فیکٹ چیک: وائرل ویڈو بلوچستان میں ٹرین ہائجیک کے بعد پاکستانی فوج کے آپریشن کا نہیں، دعوی فرضی ہے
وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو کا بلوچستان میں ٹرین ہائی جیکنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو 2012 سے انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ ساتھ ہی رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو 2009 میں افغانستان میں امریکی آپریشن سے متعلق ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Mar 12, 2025 at 05:59 PM
- Updated: Mar 13, 2025 at 12:31 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ پاکستان کے بلوچستان میں ایک ٹرین کو ہائی جیک کرتے ہوئے کئی مسافروں کو یرغمال بنا لیا گیا۔ یہ ہائی جیکنگ بلوچ باغیوں کی جانب سے کی گئی ہے۔ اب تک موصول ہونے والی معلومات کے مطابق کئی لوگ اب بھی ہائی جیکرز کی حراست میں ہیں۔ اب اسی بیچ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں فوجی آپریشان اور دھماکوں کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان ٹرین حملوں میں ملوث بلوچ باغیوں کو چُن چُن کر مارا ہے۔ یہ اسی کا منظر ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو کا بلوچستان میں ٹرین ہائی جیکنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو 2012 سے انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ ساتھ ہی رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو 2009 میں افغانستان میں امریکی آپریشن سے متعلق ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’پاک فوج کی جانب سے بلوچستان ٹرین حملوں میں ملوث بلوچ سرمچاروں کو چُن چُن کو جہنم واصل کرنے کے روح پرور مناظر الحمدﷲ دل میں ٹھنڈک پڑ گئی ہے۔ میرے جسم کے خون کا ایک ایک قطرہ پاک فوج کے جوانوں کا احسان مند ہے جو اپنی جانوں کا نظرانہ دے کر وطن کی حفاظت کرتے ہیں‘‘۔
اس ویڈیو کو ملتے جلتے اسی فرضی دعوی کے ساتھ ایکس صارفین بھی شیئر کر رہے ہیں۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔
پڑتال
خبروں کے مطابق، 11 مارچ کو پاکستان کی جعفر ایکسپریس کو ہائجیک کر لیا گیا۔ یہ ہائجیک بلوچ کے باغیوں نے کیا۔ وہیں اب تک تقریبا بیس لوگوں کی موت ہو چکی ہے وہیں کچھ لوگ ابھی بھی قیدی بنے ہوئے ہیں جن میں پاکستان کی آرمی کے جوان بھی شامل ہیں۔ وہیں یرغمالیوں کی رہائی کے لیے پاکستانی سیکیورٹی فورسز کا ریسکیو آپریشن مسلسل جاری ہے۔ اس معاملہ سے متعلق تفصیلی خبر پاکستان کی نیوز ویب سائٹ ڈان پر پڑھی جا سکتی ہے۔
وائرل ویڈیو سے جڑی اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے ہم نے ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ’میک اے جیف ڈاٹ کام‘ نام کی ایک ویب سائٹ پر اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کو دس سال قبل اپلوڈ کیا گیا ہے۔ وہیں ویڈیو کے ساتھ ہمیں ’طالبان‘ سے جڑا کیپشن ملا۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور وائرل ویڈیو کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں ڈیلی میل ڈاٹ کو ڈاٹ یو کے کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی ایک رپورٹ ملی۔ 23 جون 2017 کی رپورٹ کے مطابق، اولیور اسٹون کے شوٹائم سپیشل “دی پوتن انٹرویوز” میں ولادیمیر پوتن کو ایک موبائل فون کے ذریعے جنگ کی ویڈیوز دکھاتے ہوئے دکھایا گیا ہے۔ پوتن کا کہنا تھا کہ یہ ویڈیوز شام میں روسی آپریشنز کی ہیں، لیکن تحقیقات سے پتہ چلا کہ یہ ویڈیوز دراصل امریکی محکمہ دفاع کی ہیں، جو 2009 یا 2013 میں افغانستان میں طالبان کے خلاف آپریشنز کو دکھا رہی ہیں۔ پینٹاگون نے بھی اس بات کی تصدیق کی کہ یہ ویڈیوز روسی فوجی نہیں ہیں۔
ڈیلی میل کی اس خبر میں ہمیں ’سی ائی ٹی‘ کے ویری فائڈ ایکس ہینڈل سے شیئر کی ہوئی پوسٹ ملی۔ اس میں دی گئی معلومات کے مطابق،پوٹن کے ذریعہ اولیور اسٹون کو دکھائے جانے والے، ’’پوتن کے ذریعہ اولیور اسٹون کو دکھائے جانے والے ’روسی ہیلی کاپٹر کی آئی ایس آئی ایس پر بمباری’ کی فوٹیج 2013 کی امریکی افغان ویڈیو سے لی گئی معلوم ہوتی ہے‘‘۔
مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ایک یوٹیوب چینل پر اپلوڈ کی ہوئی ملی۔ یہاں ویڈیو کو 24 اکتوبر 2013 کو ایک لمبے ورژن کے ساتھ اپلوڈ کیا گیا ہے۔ وہیں ساتھ میں دی گئی معلومات کے مطابق یہ ویڈیو طالبان پر امریکی آپریشن سے منسلک ہے۔ اس ویڈیو سے متعلق معلومات ہمیں ویکی پیڈیا پر بھی ملی جسے یہاں دیکھا جا سکتا ہے۔
وائرل ویڈیو ہمیں ملٹری ڈاٹ کام نام کی ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کو 18 جولائی 2012 کو شائع ہوئی خبر کے ساتھ اپلوڈ کیا گیا ہے۔ وہیں دی گئی معلومات کےمطابق، یہ فوٹیج افغانستان میں 2009 میں ہوئی امریکی آپریشن کے دوران کی ہے۔

وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے پاکستان سے صحافی عادل علی سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ وائرل ویڈیو پاکستان کی نہیں ہے۔
اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک پیج کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پیج کو دو ہزار لوگ فالوو کرتے ہیں۔ وہیں اسے پاکستان سے چلایا جاتا ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ وائرل ویڈیو کا بلوچستان میں ٹرین ہائی جیکنگ سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ویڈیو 2012 سے انٹرنیٹ پر دستیاب ہے۔ ساتھ ہی رپورٹس کے مطابق یہ ویڈیو 2009 میں افغانستان میں امریکی آپریشن سے متعلق ہے۔
- Claim Review : دعوی کر رہے ہیں کہ یہ پاک فوج کی جانب سے بلوچستان ٹرین حملوں میں ملوث بلوچ باغیوں کو چُن چُن کر مارا ہے۔ یہ اسی کا منظر ہے۔
- Claimed By : FB Page- Chawinda TV
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











