فیکٹ چیک: یمن کے ایئرپورٹ پر ہوئے حالیہ حملے کے حوالے سے وائرل ہو رہا ویڈیو پرانا ہے
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل ویڈیو جولائی 2024 کا یمن کی بندرگاہ پر ہوئے حملہ کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو حالیہ ائیرپورٹ حملے سے جوڑتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Jan 6, 2025 at 02:24 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک جگہ پر موجود کئی عمارتوں میں شدید آگ لگی ہوئی دیکھی جا سکتی ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو یمن کے ایئرپورٹ پر حالیہ روز ہوئے حملہ کا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل ویڈیو جولائی 2024 کا یمن کی بندرگاہ پر ہوئے حملہ کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو حالیہ ائیرپورٹ حملے سے جوڑتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’اسرائیل نے 100 لڑاکا طیاروں سے یمن پر حملہ کردیا، دارالحکومت صنعا کے ایئرپورٹ پر سویلین طیارے بھی تباہ کر دیے گئے۔ صنعا ایئرپورٹ پر اسرائیلی فوج کے حملے کے وقت لوگوں کے بد حواسی میں بھاگنے کی ویڈیو سامنے آگئی، اسرائیلی فضائی حملوں کے بعد خوفزدہ یمنی شہریوں نے صنعاء بین الاقوامی ہوائی اڈے سے نکلنے کی کوشش کی سوشل میڈیا پر شیئر کی گئی ویڈیو جس کی تصدیق الجزیرہ نے بھی کی ہے میں دیکھا جا سکتا ہے کہ فیملیز تیزی سے ہوائی اڈے کو چھوڑ رہے ہیں۔ اسرائیلی فضائی حملوں کے نتیجے میں ایئرپورٹ کی کئی اہم عمارتوں کو نقصان پہنچا ہے، جس میں ایئر ٹریفک کنٹرول ٹاور اور مسافر لاؤنج بھی شامل ہے، حملے کے دوران کم از کم دو افراد جاں بحق اور ایک ہوائی جہاز کے عملے کا رکن زخمی ہوا ہے۔ اسرائیلی حملوں کے وقت عالمی ادارہ صحت کے سربراہ بھی یمن میں موجود تھے‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو 20 جولائی 2024 کو ایک ایکس صارف کی جانب سے شیئر ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق یہ یمن کا ویڈیو ہے۔
اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور گوگل ٹائم ٹول کی مدد سے سرچ کرنا شروع کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو مشرق وسط کو کوور کرنے والے صحافی ہنایا نفتالی کے فیس بک پیج پر بھی اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں بھی ویڈیو کو 20 جولائی 2024 کو اپلوڈ کیا گیا ہے۔

مزید سرچ میں ہمیں فلسطینی نیوز ایجنسی کے فیس بک پیج پر بھی وائرل ویڈیو 20 جولائی 2024 کو اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات میں بتایا گیا کہ ویڈیو یمن کے مغربی علاقے حدیدہ کی بندرگاہ پر ہوئی بمباری کا ہے۔

اس معاملہ سے متعلق خبر ہمیں فرانس 24 کی ویب سائٹ پر بھی شائع ہوئی ملی۔ یہاں 20 جولائی 2024 کی خبر کے مطابق، ’اسرائیلی فوج نے بتایا کہ ہفتے کے روز اسرائیلی لڑاکا طیاروں نے یمن میں حدیدہ بندرگاہ کے علاقے میں حوثی فوجی ٹھکانوں کو نشانہ بنایا۔ ان فضائی حملوں میں کم از کم تین افراد ہلاک اور 80 سے زائد زخمی ہوئے، جن میں سے زیادہ تر شدید جھلس گئے ہیں‘‘۔
وہیں 27 دسمبر 2024 کی الجزیرہ کی خبر کے مطابق، ’اسرائیل کی فوج کا کہنا ہے کہ اس نے یمن میں حوثی باغیوں سے منسلک متعدد اہداف کو نشانہ بنایا، جن میں صنعا بین الاقوامی ہوائی اڈہ اور مغربی ساحل کے ساتھ تین بندرگاہیں شامل ہیں۔ فوج نے بتایا کہ جمعرات کو کیے گئے حملوں میں یمن کے حزیاز اور راس کناتیب پاور اسٹیشنوں کے ساتھ ساتھ حدیدہ، سلف اور راس کناتیب کی بندرگاہوں میں فوجی انفراسٹرکچر کو بھی نشانہ بنایا گیا‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھیں۔
وائرل ویڈیو سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے یمن کے صحافی نبی الاوزاعی سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ وائرل کیا یمن میں
اب باری تھی گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ مذکورہ پیج کو پاکستان سے چلایا جاتا ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی گمراہ کن ہے۔ وائرل ویڈیو جولائی 2024 کا یمن کی بندرگاہ پر ہوئے حملہ کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو حالیہ ائیرپورٹ حملے سے جوڑتے ہوئے شیئر کیا جا رہا ہے۔
- Claim Review : یہ ویڈیو یمن کے ایئرپورٹ پر حالیہ روز ہوئے حملہ کا ہے۔
- Claimed By : FB Page- Aware International
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











