X

فیکٹ چیک: سعودی عرب کے نام پر وائرل ہو رہی سری لنکا کی تصاویر

  • By Vishvas News
  • Updated: April 28, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سعودی عرب میں دہشت گردی کے الزام میں 37 لوگوں کا سر قلم کر دئے جانے کے بعد دو تصاویر وائرل ہو رہی ہیں۔ ان کے بارے میں کہا جا رہا ہے کہ یہ تصاویر مارے گئے لوگوں کے جنازے کی ہیں۔ وشواس ٹیم کی پڑتال میں پتہ چلا کہ وائرل تصاویر سعودی عرب کی نہیں، بلکہ سری لنکا کی ہیں۔ پہلی تصویر، 2019 میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کی ہے۔ جبکہ دوسری تصویر 2006 میں سری لنکا میں ہوئے بم دھماکہ کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر’ٹو دا اونر آف بی بی فاطمہ‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) نام کے پیج نے سری لنکا کی تصاویر کو سعودی عرب کے نام پر پوسٹ کیا۔ اسے 25 اپریل کو صبح کے وقت 6 بج کر 38 منٹ پر اپ لوڈ کیا گیا تھا۔ اس پوسٹ کو اب تک 161 سے زیادہ لوگ شیئر کر چکے ہیں۔ کمینٹ کرنے والوں کی تعداد 180 ہے۔
To the honour of Bibi Fatima s.a.

اس پیج کو 44 ہزار سے زیادہ لوگ فالو کرتے ہیں۔ یہ پیج 17 اگست 2015 کو بنایا گیا۔ اور یہ پاکستان کا پیج ہے۔

پڑتال

وشواس ٹیم نے سعودی عرب کے نام سے وائرل ہو رہی پوسٹ کی پڑتال کی۔ اس کے لئے ہم نے وائرل پوسٹ کی دونوں تصاویر کو الگ الگ کراپ کرکے سرچ کیا۔ سب سے پہلے بات کرتے ہیں پوسٹ میں نظر آرہی اوپر والی تصویر کی۔ اس تصویر کو ہم نے گوگل رورس امیج میں سرچ کیا تو ہمیں تمام خبروں اور سوشل میڈیا پوسٹ میں یہ تصویر سری لنکا کے نام پر ملی۔

اپنی تفتیش کو آگے بڑھاتے ہوئے ہمیں ایک ویب سائٹ ملی ’سب سی نیوز ڈاٹ کام‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں)۔ اسی ویب سائٹ پر 23 اپریل 2019 کو پوسٹ کی گئی ایک خبر میں بھی اسی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے لکھا گیا کہ سری لنکا میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ میں مارے گئے لوگوں کے جنازے کی تصویر ہے۔
www.sabcnews.com

اس کے بعد ہم نے ’ینڈیکس‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی مدد سے نیچے والی تصویر کی حقیقت نکالی۔ جب ہم نے اس تصویر کو ینڈیکس میں سرچ کیا تو ہمیں ’گیٹی امیجز‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) میں یہ تصویر دکھی۔ اصل تصویر کے کیپشن کے مطابق وائرل تصویر 2019 کی نہیں، بلکہ 2006 میں سری لنکا میں ہوئے بم دھماکہ کی ہے۔ اس وقت 61 لوگ مارے گئے تھے۔ تصویر انہیں لوگوں کی تدفین کے وقت کی ہے۔
Yandex , gettyimages

اختتامیہ: وشواس ٹیم کی جانچ میں پتہ چلا کہ سعودی عرب کے نام پر جو تصویر وائرل ہو رہی ہے، وہ فرضی ہے۔ وائرل تصویر میں سے ایک تصویر سری لنکا میں 2019 میں ہوئے دہشت گردانہ حملہ کی ہے تو دوسری تصویر 2006 میں سری لنکا بم دھماکہ کی ہے۔

مکمل سچ کی معلومات حاصل کریں ۔۔۔

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 –) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

  • Claim Review : سعودی عرب کے نام پر وائرل ہو رہی سری لنکا کی تصاویر
  • Claimed By : To the honour of Bibi Fatima s.a.
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later