X
X

فیکٹ چیک: عید پر پولیس کاروائی کا نہیں ہے یہ ویڈیو، لاک ڈاؤن کا ویڈیو گمراہ کن حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ اس ویڈیو کا عید الفطر کی نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو 2020 کا بھارت میں کووڈ-19 کے دوران لگے لاک ڈاؤن کے وقت کا ہے۔ اس وقت لاک ڈاؤن لگنے کے سبب ایک ساتھ لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت نہیں تھی، اسی وقت کے ویڈیو غلط زاویہ سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Apr 1, 2025 at 06:11 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ گزشتہ روز دنیا کے دیگر ممالک سمیت بھارت میں بھی مسلمانوں نے عید الفطر منائی۔ اسی بیچ بھارت میں چل رہی عید کی نماز کے حوالے سے ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں نماز پڑھ کر نکل رہے نمازیوں کو پولیس اہکار ڈنڈوں سے پیٹتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ صارفین اس ویڈیو کا حال ہی کا اور عید کا معاملہ سمجھ کر شیئر کر رہے ہیں۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ اس ویڈیو کا عید الفطر کی نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو 2020 کا بھارت میں کووڈ-19 کے دوران لگے لاک ڈاؤن کے وقت کا ہے۔ اس وقت لاک ڈاؤن لگنے کے سبب ایک ساتھ لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت نہیں تھی، اسی وقت کے ویڈیو غلط زاویہ سے پھیلایا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک ’کشمیر نیوز ایلرٹ‘ نے وائرل پوسٹ کو 31 مارچ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’مسجد میں بھی مسلمانوں کے ساتھ ظلم کیا جا رہا ہے۔ پولیس والے دیکھ لیجئے کس طرح سے ظلم کر رہے ہیں‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گول لینس کے ذریعہ وائرل ویڈیو کے کی فریمس کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو اے این آئی کے ایکس ہینڈل پر 26 مارچ 2020 کو اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ بتایا گیا کہ، کرناٹک کے بلگام میں کورونا وائرس کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مسجد میں نماز پڑھنے گئے لوگوں کی پولیس نے پٹائی کی۔

مزید سرچ کئے جانے پر ہندوستان ٹائمز کی ویب سائٹ پر بھی اس معاملہ سے متعلق خبر مارچ 2020 کو شائع ہوئی ملی۔ دی گئی خبر کے مطابق، ’پولیس نے جمعرات کو ان لوگوں کی پٹائی کی جو ملک بھر میں چل رہے لاک ڈاؤن کے باوجود مسجد میں نماز ادا کرنے گئے تھے۔ ایک ویڈیو میں پولیس اہلکاروں کو لوگوں کو لاٹھیوں سے مارتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے جب وہ یہاں کی ایک مقامی مسجد میں نماز ادا کرنے کے بعد جا رہے تھے‘‘۔

یہ ویڈیو اس سے قبل بھی گمراہ کن حوالے سے سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکا ہے اس وقت ہم نے پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے کرناٹک کے صحافی یاسر خان سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے تصدیق دیتے ہوئے بتایا تھا کہ وائرل ویڈیو لاک ڈاؤن کے دوران کا ہے حال فی الحال کا نہیں۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ اس پیج کو دس ہزار لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ اس ویڈیو کا عید الفطر کی نماز سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو 2020 کا بھارت میں کووڈ-19 کے دوران لگے لاک ڈاؤن کے وقت کا ہے۔ اس وقت لاک ڈاؤن لگنے کے سبب ایک ساتھ لوگوں کے جمع ہونے کی اجازت نہیں تھی، اسی وقت کے ویڈیو غلط زاویہ سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : مسلمانوں پر عید کے دن پولیس کا ظلم۔
  • Claimed By : FB Page- Kashmir news alert22
  • Fact Check : گمراہ کن

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later