X
X

فیکٹ چیک: سعودی عرب کے صحرا میں بنی لائبریری کے حوالے سے وائرل تصاویر اے آئی سے تیار کی گئی ہیں

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ سعودی عرب کے العلا میں بنی لائبریری کے حوالے سے وائرل ہونے والی چارو تصاویر اصل نہیں ہے، انہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ اے آئی تصاویر کو فرضی طریقہ سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Mar 4, 2025 at 01:33 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر چار تصاویر کا ایک کولاج وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل تصاویر میں ایک لائبریری صحرا میں بنی ہوئی دیکھی جا سکتی تھی۔ وہیں پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ لائبریری سعودی عرب کے قدیمی شہر العلا میں بنی ہوئی ہے۔ اور اس لائبریری میں عربی، فارسی، انگریزی اور اردو کی کتابیں رکھی گئی ہیں۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ سعودی عرب کے العلا میں بنی لائبریری کے حوالے سے وائرل ہونے والی چارو تصاویر اصل نہیں ہے، انہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ اے آئی تصاویر کو فرضی طریقہ سے پھیلایا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک پیج ’دار نیوز‘ نے وائرل پوسٹ شیئر کی اور لکھا، ’’سعودی عرب کے تاریخی ٹاؤن #العلا میں قائم لائبریری، اس لائبریری میں عربی،فارسی انگریزی اور اردو زبانوں میں لکھی گئی کتب رکھی گئی ہیں۔۔‘‘۔

پوسٹ، کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے اس تدصویر کو گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں ’لو ان ریاض‘ نام کے انسٹاگرام ہینڈل پر دو تصاویر اپلوڈ ہوئی ملی۔ یہاں پوسٹ میں دی گئی معلومات کے مطابق، ان فوٹوز کو انسٹاگرام ہینڈل ڈیجیٹل ڑیزائن ڈاٹ لیب نے اے آئی ٹولز کی مدد سے بنایا ہے۔

ہم انسٹاگرام ہینڈل ڈیجیٹل ڑیزائن ڈاٹ لیب پر پہنچے اور ہمیں یہ تصاویر 18 مارچ 2024 کو اپلوڈ کی ہوئی ملیں۔ یہاں بھی تصویر کو اے آئی ٹول مڈجرنی سے بنے ہوئے بتایا گیا ہے۔

حالاںکہ ہم نے وائرل کی جا رہی ان چارو تصاویر کو الگ- الگ کر کے اے آئی ٹول کی شناخت کرنے وائی ویب سائٹس پر چیک کیا۔

پہلی تصویر

پہلی تصویر کو ہم نے اے آئی سے بنے ملٹی میڈیا تجزیہ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے ہائیو ماڈریشن ٹول پر اپ لوڈ کیا۔ ٹول کے مطابق، پہلی تصویر کے اے آئی سے بنے ہونے کے امکان 99.3 فیصد ہے۔

دوسری پوسٹ

دوسری تصویر کو ہم نے ایک دیگر اے آئی ٹول ڈی کاپی پر اپلوڈ کیا، یہاں ملے نتائج کے مطابق، یہ فوٹو 94.62 فیصد اے آئی سے تیار کی گئی ہے۔

تیسری پوسٹ

 سائٹ انجن ڈاٹ کام ٹول پر تیسری تصویر کو اپلوڈ کئے جانے پر ملے نتائج کے مطابق، یہ 99 فیصد اے آئی سے بنی ہے۔

چوتھی پوسٹ

چوتھی تصویر کو ہائیو ماڈریشن پر اپ لوڈ کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ 99.9 فیصد امکان ہے کہ اے آئی سے بنایا گیا ہے۔

سوشل میڈیا پر اکثر اے آئی سے بنی تصاویر وائرل ہو چکی ہیں اور اس بارے میں اے آئی تصاویر بنانے والے ماہر بھارگو ولیرا کا کہنا ہے کہ ان تصاویر کو بنانا بےحد آسان ہوتا ہے۔ کسی بھی اے آئی بنانے والی سے اس طرح کی تصویریوں کو آسانی کے ساتھ بنایا جا سکتا ہے۔

اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج ’دار نیو,‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نےپایا کہ اس پیج کو ایک لاکھ 39 ہزار لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ سعودی عرب کے العلا میں بنی لائبریری کے حوالے سے وائرل ہونے والی چارو تصاویر اصل نہیں ہے، انہیں آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنایا گیا ہے۔ اے آئی تصاویر کو فرضی طریقہ سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : یہ لائبریری سعودی عرب کے قدیمی شہر العلا میں بنی ہوئی ہے۔
  • Claimed By : FB Page- Daar News
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later