X

فیکٹ چیک: برازیل کے ویڈیو کو کیا جا ہے جرمنی میں کینسر سے مبتلا بچے کے لئے نکالی گئی بائک پریڈ بتاتے ہوئے وائرل

ہم نے اس پوسٹ کی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل پوسٹ میں دو ویڈیو کو آپس میں مرج کیا گیا ہے اور دونوں ہی مختلق مقامات کی ہیں۔ پہلی ویڈیو جس میں ہزاروں بائکرس آتے ہوئے ہوئے نظر آرہے ہیں وہ برازیل کی بائک ریلی کی ویڈیو ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: June 8, 2022

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس کے پہلے حصہ میں ہزاروں کی تعداد میں بائکرس نظر آرہے ہیں اور ویڈیو کے دوسرے حصہ میں ایک بچے کے ارد ارگ بائکرس کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین یہ دعوی کر رہے ہیں، ’شمالی جرمنی میں چھ سالہ کینسر کے مریض ایک بچے کی آخری خواہش کہ اسکے گھر کے سامنے موٹر بائیکس چلتی ہوئ نظر آئیں، گھر والوں نے کوئ 20 بائیکس کیلیۓ اشتہار دیا اور نتیجتاً بیس ہزار موٹر سائیکل سوار حاضر ہوۓ‘۔ ہم نے اس پوسٹ کی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل پوسٹ میں دو ویڈیوز کو آپس میں مرج کیا گیا ہے اور یہ دونوں ہی مختلق مقامات کی ہیں۔ پہلی ویڈیو جس میں ہزاروں بائکرس آتے ہوئے ہوئے نظر آرہے ہیں وہ برازیل کی بائک ریلی کی ویڈیو ہے۔ وہیں دوسری ویڈیو جرمنی کی کینسر بچے کے لئے نکالی گئی بائیک پریڈ کی ہی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’شمالی جرمنی میں چھ سالہ کینسر کے مریض ایک بچے کی آخری خواہش کہ اسکے گھر کے سامنے موٹر بائیکس چلتی ہوئ نظر آئیں، گھر والوں نے کوئ 20 بائیکس کیلیۓ اشتہار دیا اور نتیجتاً بیس ہزار موٹر سائیکل سوار حاضر ہوۓ۔ ہم بھلےمشینی دور کی انفرادیت پرستی، جدید بے حسی، خاندانی قدروں کی پامالی وغیرہ جیسے فتاویٰ انعام کرتے ہوں لیکن ویکن چونکہ چنانچہ اگر مگر سب بے معنی۔ “کسی روتے ہوۓ بچے کو ہنسایا جاے‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے پہلی ویڈیو کے اسکرین شاٹ کو گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں اسی ویڈیو سے ملتی ہوئی تصویر دا گارجیئن ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر 13 جون 2021 کو شائع ہوئے ایک آرٹیکل میں ملی۔ یہاں خبر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’برائزیل کے صدر جمہوریہ اور ان کے حامیوں نے یہ بائک ریلی نکالی تھی جس میں تقریبا 12 ہزارس بائیکس شامل ہوئے تھے‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

برازیئل کی بائکرس ریلی سے متعلق خبر رائٹرس اور فرسٹ پوسٹ کی ویب سائٹ پر بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

ویڈیو کے دوسرے حصہ کو کراپ کر کے گوگل رورس امیج سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ایک یوٹیوب چینل پر 1 اگست 2021 کو اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کےمطابق جرمنی میں کینسر سے مبتلا بچے کی خوشی کے ہزاروں بائکرس نے بائیک پریڈ کی۔

مزید سرچ میں ہمیں اسی معاملہ سے متعلق خبر جرمنی کے نیوز پورٹ این ڈی آر ڈاٹ ڈی ای کی ویب سائٹ پر 7 جولائی 2021 کو شائع ہوی ملی۔ یہاں دی گئی معلومات کے مطابق،’کینسر میں مبتلا بچے کو خوش کرنے کے لیے کئی ہزار موٹرسائیکل سواروں نے جرمنی کے مشرقی فریسیائی قصبے راؤڈرفین میں پریڈ کی‘۔ مکمل خبر یہاں اور یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

مزید تصدیق حاصل کرنے کے لئے ہم نے جرمنی کی صحافی حیب جمال سے ٹویٹر کے ذریعہ رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ اور انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ وائرل پوسٹ کے ساتھ شیئر کی جا رہی ویڈیو گمراہ کن ہے۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق ملک عرفان پاکستان کے چکول سے ہے۔

نتیجہ: ہم نے اس پوسٹ کی پڑتال میں پایا کہ وائرل دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل پوسٹ میں دو ویڈیو کو آپس میں مرج کیا گیا ہے اور دونوں ہی مختلق مقامات کی ہیں۔ پہلی ویڈیو جس میں ہزاروں بائکرس آتے ہوئے ہوئے نظر آرہے ہیں وہ برازیل کی بائک ریلی کی ویڈیو ہے۔

  • Claim Review : شمالی جرمنی میں چھ سالہ کینسر کے مریض ایک بچے کی آخری خواہش کہ اسکے گھر کے سامنے موٹر بائیکس چلتی ہوئ نظر آئیں، گھر والوں نے کوئ 20 بائیکس کیلیۓ اشتہار دیا اور نتیجتاً بیس ہزار موٹر سائیکل سوار حاضر ہوۓ۔
  • Claimed By : Malik Irfan Awan Malik
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں
مزید پڑھ

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later