فیکٹ چیک: ملکارجن کھڑگے نے مسلمانوں کو لے کر نہیں دیا وائرل بیان، فرضی پوسٹ وائرل
پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں وندے ماترم کی 150ویں سالگرہ پر ہونے والی بحث کے دوران، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے 9 دسمبر 2025 کو اپنی بات رکھی۔
- By: Ashish Maharishi
- Published: Dec 15, 2025 at 06:37 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ پارلیمنٹ کے سرمائی اجلاس میں وندے ماترم کی 150ویں سالگرہ پر ہونے والی بحث کے دوران، راجیہ سبھا میں اپوزیشن لیڈر ملکارجن کھڑگے نے 9 دسمبر 2025 کو اپنی بات رکھی۔ اب کھڑگے کے بیان کے نام پر ایک پوسٹ سوشل میڈیا پر وائرل کی جا رہی ہے، جسے سچ سمجھ کر کئی صارفین شیئر کر رہے ہیں۔
وشواس نیوز نے اس کی تفصیلی جانچ کی، جس میں یہ دعویٰ جعلی ثابت ہوا۔ کانگریس کے موجودہ صدر ملکارجن کھڑگے نے مسلمانوں کے حوالے سے ایسا کوئی بیان نہیں دیا، جیسا کہ وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔ یہ ایک جعلی پوسٹ ہے۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
سوشل میڈیا پر ایک فیس بک صارف نے 9 دسمبر کو ایک پوسٹ شیئر کی۔ اس میں ملکارجن کھڑگے کی تصویر کا استعمال کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا:“مرتی ہوئی کانگریس کو بچانا مسلمانوں کا فرضِ اوّل ہے، کیونکہ کانگریس انہی کی فکر میں مر رہی ہے: ملکارجن کھڑگے‘‘۔
وشواس نیوز نے وائرل پوسٹ کے متن کو یہاں جوں کا توں نقل کیا ہے۔ اسے سچ سمجھ کر کئی صارفین نے شیئر کیا۔ وائرل پوسٹ کا آرکائیو ورژن بھی دیکھا جا سکتا ہے۔

پڑتال
وشواس نیوز نے وائرل پوسٹ کی جانچ کے لیے سب سے پہلے کی ورڈ سرچ کے ذریعے گوگل اوپن سرچ ٹول کا استعمال کرتے ہوئے متعلقہ خبروں کو تلاش کیا، مگر ایسی ایک بھی خبر نہیں ملی جو اس دعوے کی تصدیق کرتی ہو کہ ملکارجن کھڑگے نے کبھی ایسا بیان دیا ہو۔
مزید جانچ کے دوران پارلیمنٹ میں ملکارجن کھڑگے کے بیانات کو بھی تلاش کیا گیا۔ ہمیں پارلیمنٹ ٹی وی کے یوٹیوب چینل پر 9 دسمبر کو وندے ماترم پر دیا گیا ان کا مکمل بیان ملا۔ اس میں بھی انہوں نے ایسی کوئی بات نہیں کہی، جیسا کہ وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔
کھڑگے کے نام سے وائرل پوسٹ پر “ہمارا بھارت” لکھا ہوا تھا۔ اس بنیاد پر ہم نے اس نام کے فیس بک پیج کو سرچ کیا۔ ہمیں معلوم ہوا کہ اس پیج پر اسی طرح کے وائرل گرافکس پر مبنی مواد پوسٹ کیا جاتا ہے۔ سرچ کے دوران ہمیں ملکارجن کھڑگے سے متعلق ایک اصل پوسٹ ملی۔ 8 نومبر کی اس پوسٹ میں کھڑگے نے مرکزی حکومت پر حملہ کرتے ہوئے دراندازوں (گھس پیٹھیوں) کے مسئلے کو اٹھایا تھا۔
وائرل اور اصل پوسٹس کو نیچے دیکھا جا سکتا ہے۔

وشواس نیوز نے مزید جانچ کے لیے کانگریس کی سوشل میڈیا ٹیم کے رکن گریش کمار سے رابطہ کیا اور ملکارجن کھڑگے کے نام سے وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے تصدیق کی کہ کانگریس صدر ملکارجن کھڑگے نے کبھی ایسا کوئی بیان نہیں دیا، جیسا کہ وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز کی جانچ میں وائرل پوسٹ جعلی ثابت ہوئی۔ ملکارجن کھڑگے نے مسلمانوں سے متعلق ایسا کوئی بیان نہیں دیا۔
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











