X

کویک فیکٹ چیک: خواتین کی سکیورٹی کے لئے ایک بار پھر وائرل ہوا فرضی ہیلپ لائن نمبر

  • By Vishvas News
  • Updated: January 8, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ گزشتہ سال سے خواتین کی حفاظت کے نام پر ایک ہیلپ لائن نمبر سوشل میڈیا پر زبردست وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل پوسٹ میں ایک نمبر دیا گیا ہے جس میں اکیلے سفر کرنے والی خواتین کی 9969777888 نمبر کے ذریعہ ٹریک کرنے کا دعویٰ کیا جا رہا ہے۔

فیس بک پیج ’نیک وچار نیک انسان‘ کی جانب سے ایک پوسٹ شیئر کی گئی ہے جس میں لکھا ہے، ’’اکیلے سفر کرنے والی خواتین کے دفع میں جاری۔ آپ جب بھی اکیلے رات میں آٹو یا ٹیکسی میں بیٹھے تو اس پر آٹو یا ٹیکسی کا نمبر 9969777888 ایس ایم ایس کر دیں آپ کے فون پر میسج آئےگا اکنالجمینٹ کا، آپ کی گاڑی پر جی پی آر ایس سے نظر رکھی جائےگی‘‘۔ وشواس نیوز نے اس سے قبل بھی اس دعویٰ کی پڑتال کی تو ہمیں معلوم ہوا تھا کہ یہ نمبر وجود میں نہیں ہے۔ اور وائرل کیا جا رہا دعویٰ مکمل طور پر فرضی ہے۔

اس میسج کی حقیقت کا پتہ لگانے کی کوشش کی تھی تو ہمیں پتہ چلا کہ تھا ممبئی پولیس نے مارچ 2014 میں موبائل سروس پروائڈر کمپنی ایم ٹی این ایل کے ساتھ مل کر یہ سروس شروع کی تھی۔ لیکن جب وشواس نیوز نے ممبئی پولیس ہیڈ کوارٹر میں فون کیا تو ہمیں بتایا گیا کہ اس سروس کو زیادہ رسپانس نہیں ملا اسلئے اس موبائل نمبر کی سروس مارچ 2017 میں ہی بند کر دی گئی تھی۔

مکمل خبر یہاں پڑھیں۔


نتیجہ: ہماری پڑتال میں اس میسج کو لے کر دو باتیں پائی گئیں۔ پہلی یہ سروس صرف ممبئی شہر کے لئے تھی اور دوسری۔ مارچ 2014 میں شروع ہوئی یہ سروس مارچ 2017 میں بند کر دی گئی۔ وائرل میسج فرضی ہے۔

  • Claim Review : اکیلے سفر کرنے والی خواتین کے دفع میں جاری۔ آپ جب بھی اکیلے رات میں آٹو یا ٹیکسی میں بیٹھے تو اس پر آٹو یا ٹیکسی کا نمبر 9969777888 ایس ایم ایس کر دیں آپ کے فون پر میسج آئےگا اکنالجمینٹ کا، آپ کی گاڑی پر جی پی آر ایس سے نظر رکھی جائےگی
  • Claimed By : FB PAGE- नेक विचार नेक इन्सान
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later