X

فیکٹ چیک: وائرل تصویر میں نظر آرہی افریقی خاتون نے نہیں دیا دس بچوں کو جنم، فرضی دعوی ہو رہا وائرل

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل پوسٹ میں کیا جا رہا دعوی غلط ہے۔ تصویر میں حاملہ نظر آرہی اس خاتون نے دس بچوں کو جنم نہیں دیا ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: June 25, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس کے ساتھ دو تصاویر ہیں۔ پہلی تصویر میں حاملہ خاتون ایک شخص کے ساتھ نظر آرہی ہے۔ وہیں دوسری تصویر میں بہت سے بچوں کو ہاسپیٹل وارڈ میں لیٹے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ پوسٹ کے ساتھ دعوی کیا گیا ہے کہ افریقہ کی ایک خاتون نے ایک ساتھ دس بچوں کو جنم دیا ہے اور اسی کے ساتھ انہوں نے عالمی گنیز ریکارڈ بھی قائم کر لیا ہے۔ وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل پوسٹ میں کیا جا رہا دعوی غلط ہے۔ تصویر میں حاملہ نظر آرہی اس خاتون نے دس بچوں کو جنم نہیں دیا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’زراک خان‘ نے پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’افریقہ میں عالمی ریکارڈ خاتون نے 10 بچے پیدا کرکے عالمی ریکارڈ بنائی دو جڑواں بچے بھی تھے‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کا آغاز کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے خاتون کی تصویر کو گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں متعدد عالمی قابل اعتماد اداروں کی جانب سے اسی خاتون کے حوالے سے خبر ملی جس میں بتایا گیا کہ، افریقہ سے تلعق رکھنے والی مذکورہ خاتون نے ایک ساتھ دس بچوں کو جنم دیا ہے۔ حالاںکہ کہیں بھی ہمیں یہ خبر اطمینان بخش نہیں لگی۔

مختفل کی ورڈ کے ساتھ ہم نے یہ خبر سرچ کی۔ اور ہمیں اوون انڈیا کی ویب سائٹ پر 23 جون 2021 کو شائع ہوئی اسی موضوع سے متعلق ایک خبر ملی جس میں بتایا گیا کہ گزشتہ روز ایک خاتون کے ذریعہ ایک ساتھ دس بچوں کو جنم دینے کی خبر افواہ نکلی ہے۔ مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

دا سن ڈاٹ کو ڈاٹ یوکے میں شائع خبر کے مطابق، ’7جون 2021 کو افریقہ سے تعلق سنتھلے نام کی خاتون نے دعوی کیا تھا کہ انہوں نے پریٹوریا کے ایک اسپتال میں ایک ساتھ دس بچوں کو جنم دیا ہے۔ لیکن انتظامیہ کی جانب سے کی گئی تمام تصدیق کے بعد یہ معلوم ہوا کہ یہ خبر فرضی ہے۔ اور خاتون کی ذہنی توازن درست نہیں ہے۔ جس کے سبب انہیں سائٹکیٹرک وارڈ میں داخل کرا دیاگیا ہے۔

مزید سرچ میں ہمیں گواٹنگ حکومت کے آفیشیئل ٹویٹر ہینڈل کی جانب سے کیا گیا ایک ٹویٹ مکا۔ 23 جون 2021 کو کئے گئے اس ٹویٹ میں بتایا گیا کہ افریقہ کے گواٹنگ صوبہ کی خاتون کے حوالے سے ایک ساتھ دس بچوں کو جنم دینے کی خبر فرضی ہے۔ صوبہ کے تمام سرکاری اور ذاتی استپالوں میں ایسا کوئی معاملہ پیش نہیں آیا ہے۔ علاوہ ازیں محترمہ سنتھلے نے پچھلے دنوں کسی بھی بچے کو جنم نہیں دیا ہے۔ ان ذہنی توازن درست نہ ہونے کے سبب استپال میں بھی داخل کرایا گیا ہے‘‘۔ مکل ٹویٹ نیچے دیکھیں۔

جنوبی افریقہ کے نیوز 24 کے صحافی مارون چارلس کی جانب سے 15 جون 2021 کیا گیا ایک ٹویٹ ملا۔ جس میں پریس ریلیز کو دیکھا جا سکتا ہے۔ پریس ریلیز میں سنتھلے کے بوائی فرینس کے خاندان سے جاری کی گئی اور اس میں بتایا گیا کہ دس بچوں کی ایک ساتھ پیدائش سے متعلق وائرل رہی تمام خبریں فرضی ہیں۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے افریقہ کے نیوز 24 کے صحافی مارون چارلس سے ٹویٹر کے ذریعہ رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمارے ساتھ صوبائی حکومت کے ٹویٹ کا لیکن شیئر کرتے ہوئے بتایا کہ گاوٹینگ صوبہ کی حکومت نے ایک بیان جاری کیا ہے جس میں بتایا ہے کہ تفتیش میں خاتون کے ذریعہ کیا گیا دعوی فرضی پایا گیا ہے اور خاتون اس وقت وہ نفسیاتی علاج لے رہی ہیں۔

اب ہم نے پوسٹ کے ساتھ وائرل ہو رہی دوسری تصویر جس میں بہت سے پیدہ ہوئے بچوں کو دیکھا جا سکتا ہے، کو سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں یہ تصویر انڈیا اسپینڈس ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر 5فروری 2016 کو شائع ہوئے ایک آرٹیکل میں ملی۔ تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کےمطابق لکھنئو کے ایک اسپتال وارڈ کی یہ تصویر ہے جسے رائٹرس کے لئے فوٹو گرافر پون کمار نے کھینچا ہے۔

زارک خان کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کی جانب سے زیادہ تر وائرل پوسٹ شیئر کی جاتی ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل پوسٹ میں کیا جا رہا دعوی غلط ہے۔ تصویر میں حاملہ نظر آرہی اس خاتون نے دس بچوں کو جنم نہیں دیا ہے۔

  • Claim Review : افریقہ میں عالمی ریکارڈ خاتون نے 10 بچے پیدا کرکے عالمی ریکارڈ بنائی دو جڑواں بچے بھی تھے
  • Claimed By : Zarak Khan
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later