فیکٹ چیک: اسرائیلی پی ایم نیتن یاہو پر حملے کے دعوی سے وائرل ہو رہا ویڈیو بلغاریہ کا ہے
وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو کا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جنوری 2013 کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب بلغاریہ کے ایک سیاست دان پر حملہ ہوا تھا۔ دس سال سے زیادہ پرانی یہ ویڈیو جعلی دعووں کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Dec 4, 2024 at 04:02 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ اسرائیل اور غزہ کے درمیان طویل عرصے سے جاری تنازع کے دوران ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل ویڈیو میں دو ویڈیوز کو آپس میں جوڑ دیا گیا ہے، پہلی ویڈیو ایک سیکنڈ سے بھی کم وقت کی ہے، جس میں اسرائیلی وزیراعظم بنجمن نیتن یاہو کو ایک اسٹیج پر دیکھا جا سکتا ہے، جب کہ دوسری ویڈیو کے فریم میں ایک نوجوان اسٹیج پر کھڑے شخص پر حملہ کر رہا ہے۔ جیسے ہی اس شخص پر حملہ ہوتا ہے، وہاں موجود سیکیورٹی اہلکار نوجوان کو پکڑ کر زمین پر گرا دیتے ہیں۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ بنجمن نیتن یاہو پر حملے کی ویڈیو ہے۔ اور یہ حملہ حال ہی میں ہوا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو کا اسرائیلی وزیر اعظم بنجمن نیتن یاہو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جنوری 2013 کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب بلغاریہ کے ایک سیاست دان پر حملہ ہوا تھا۔ دس سال سے زیادہ پرانی یہ ویڈیو جعلی دعووں کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیا ہے؟
وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے فیس بک صارف نے لکھا، ’’اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو پر اسرائیلی پارلیمنٹ میں ارکان پارلیمنٹ نے حملہ کیا اور انہیں مارا پیٹا آئی بی آئی نیوز سب کو مبارک ہو‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی تحقیقات شروع کرتے ہوئے، سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کے کی فریم نکالے اور انہیں گوگل لینز کے ذریعے تلاش کیا۔ سرچ کے دوران، ہمیں یہ ویڈیو جنوری 2013 میں آن ڈیمانڈ نیوز کے تصدیق شدہ یوٹیوب چینل پر اپ لوڈ کی ہوئی ملی۔ ویڈیو میں بتایا گیا کہ ایک شخص نے بلغاریہ کی نسلی ترک پارٹی (موومنٹ فار رائٹس اینڈ فریڈمز) کے رہنما احمد ڈوگن پر حملے کرنے کی کوشش کی، جس کے بعد اسے سیکیورٹی گارڈز نے تیزی سے پکڑ لیا۔
اس بنیاد پر تلاش کرنے کے بعد ہمیں 19 جنوری 2013 کو اے بی سی نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہونے والی خبر میں اس ویڈیو کا فریم ملا۔ یہاں دی گئی خبر کے مطابق، آج ایک پارٹی میٹنگ میں ٹیلی ویژن پر تقریر کے دوران، ایک بندوق بردار نے سٹیج پر چڑھ کر بلغاریہ کے ایک سیاست دان کی طرف گیس پستول سے حملہ کرنے کی کوشش کی۔ موومنٹ فار رائٹس اینڈ فریڈم پارٹی کے ریٹائرڈ رہنما 58 سالہ احمد ڈوگن نے حملہ آور کو گولی چلانے سے پہلے ہی پکڑ لیا۔
سرچ کے دوران، ہمیں یہ وائرل ویڈیو اور اس سے متعلق معلومات دی گارڈین کی ویب سائٹ پر بھی ملی۔ دی گئی معلومات کے مطابق، بلغاریہ میں کچھ ترکوں سمیت مسلم ووٹروں کی حمایت یافتہ جماعت، موومنٹ فار رائٹس اینڈ فریڈمز کے رہنما احمد دوگان پر لائیو ٹیلی ویژن پر حملہ کیا گیا۔ پولیس نے 25 سالہ اوکتائی کو حراست میں لے لیا ہے۔ انیم محمدوف کے پاس کالی مرچ کے اسپرے والی گیس پستول اور دو دیگر “گولیاں” تھیں جن کا مقصد صرف شور مچانا تھا۔

مزید تفتیش میں، ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا وائرل ویڈیو جیسا کوئی حملہ نیتن یاہو پر حال فیلحال ہوا ہے۔ سرچ میں ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملی۔
وائرل پوسٹ کے بارے میں تصدیق حاصل کرنے کے لیے، ہم نے اسرائیلی فیکٹ چیک کرنے والے اوریا بار میر سے رابطہ کیا اور اس کے ساتھ وائرل پوسٹ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں تصدیق کی کہ یہ ویڈیو نیتن یاہو کی نہیں ہے اور نہ ہی حال ہی میں ان پر ایسا کوئی حملہ ہوا ہے۔
اب جعلی پوسٹ شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی باری تھی۔ ہم نے پایا کہ صارف نے اپنے متعلق کوئی معلومات شیئر نہیں کی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ صارف کے ڈھائی ہزار سے زائد فیس بک فرینڈز ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو کا اسرائیلی وزیر اعظم بینجمن نیتن یاہو سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ جنوری 2013 کی یہ ویڈیو اس وقت کی ہے جب بلغاریہ کے ایک سیاست دان پر حملہ ہوا تھا۔ دس سال سے زیادہ پرانی یہ ویڈیو جھوٹے دعووں کے ساتھ پھیلائی جا رہی ہے۔
- Claim Review : یہ بنجمن نیتن یاہو پر حملے کی ویڈیو ہے۔ اور یہ حملہ حال ہی میں ہوا ہے۔
- Claimed By : FB User- Aasif Mansuri
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











