X
X

فیکٹ چیک: بنگلہ دیش کے پرانے ویڈیو کو کیا جا رہا تراویح کے دوران مولویوں کی لڑائی کا بتاتے ہوئے وائرل

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ مسجد میں دو گرپوں کے درمیان ہوئی جھڑپ کا یہ ویڈیو ستمبر 2024 کا بنگلہ دیش کے ڈھاکہ کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو رمضان میں گمراہ کن حوالے سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Mar 10, 2025 at 01:51 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ ماہ رمضان شروع ہونے کے بعد سے سوشل میڈیا پر متعدد پرانے اور دیگر معاملہ سے متعلق ویڈیو اور تصاویر گمراہ کن حوالے سے وائرل ہو رہی ہیں۔ اسی کڑی میں ایک ویڈیو وائرل ہے۔ وائرل ویڈیو میں ایک مسجد کے اندر نمازیوں کو آپس میں لڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ لوگ ایک دوسرے پر چپل، چوتے اور سامان پھینکتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ اب اس ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کہ مسجد میں ہوئی لڑائی کا یہ ویڈیو رمضان میں پڑھی جانے والی تراویح کے دوران کا ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ مسجد میں دو گرپوں کے درمیان ہوئی جھڑپ کا یہ ویڈیو ستمبر 2024 کا بنگلہ دیش کے ڈھاکہ کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو رمضان میں گمراہ کن حوالے سے پھیلایا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ماہ رمضان میں تراویح افطار پر مولویوں کا زبردست مقابلہ یہ جاہل لوگوں کو دین سکھائیں گے ۔ افسوس‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ویون نیوز کے ویری فائڈ یوٹیوب چینل پر اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کو 21 ستمبر 2024 کو اپلوڈ کیا ہے۔ وہیں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ ویڈیو بنگلہ دیش کی دار الحکومت ڈھاکہ کا ہے۔

اپنی پڑتال کو ہم نے آگے بڑھایا اور اسی معاملہ سے متعلق نیوز سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں 20 ستمبر 2024 کو ڈھاکہ ٹربیون کی ویب سائٹ پر خبر ملی۔ خبر میں بتایا گیا کہ ڈھاکہ کی بیت المکرم قومی مسجد میں جمعہ (20 ستمبر) کو نماز جمعہ سے پہلے دو گروپوں کے درمیان تصادم ہو گیا اور اس میں 50 افراد زخمی ہو گئے ہیں۔ وہیں دی گئی تفصیلی معلومات کے مطابق، یہ تصادم بیت المکرم کی مسجد کے موجودہ اور سابق اماموں (خطیبوں) کے حامیوں کے درمیان ہوا تھا۔ وہاں موجود لوگوں نے بتایا کہ نماز سے قبل مسجد کے موجودہ امام (کتاب) مفتی ولی الرحمان خان اصول کے مطابق تقریر کر رہے تھے۔ اسی وقت پرانے امام (خطیب) مفتی روح الامین (جو روپوش تھے) اپنے حامیوں کے ساتھ مسجد میں داخل ہوئے اور مائیک لینے کی کوشش کی۔ اس کے بعد دونوں طرف کے حامیوں کے درمیان ہاتھا پائی شروع ہو گئی۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

بنگلہ دیشی نیوز ویب سائٹ ڈیلی سن کی 21 ستمبر 2024 کی خبر کے مطابق، یہ معاملہ جمعہ کی نماز کے دوران پیش آیا۔ اس میں بیت المکرم قومی مسجد کے موجودہ اور سابق خطیبوں کے حامیوں کے بیچ تصادم ہوا تھا۔

مذکورہ معاملہ سے متعلق خبریں ہمیں دیگر ویب سائٹ پر بھی شائع ہوئی ملی۔ ان خبروں کو یہاں، یہاں اور یہاں پڑھا جا سکتی ہے۔

یہ ویڈیو اس سے قبل بھی ایک دیگر فرضی دعوی کے ساتھ سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے اور اس وقت فیکٹ چیک کے دوران ہم نے تصدیق کے لئے بنگلہ دیشی صحافی صادق الرحمان سے رابطہ کیا تھا۔ انہوں نے بتایا تھا کہ یہ ڈھاکہ کی پرانی ویڈیو ہے جب دو اماموں اور ان کے حامیوں کے درمیان جھڑپ ہوئی تھی۔

اب باری تھی گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو دو لاکھ سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ مسجد میں دو گرپوں کے درمیان ہوئی جھڑپ کا یہ ویڈیو ستمبر 2024 کا بنگلہ دیش کے ڈھاکہ کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو رمضان میں گمراہ کن حوالے سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : مسجد میں ہوئی لڑائی کا یہ ویڈیو رمضان میں پڑھی جانے والی تراویح کے بعد کا ہے۔
  • Claimed By : FB User- Malik Malikmoor
  • Fact Check : گمراہ کن

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later