فیکٹ چیک: نماز کے دوران امام پر حملے کا یہ ویڈیو ترکیہ کا پرانا معاملہ ہے، رمضان کے دوران ویڈیو گمراہ کن حوالے سے وائرل
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2024 کا ستمبر کے مہینہ کا ہے۔ ترکیہ کے مانیسا شہر کی ایک مسجد میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔ حالاںکہ وہاں کی پولیس نے اس معاملہ میں پایا کہ امام پر اسٹول سے حملہ کرنے والے شخص کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور اسے منٹل ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Mar 11, 2025 at 05:28 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا کے مختلف پلیٹ فارمز پر ایک مسجد کے اندر کا ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل کئے جا رہے اس ویڈیو میں کچھ لوگ امام کے پیچھے نماز پڑھتے ہوئے دیکھے جا سکتے ہیں۔ وہیں، ایک شخص امام کو اسٹول سے بار بار مارتا ہوا نظر آرہا ہے۔ لیکن جیسے ہی نمازی سلام پھیرتے ہیں تو اس شخص کو وہاں رکھی ہوئی چیزوں سے پیٹنے لگتے ہیں ایسا ہوتے ہی وہ شخص وہاں سے بھاگ جاتا ہے۔ ویڈیو کو رمضان کے دوران شیئر کرتے ہوئے ترکیہ کا حالیہ معاملہ بتایا جا رہا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2024 کا ستمبر کے مہینہ کا ہے۔ ترکیہ کے مانیسا شہر کی ایک مسجد میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔ حالاںکہ وہاں کی پولیس نے اس معاملہ میں پایا کہ امام پر اسٹول سے حملہ کرنے والے شخص کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور اسے منٹل ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو 5 مارچ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا،’‘ترکیہ ترکی کی ایک مسجد میں ایک شخص امام صاحب کو دوران امامت کرسی سے مارنے لگا اور نماز میں خلل ڈال رہا تھا، پھر نمازیوں نے بھی اسکے ساتھ وہی سلوک کیا‘‘۔
پوسٹ کے آکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں اس معاملہ سے متعلق خبر متعدد نیوز ویب سائٹ اور ان کے سوشل میڈیا ہینڈل پر اپلوڈ کی ہوئی ملی۔ ترکیہ کے ایک نیوز ویب سائٹ کے ویری فائڈ یوٹیوب چینل نے اس ویڈیو کو 28 ستمبر 2024 کو اپلوڈ کیا ہے۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ معاملہ ترکیہ کی ایک مسجد میں نماز کے دوران پیش آیا تھا۔
اس معاملہ سے متعلق خبر ہمیں ترکیہ کی نیوز ویب سائٹ ’ہاربلر ڈاٹ کام‘ پر بھی شائع ہوئی ملی۔ 28 ستمبر 2024 کی خبر کے مطابق، یہ معاملہ مانیسا کے ضلع آلاشہر میں اس وقت پیش آیا جب نماز پڑھا رہے امام کو ایک شخص اسٹول سے مارنے لگا۔

اے اے ڈاٹ کام ڈاٹ ٹی آر پر 29 ستمبر 2024 کو اپلوڈ ہوئی ملی۔ یہاں خبر میں دی گئی تفصیلی معلومات کے مطابق، مانیسا کے الاشہر کی توکوزادے مسجد کے امام این وائی کو مغرب کی نماز پڑھاتے ہوئے ایم کے (35) نے اسٹول سے حملہ کیا۔ امام کے سر پر وار کرنے کے بعد معاملے کو روکنے کی کوشش کی گئی، اور پولیس کو اطلاع دی گئی۔ پولیس نے ایم کے کو گرفتار کر لیا۔ پولیس کے مطابق، امام پر حملہ کرنے والا شخص ذہنی طور پر غیر مستحکم ہے۔ اسے تھانے میں کارروائی کے بعد مانیسا میں واقع دماغی صحت اور امراض کے ہسپتال منتقل کر دیا گیا۔ واقعے کے گواہ محمد ثاقر نے بتایا کہ ایم کے پہلے سے ہی علاج کروا رہا تھا اور اس کا رویہ غیر معمولی تھا۔
ترکیہ کی نیوز ویب سائٹ ’ترکیہ گیزٹسی’ پر اس معاملہ سے متعلق خبر 27 سمتبر 2024 کو شائع ہوئی ملی۔ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ معاملہ نماز کے وقت پیش آیا تھا حالاںکہ امام پر حملہ کرنے والے شخص کی ذہنی حالت درست نہیں تھی۔ اس معاملہ سے متعلق خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔
وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے ترکیہ کی صحافی ارکن انکان سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ، یہ ویڈیو ترکیہ کے مانیسا شہر کا ایک پرانا معاملہ ہے۔
اب باری تھی گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو پانچ ہزار لوگ ایف بی پر فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2024 کا ستمبر کے مہینہ کا ہے۔ ترکیہ کے مانیسا شہر کی ایک مسجد میں یہ معاملہ سامنے آیا تھا۔ حالاںکہ وہاں کی پولیس نے اس معاملہ میں پایا کہ امام پر اسٹول سے حملہ کرنے والے شخص کی ذہنی حالت درست نہیں تھی اور اسے منٹل ہسپتال بھیج دیا گیا ہے۔
- Claim Review : ترکیہ میں نماز کے دوران امام پر رمضان میں حملہ ہوا ہے۔
- Claimed By : FB User- Amir Khan
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











