X

فیکٹ چیک: بابری مسجد کے نام پر پھیلائی جا رہی ہیں ترکی اور افغانستان کی تصاویر

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر کچھ تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ ان تصاویر کو لے کر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ یہ سبھی تصاویر آزادی سے قبل کی بابری مسجد کی ہیں۔ وشواس نیوز نے جب ان تمام تصاویر کی تفصیلی پڑتال کی تو معلوم ہوا کہ وائرل دعویٰ گمراہ کن ہے۔ وائرل پوسٹ میں نظر آرہی پہلی تصویر بابری مسجد کی کافی پرانی تصویر ہے، جب کہ دیگر تینوں تصاویر کا بابری مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر متعدد صارفین کچھ تصاویر کو بابری مسجد کے نام پر وائرل کر رہے ہیں۔ ایک ایسے ہی صارف محمد عمران نے 12 نومبر کو چار تصاویر کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا: ’’بابری مسجد کی خوبصورت تصویریں جو برٹش لائبریری میں موجود ہیں لیکن اب یہ ہمارے لئے قصئہ پارینہ بن چکی ہیں‘‘۔

پڑتال

وشواس نیوز نے سلسلہ وار طریقہ سے پڑتال کا آغاز کیا۔ اس کے لئے ہم نے کئی آن لائن ٹولس کا استعمال کیا۔ علاوہ ازیں ہم نے بابری مسجد کے پیروکار اقبال انصاری سے بھی رابطہ کیا۔

پہلی تصویر

ہم نے سب سے پہلے وائرل پہلی تصویر کو گوگل رورس امیج میں اپ لوڈ کر کے سرچ کیا۔ یہ تصویر ہمیں متعدد قابل اعتماد اور بین الاقوامی ویب سائٹ پر ملی۔ دا وال اسٹریٹ جرنل کے 3 دسمبر 2012 کو شائع ایک خبر میں اس تصویر کا استعمال کیا گیا۔ تصویر کو لے کر دا برٹش لائبریری بورڈ کا کاپی رائٹ بتایا گیا۔ کیپشن میں لکھا گیا کہ 1900 کے وقت کی بابری مسجد کی تصویر۔ یعنی پہلی تصویر بالکل صحیح تھی۔ یہ بابری مسجد کی پرانی تصویر ہے۔

دوسری تصویر

اس کے بعد ہم نے دوسری تصویر کی پڑتال کرنا شروع کیا۔ گوگل رورس امیج سے ہمیں کچھ خاص نہیں ملا۔ اس کے بعد ہم نے ینڈکس میں اس تصویر کو سرچ کرنا شروع کیا۔ ہمیں متعدد لنک پر اس سے ملتی جلتی تصویر ابراہیم روزا واقع مسجد کے نام پر ملی۔

ہمیں ایک ایسی ہی تصویر گلوب ٹروو ڈاٹ کام پر ملی۔ یہ سیاحت کی سب سے بہترین ویب سائٹوں میں سے ایک ہے۔ اس کے مضمون میں بتایا گیا کہ بیجا پور کی ابراہیم روزا عمارت میں موجود مسجد کی یہ تصویر ہے۔

اس کے بعد ہم نے بابری مسجد کے نام پر وائرل تصویر اور ابراہیم روز ا مسجد کا موازنہ کیا۔ ہمیں دونوں کی فن تعمیر ایک ہی ملی۔ اگر دونوں تصاویر کو دیکھا جائے تو سامنے ایک جیسا ہی گیٹ نظر آرہا ہے۔ علاوہ ازیں گیٹ کے اوپر بنا جھروکھا دونوں تصاویر میں ایک جیسا ہے۔ وہیں دونوں تصویروں میں دکھ رہے کھمبے اور چھت کی ڈیزائین ہی جیسی ہے۔ یعنیٰ یہ واضح تھا کہ دوسری وائرل تصویر بابری مسجد کی نہیں ہے۔

تیسری تصویر

اب باری تھی تیسری تصویر کی حقیقت پتہ کرنے کی۔ اس تصویر کو ہم نے گوگل رورس امیج اور ینڈکیس میں سرچ کیا۔ ہمیں ینڈیکس میں وائرل تصویر کی دوسرے اینگل کی رنگین تصویر ملی۔ یہ تصویر شٹر اسٹاک کی ویب سائٹ پر موجود ہے۔ اس میں ہمیں وائرل تصویر میں نظر آرہی عمارت کا انٹیریئر ٹھیک ویسا ہی ملا، جیسا شٹر اسٹاک کی امیج میں ہے۔ یہ تصویر ترکی کی گرین ماسک کی ہے۔

دونوں تصاویر کا ہم نے موازنہ کیا تو ہمیں ویسا ہی فاونٹین ملا۔ اس کے علاوہ دونوں تصاویر میں کئی چیزیں ایک جیسی نظر آئی۔ اس میں کھڑکیوں سے لے کر زینوں اور اس کے قریب میں بنی ڈیزیئن ایک ہی تھی۔ یہ بار صاف تھی کہ باربی مسجد کے نام پر وائرل تصویر ترکی کی گرین مسجد کی ہے۔

چوتھی تصویر

بابری مسجد کے نام پر وائرل ہو رہی چوتھی تصویر کی حقیقت جاننے کے لئے ہم نے اسے ینڈیکس میں اپ لوڈ کر کے سرچ کیا۔ ہمارے سامنے متعدد نتائج آئے۔ کچھ جگہ اس تصویر افغانستان کی نوہ گمبد بتایا گیا۔ گوگل میں جب ہم نے نوہ گمبد لکھ کر سرچ کیا تو ہمیں الامی ڈاٹ کام پر یہ تصویر ملی۔

یہ افغانستان کی نوہ گمبد مسجد کی ہی تصویر تھی۔ اس کا بابری مسجد سے کوئی تعلق نہیں ملی۔ تصویر میں نظر آرہے کھمبے کی ڈیزائین دونوں تصاویر میں ایک ہی ہی ملی۔

وائرل تصاویر کو ہم نے بابری مسجد کے پیروکار اقبال انصاری کو بھیجا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ پہلی تصویر بابری مسجد کی ہی ہے، لیکن دیگر تینوں تصاویر کا بابری مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

اب باری تھی فیس بک پر پوسٹ کو وائرل کرنے والے فیس بک صارف محمد عمران کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پروفائل سے متعدد فرضی پوسٹ کو شیئر کیا گیا ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز کی پڑتال میں پتہ چلا کہ بابری مسجد کے نام پر وائرل تصاویر کا دعویٰ گمراہ کن ہے۔ پہلی تصویر کے علاوہ دیگر تین تصاویر کا باربی مسجد سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

  • Claim Review : بابری مسجد کی خوبصورت تصویریں جو برٹش لائبریری میں موجود ہیں لیکن اب یہ ہمارے لئے قصئہ پارینہ بن چکی ہیں
  • Claimed By : FB User- Mohammed Imran
  • Fact Check : False
False
    Symbols that define nature of fake news
  • True
  • Misleading
  • False
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں کوئز کھیلے

مکمل سچ جانیں...

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later