فیکٹ چیک: پاکستان میں سگے بھائی- بہن کی آپس میں شادی کا دعوی فرضی
وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ جوڑے کی یہ وائرل تصویر امریکی شہر ٹیکساس میں منعقدہ شادی کی ہے۔ پاکستانی نژاد اس شادی میں جوڑے کے بھائی بہن ہونے کا دعویٰ جھوٹا اور پروپیگنڈا ہے۔ اس کے علاوہ جس پاکستانی نیوز ویب سائٹ اے آر وائی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر پھیلائی جا رہی ہے انہوں نے بھی کبھی اس سے متعلق کوئی پوسٹ شیئر نہیں کی۔
- By: Umam Noor
- Published: Jan 24, 2025 at 05:45 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ ایک شادی شدہ جوڑے کی تصویر مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ پاکستان کے شہر کراچی میں ایک بھائی نے اپنی ہی بہن سے شادی کر لی ہے۔ پاکستان کے نیوز چینل اے آر وائی کا حوالہ دیتے ہوئے اس پوسٹ کو سچ کہا جا رہا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ جوڑے کی یہ وائرل تصویر امریکی شہر ٹیکساس میں منعقدہ شادی کی ہے۔ پاکستانی نژاد اس شادی میں جوڑے کے بھائی بہن ہونے کا دعویٰ جھوٹا اور پروپیگنڈا ہے۔ اس کے علاوہ جس پاکستانی نیوز ویب سائٹ اے آر وائی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر پھیلائی جا رہی ہے انہوں نے بھی کبھی اس سے متعلق کوئی پوسٹ شیئر نہیں کی۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف ‘دیپک سی جری والا’ نے وائرل پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا، “پاکستان کے شہر کراچی میں ایک بھائی نے اپنی ہی بہن سے شادی کر کے سب کو حیران کر دیا، یہ کہتے ہوئے کہ ہماری کمیونٹی میں سب کچھ جائز ہے۔ اے آر وائی‘‘۔
پوسٹ کا آرکائیو لنک یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے، سب سے پہلے ہم نے پاکستان کے نیوز چینل اے آر وائی کی ویب سائٹ اور سوشل میڈیا ہینڈلز پر وائرل پوسٹ کو تلاش کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں ایسی کوئی پوسٹ یا خبر نہیں ملی۔
تحقیقات کو مزید آگے بڑھاتے ہوئے، ہم نے وائرل تصویر کو گوگل لینس کے ذریعے تلاش کیا۔ سرچ کرنے پر ہمیں برائیڈ آف نارتھ ٹیکساس نامی ویب سائٹ پر وائرل تصویر اور اس سے متعلق ایک آرٹیکل ملا۔ یہاں روایتی پاکستانی مسلم شادی کی تفصیل دی گئی ہے۔
اس مضمون میں دی گئی معلومات کے مطابق پاکستانی مسلمان کی یہ تقریب ٹیکساس میں ہوئی۔ اس جوڑے کے نام لیلیٰ اور علی ہیں اور دونوں کی ملاقات باہمی دوستوں کے ذریعے ہوئی تھی۔ اس آرٹیکل میں استعمال ہونے والی شادی کی تصاویر میں ‘تارا آرسیون فوٹوگرافی’ نام کا حوالہ لکھا ہوا نظر آیا۔
تارا آرسیون فوٹوگرافی کی گوگل سرچ پر ہمیں اسی نام کا فیس بک پیج اور انسٹاگرام ہینڈل ملا۔ جوڑے کی تصاویر 27 مارچ 2021 کو فیس بک پیج پر پوسٹ کی گئیں۔
اسی دوران انسٹاگرام پر اس جوڑے سے متعلق تین پوسٹس ملیں۔ اس کے ساتھ تارا آرسیون کے بلاگ پر اس شادی سے متعلق ایک مضمون بھی ملا۔ اس مضمون میں دولہا اور دلہن دونوں کے خاندانوں کو بھی دیکھا جا سکتا ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیے گئے دعوے کی تصدیق کے لیے، ہم نے ای میل کے ذریعے تارا آرسیون سے رابطہ کیا اور اس کے ساتھ وائرل پوسٹ شیئر کی۔ اس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ یہ دونوں بھائی بہن نہیں ہیں۔ یہ دعویٰ سراسر غلط ہے۔
تصدیق کے لیے ہم نے پاکستان کے نیوز چینل اے آر وائی کے تفتیشی سیل کے سربراہ ندیم اشرف بھٹ سے بھی رابطہ کیا اور ان کے ساتھ وائرل پوسٹ شیئر کی۔ اس نے ہمیں بتایا، “اے آر وائی نے ایسی کوئی بکواس پوسٹ یا خبر نہیں چلائی۔ یہ بالکل فرضی ہے‘‘۔
فرضی پوسٹ شیئر کرنے والے فیس بک صارف ‘دیپک سی جری والا’ کی سوشل اسکیننگ کے دوران ہمیں معلوم ہوا کہ اس پروفائل سے کسی خاص نظریے سے متعلق پوسٹس شیئر کی جاتی ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ جوڑے کی یہ وائرل تصویر امریکی شہر ٹیکساس میں منعقدہ شادی کی ہے۔ پاکستانی نژاد اس شادی میں جوڑے کے بھائی بہن ہونے کا دعویٰ جھوٹا اور پروپیگنڈا ہے۔ اس کے علاوہ جس پاکستانی نیوز ویب سائٹ اے آر وائی کا حوالہ دیتے ہوئے یہ خبر پھیلائی جا رہی ہے انہوں نے بھی کبھی اس سے متعلق کوئی پوسٹ شیئر نہیں کی۔
- Claim Review : کراچی میں ایک بھائی نے اپنی ہی بہن سے شادی کر لی ہے۔
- Claimed By : FB User- Deepak C. Jariwala
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











