فیکٹ چیک: افغانستان کے طالبان مخالف گروپ نے پہلگام حملے کا بدلہ لینے کی بات نہیں کی
وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ افغانستان کے طالبان مخالف گروپ کے نام سے وائرل ہونے والا یہ ویڈیو سال 2022 کا ہے اور اس میں ترمیم کی گئی ہے۔ ویڈیو میں موجود آڈیو کو پہلگام حملے کا بدلہ لینے کے فرضی دعوے کے ساتھ ایڈٹ کر کے وائرل کیا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Jul 7, 2025 at 06:12 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ ماسک پہنے ہوئے کچھ لوگوں کی ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے۔ ویڈیو میں ان لوگوں کو مبینہ طور پر پہلگام کا بدلہ لینے کی بات کرتے ہوئے سنا جا سکتا ہے۔ ویڈیو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعویٰ کر رہے ہیں کہ یہ افغانستان کا طالبان مخالف گروپ لبریشن فرنٹ آف افغانستان ہے جس نے آفیشیئل طور پر پہلگام کا بدلہ لینے کا دھمکی دی ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ افغانستان کے طالبان مخالف گروپ کے نام سے وائرل ہونے والا یہ ویڈیو سال 2022 کا ہے اور اس میں ترمیم کی گئی ہے۔ ویڈیو میں موجود آڈیو کو پہلگام حملے کا بدلہ لینے کے فرضی دعوے کے ساتھ ایڈٹ کر کے وائرل کیا جا رہا ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیا ہے؟
وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے، فیس بک صارف نے لکھا، “لبریشن فرنٹ آف افغانستان نے باضابطہ طور پر خبردار کیا ہے۔ پہلگام کا ابھی تک بدلہ نہیں لیا گیا ہے۔ ہم اس وقت تک نہیں رکیں گے جب تک کہ ہم پاکستان یا کسی اور جگہ آئی ایس آئی کے دہشت گردوں کو تلاش کرکے ختم نہیں کر لیتے‘‘۔
پوسٹ کا آرکائیو ورژن یہاں دیکھیں۔

پڑتال
اپنی تحقیقات شروع کرتے ہوئے، ہم نے سب سے پہلے گوگل لینز کے ذریعے وائرل ویڈیو کے کی فریموں کو تلاش کیا۔ تلاش کرنے پر ہمیں افغانستان انٹرنیشنل نام کے ایک تصدیق شدہ ایکس ہینڈل پر وائرل ویڈیو سے متعلق ایک پوسٹ ملی۔ 4 فروری 2022 کو پوسٹ کی گئی ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، “افغانستان فریڈم فرنٹ کے نام سے ایک طالبان مخالف فوجی محاذ نے اپنی موجودگی کا اعلان کیا ہے۔ ایک ویڈیو میں اس فرنٹ نے کہا کہ صحافیوں، آزاد خواتین اور مظاہرین کو حراست میں لینے کے طالبان کے اقدامات اور خواتین کی حالت ان کی بغاوت کی وجہ ہے’’۔
اس بنیاد پر تلاش کرنے پر ہمیں 4 فروری 2022 کو افغانستان سے چلائے جانے والے فیس بک پیج پر اپ لوڈ کی گئی یہ ویڈیو بھی ملی۔ یہاں دی گئی معلومات کے مطابق، “افغانستان میں طالبان کے خلاف ایک نیا فوجی اتحاد سامنے آیا ہے۔ اس اتحاد نے ایک ویڈیو جاری کرکے اپنے قیام کا اعلان کیا ہے۔ ویڈیو میں طالبان کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں (خاص طور پر خواتین اور صحافیوں) کی مخالفت کی گئی ہے‘‘۔
تحقیقات کو آگے بڑھاتے ہوئے، ہم نے گوگل پر افغانستان لبریشن فرنٹ کو تلاش کیا۔ تلاش میں، ہمیں اس نام کا ایک فیس بک پیج ملا۔ اس کے ساتھ ہی اس پیج پر 4 فروری 2022 کو ایک پوسٹ شیئر کی گئی ہے جس میں لکھا ہے، ‘ہم نوجوانوں کی اکثریت پر مشتمل ایک گروپ ہیں۔ ہمارا تعلق ماضی کی کسی جماعت، سیاست دان یا سیاسی یا عسکری دھڑے سے نہیں ہے۔ ہماری لڑائی افغانستان پر حکمرانی کرنے والی پالیسیوں کے خلاف ہے’۔
ہمیں اس پروفائل پر 4 فروری 2022 کو اپ لوڈ کی گئی اصل ویڈیو بھی ملی۔
وائرل ویڈیو کی تصدیق کے لیے ہم نے بین الاقوامی امور کے ماہر سوربھ شاہی سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ وائرل پوسٹ شیئر کی۔ اس نے ہمیں بتایا کہ یہ لبریشن فرنٹ آف افغانستان کی ایڈیٹ شدہ ویڈیو ہے۔
اب فرضی پوسٹ شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی باری تھی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو 6,500 لوگ فالو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی تحقیقات میں پایا کہ افغانستان کے طالبان مخالف گروپ کے نام سے وائرل ہونے والا یہ ویڈیو سال 2022 کا ہے اور اس میں ترمیم کی گئی ہے۔ ویڈیو میں موجود آڈیو کو پہلگام حملے کا بدلہ لینے کے فرضی دعوے کے ساتھ ایڈٹ کر کے وائرل کیا جا رہا ہے۔
- Claim Review : یہ افغانستان کا طالبان مخالف گروپ لبریشن فرنٹ آف افغانستان ہے جس نے آفیشیئل طور پر پہلگام کا بدلہ لینے کا دھمکی دی۔
- Claimed By : Fb User- Pradeep Kumar Varshney
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











