X

فیکٹ چیک: جھوٹے دعوی کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے آگ کی تصویر

  • By Vishvas News
  • Updated: March 8, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے جس میں ایک بلڈنگ میں آگ کو دیکھا جا سکتا ہے۔ اس تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک مسجد میں لگی آگ کی تصویر ہے۔

وشواس نیوز کی جانچ میں دعوی غلط نکلا۔ یہ تصویر کسی مسجد کی آگ کی نہیں، 2مارچ 2016 کو اسٹیفورڈ میں ایک انڈسٹریئل اسٹیٹ میں ایک کمیکل فیکٹری میں لگی آگ کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

اس پوسٹ کو اجے یادو نام کے ایک صارف نے ’مودی ہے تو ممکن ہے‘ نام کے پیج پر شیئر کیا تھا۔ اس تصویر کے ساتھ لکھا تھا، ’مسجد میں دی جا رہی بم بنانے کی ٹرینگ، دھماکہ میں 30 دہشت گردوں کی موت‘‘۔

اس پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھ سکتے ہیں۔

پڑتال

ہم نے اس تصویر کو گوگل رورس امیج ٹول کا استعمال کرتے ہوئے تلاش کیا۔ ہمیں یہ تصویر گیٹی امیجز ڈاٹ این اور آئی ایم ڈاٹ کام پر ملی۔ دونوں ہی جگہ اس تصویر کو کھینچنے والے فوٹوگرافر کا نام ریچرڈ سلیپر بتایا گیا تھا۔

کی ورڈ کے ساتھ تلاش پر ہمیں یہ تصویر ریچرڈ سلیپر کے فیس بک اکاؤنٹ پر بھی 2 مارچ 2016 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس تصویر کے ساتھ بتایا گیا کہ یہ تصویر اسیٹفورڈ میں لگی آگ کی ہے۔

ہم نے اس کے بعد کی ورڈ اور ٹائم ٹول کی مدد سے سرچ کیا۔ ہمیں دا گارجیئن ڈاٹ کی ایک خبر میں ایک آگ کے بارے میں پوری جانکاری ملی۔ خبر کے مطابق معاملہ تب کا ہے جب اسٹیفورڈ میں ایک کیمیکل فیکٹری میں آگ لگ گئی تھی۔

اس موضوع میں زیادہ معلومات کے لئئے ہم نے ریچرڈ سلیپر سے فیس بک میسجنر کے ذریعہ رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا، ’یہ تصویر پرانی ہے۔ یہ ایک کمیکل فیکٹری میں لگی آگ کی تصویر ہے‘‘۔

وشواس نیوز نے اس وائرل دعوی کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج مودی ہے تو ممکن ہے کے پروفائل کو اسکین کیا۔ ہم نے پایا کہ پیج کے 312.2 ہزار فالوورس ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعوی غلط نکلا۔ یہ تصویر کسی مسجد کی آگ کی نہیں بلکہ 2مارچ 2016 کو اسٹیفورڈ میں ایک انڈسٹریئل اسٹیٹ میں ایک کمیکل فیکٹری میں لگی آگ کی ہے۔

  • Claim Review : دعوی کیا جا رہا ہے کہ یہ ایک مسجد میں لگی آگ کی تصویر ہے۔
  • Claimed By : مودی ہے تو ممکن ہے
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later