battlers
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later