X
X

فیکٹ چیک: اسرائیل اور فلسطین کے حوالے سے وائرل ہو رہا ویڈیو سال 2012 کا شام کا ہے

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا یہ ویڈیو شام کا ہے۔ سال 2012 کے شام کے اس ویڈیو کو اسرائیل- فلسطین کے درمیان جاری تنازعہ سے جوڑ کر وائرل کیا جا رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Oct 9, 2025 at 02:18 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں بہت سے لوگوں کی بھیڑ کو ایک جنازہ اٹھاتے اور اس کے ساتھ چلتےہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ تبھی اس میں دھماکہ ہو جاتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو اسرائیل کا ہے جہاں ایک فلطسینی کی لاش کو فلطیسن میں بھیجا گیا اور اس میں دھماکہ ہو گیا۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا یہ ویڈیو شام کا ہے۔ سال 2012 کے شام کے اس ویڈیو کو اسرائیل- فلسطین کے درمیان جاری تنازعہ سے جوڑ کر وائرل کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’اسرائیل نے ایک فلسطینی شہید کی لاش کو تدفین کے لیے فلسطینی عوام کے حوالے کر دیا۔ لاش کے جسم میں بم رکھ دیا گیا تھا، اور اسے لے جانے والے لوگوں کے ہجوم میں پھٹ گیا۔ دنیا کی تاریخ میں ایسا ظلم آج تک کسی نے نہیں دیکھا۔ یہ اسرائیل کی دہشت گردی ہے، خدا یہ دامن … براہ کرم اسے وائرل کریں تاکہ اسرائیل کے مظالم کا پوری دنیا کو علم ہو‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل ویڈیو کے کی فریمس کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یکم جولائی 2012 کو الجزیرہ کی ویب سائٹ پر یہ ویڈیو اس متعلق خبر ملی۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’ شام کے زملکا میں ایک جنازے پر ہونے والے دھماکے میں تقریباً 80 افراد جاں بحق اور سیکڑوں زخمی ہوئے۔ کارکنوں کا کہنا ہے کہ دھماکہ فوجی ہیلی کاپٹر کی بمباری کے باعث ہوا۔ درعا کے قریب لجات کے علاقے میں بھی رات کے وقت شدید گولہ باری کی گئی۔ رپورٹ میں بتایا گیا کہ ہلاک ہونے والوں میں بچے، خواتین، ایک پولیس اہلکار، منحرف فوجی اور تشدد کے دوران جان سے جانے والا ایک شخص بھی شامل ہے۔۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا ہمیں این بی سی نیوز ویب سائٹ پر بھی یہ ویڈیو اپلوڈ کیا ہوا ملا۔ 1 جولائی 2012 میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’’یہ ویڈیو شام کے دمشق کے جنازہ میں ہوئے دھماکہ کے دوران کا ہے‘‘۔

اب باری تھی وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کرنے کی۔ تصدیق کے لئے ہم نے اسرائیل کے صحافی اوریا بار میر سے رابطہ کیا، انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ویڈیو اسرائیل یا فلسطین کا نہیں ہے۔

وائرل ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق بہار سے ہے۔ وہیں صارف کو پانچ ہزار سے زیادہ لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا یہ ویڈیو شام کا ہے۔ سال 2012 کے شام کے اس ویڈیو کو اسرائیل- فلسطین کے درمیان جاری تنازعہ سے جوڑ کر وائرل کیا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : یہ ویڈیو اسرائیل کا ہے جہاں ایک فلطسینی کی لاش کو فلطیسن میں بھیجا گیا اور اس میں دھماکہ ہو گیا۔
  • Claimed By : FB User- Shadab Raza
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later