فیکٹ چیک: بنگلہ دیش میں توڑے گئے رکشے کو بھارت کا بتاتے ہوئے کیا جا رہا وائرل
وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل ہونے والا ویڈیو بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کا ہے۔ بنگلہ دیش کا ایک ویڈیو اس گمراہ کن دعوے کے ساتھ گردش کیا جا رہا ہے کہ یہ بھارت کا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: May 16, 2025 at 06:25 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہی ہے، جس میں بلڈوزر کو رکشے کو توڑتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ساتھ ہی ویڈیو میں رکشہ ڈرائیور روتے ہوئے اپنے رکشے کو بچانے کی کوشش کرتے ہوئے اور آس پاس کے لوگوں سے مدد مانگتا نظر آرہا ہے۔ ویڈیو کو ہندوستان کا بتا کر شیئر کیا جا رہا ہے جس میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ دہلی میونسپل کارپوریشن نے اس رکشہ کو گرایا۔
وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل ہونے والا ویڈیو بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کا ہے۔ بنگلہ دیش کے اس ویڈیو کو گمراہ کن دعوے کے ساتھ گردش کیا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
ایک فیس بک صارف نے 14 مئی کو وائرل پوسٹ شیئر کرتے ہوئے لکھا، “نگر نگم پی ڈبلو ڈی کے لوگوں نے ایک غریب آدمی کا رکشہ توڑ دیا… اس بھائی کا کیا قصور تھا؟ mcd #mcddelhi”
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی تحقیقات شروع کرتے ہوئے، سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کے کی فریم نکالے اور انہیں گوگل لینز سے سرچ کیا۔ تلاش کرنے پر ہمیں یہ ویڈیو یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ شدہ پایا۔ 14 مئی کو اپ لوڈ کی گئی اس ویڈیو میں ہم نے بنگلہ دیشی نیوز ویب سائٹ ڈھاکہ ٹریبیون کا لوگو دیکھا۔
اس بنیاد پر، ہم نے اپنی تحقیقات کو آگے بڑھایا اور ڈھاکہ ٹریبیون کے یوٹیوب چینل تک پہنچ گئے۔ ہمیں یہ ویڈیو 14 مئی 2025 کو اپ لوڈ کی ہوئی ملی۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دیے گئے کیپشن کے مطابق، “میونسپل کارپوریشن نے بیٹری سے چلنے والے آٹورکشا کو اس وقت کچل دیا جب وہ مین روڈ میں داخل ہوا‘‘۔
ہمیں 13 مئی 2025 کو ڈھاکہ ٹریبیون کے فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی گئی وائرل ویڈیو کا ایک طویل ورژن ملا۔ ویڈیو کے ساتھ تفصیل یہ ہے: “غیر قانونی آٹو رکشا ہٹانے کی مہم کے دوران، ڈرائیور زمین پر گر گیا‘‘۔
اس معاملے سے متعلق خبر بنگلہ دیش کی نیوز ویب سائٹ اتیفاق ڈاٹ کام پر ملی۔ 14 مئی 2025 کی اس خبر کے مطابق، ‘ڈھاکا نارتھ سٹی کارپوریشن (ڈی این سی سی) نے مرکزی سڑک پر گاڑی چلانے کی سزا کے طور پر تین ڈرائیوروں کے آٹورکشوں کو منہدم کر دیا ہے۔ یہ واقعہ سوشل میڈیا پر وائرل ہوگیا۔ دریں اثنا، ڈھاکہ نارتھ سٹی کارپوریشن کے منتظم محمد اعجاز نے تین آٹو رکشہ ڈرائیوروں کے لیے معاوضے کا اعلان کیا ہے‘۔
اسی واقعے سے متعلق ایک اور ویڈیو بنگلہ دیشی نیوز ویب سائٹ پرتھم الو کے یوٹیوب چینل پر دیکھی جا سکتی ہے۔ 13 مئی 2025 کو اپ لوڈ کی گئی ایک ویڈیو میں کہا گیا، ’’ڈھاکہ میں بیٹری سے چلنے والے کئی آٹو رکشے ضبط کیے گئے ہیں‘‘۔
وائرل پوسٹ کی تصدیق کے لیے ہم نے بنگلہ دیشی صحافی صادق الرحمان سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ وائرل پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ ’’یہ معاملہ حال ہی میں ڈھاکہ میں سامنے آیا تھا، لیکن اب انتظامیہ نے بھی معاوضہ دینے کی بات کی ہے‘‘۔
اب جعلی پوسٹ شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی باری تھی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو 10 ہزار سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل ہونے والا ویڈیو بنگلہ دیش کی راجدھانی ڈھاکہ کا ہے۔ بنگلہ دیش کے اس ویڈیو کو گمراہ کن دعوے کے ساتھ گردش کیا جا رہا ہے۔
- Claim Review : دہلی میونسپل کارپوریشن نے اس رکشہ کو گرایا
- Claimed By : FB User- Khurram Siddiqui Iyc
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











