X
X

فیکٹ چیک: کشمیر سے لے کر دبئی تک میں آگ کے نام پر اے آئی سے بنے ویڈیو وائرل

وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل ہونے والے چاروں دعوے فرضی اور بے بنیاد ہیں۔ یہ تمام ویڈیوز آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنائی گئی ہیں۔ اے آئی کی طرف سے تیار کردہ ویڈیوز سے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Feb 17, 2025 at 06:27 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر مختلف دعوؤں کے ساتھ چار ویڈیوز وائرل ہو رہی ہیں۔ ان تمام ویڈیوز میں اونچی عمارتوں کو آگ کی لپیٹ میں دیکھا جا سکتا ہے جب کہ کچھ ویڈیوز میں فائر فائٹرز کو آگ بجھاتے بھی دیکھ سکتے ہیں۔ ان تمام وائرل ویڈیوز کو لے کر مختلف دعوے کیے جا رہے ہیں۔ پہلی پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ جلتی ہوئی عمارت کی یہ ویڈیو کشمیر کی ہے جب کہ دوسری پوسٹ شیئر کی جارہی ہے جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ وزیر اعظم کی عمارت میں آگ لگ گئی ہے۔

تیسری وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے کہا جا رہا ہے کہ 4 فروری 2025 کو مکیش امبانی کی جیو کمپنی میں آگ لگ گئی تھی اور یہ اسی کی ویڈیو ہے۔ جب کہ چوتھی پوسٹ میں جنگلات کے درمیان جلتی ہوئی عمارتوں کے ساتھ صارف نے دعویٰ کیا کہ دبئی میں آگ لگی ہے جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی جان چلی گئی۔

وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل ہونے والے چاروں دعوے فرضی اور بے بنیاد ہیں۔ یہ تمام ویڈیوز آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنائی گئی ہیں۔ اے آئی کی طرف سے تیار کردہ ویڈیوز سے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

انسٹاگرام پیج ’آفیشلراجکمارجی_78‘ (آرکائیو لنک) نے پہلی وائرل پوسٹ شیئر کی اور لکھا، ’’کشمیر میں خوفناک آگ لگ گئی، لاکھوں لوگ اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے‘‘۔

دوسری پوسٹ (آرکائیو لنک) میں پی ایم مودی کی تصویر ہے اور ویڈیو میں لکھا ہے، ’’پی ایم مودی کی عمارت میں آگ لگ گئی، لاکھوں لوگ اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے‘‘۔

تیسری پوسٹ (آرکائیو لنک) میں مکیش امبانی کی ایک تصویر ہے اور لکھا ہے کہ “مکیش امبانی کی جیو کمپنی میں خوفناک آگ لگ گئی، ہزاروں لوگ 4/2/2025 کو اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے”۔

چوتھی پوسٹ (آرکائیو لنک) کہتی ہے، “3/2/2025 دبئی میں ایک انتہائی خطرناک آگ بھڑک اٹھی، جس میں لاکھوں لوگ مارے گئے‘‘۔

پڑتال

ہم نے ان چار وائرل پوسٹس کی الگ- الگ چھان بین کرنے کا فیصلہ کیا۔

پہلی پوسٹ

پہلی ویڈیو شیئر کرتے ہوئے دعویٰ کیا گیا ہے کہ یہ ویڈیو کشمیر کی ہے جہاں لاکھوں لوگ جان سے ہاتھ دھو بیٹھے ہیں۔ تحقیقات شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے خبروں کو تلاش کیا، لیکن پورے کشمیر میں اتنے بڑے پیمانے پر آگ لگنے سے متعلق کوئی معلومات نہیں ملی، اگر ایسی کوئی خبر سچ ہوتی تو یقیناً کسی معتبر نیوز ویب سائٹ پر موجود ہوتی۔

یہ ویڈیو مصنوعی ذہانت کا استعمال کرتے ہوئے تیار کی گئی معلوم ہوتی ہے۔ ہم نے اے آئی سے چلنے والے ملٹی میڈیا تجزیہ ٹولز کا استعمال کرتے ہوئے تصاویر کو تلاش کیا۔ ہم نے ویڈیو کو ہائیو ماڈریشن ٹول پر اپ لوڈ کیا۔ ٹول کے مطابق، پہلی تصویر کے اے آئی سے بنے ہونے کے امکان 97 فیصد ہے۔

ہم نے ایک اور ٹول، اے آئی امیج ڈیٹیکٹر کا استعمال کرتے ہوئے ویڈیو کا ایک فریم بھی تلاش کیا۔ اس ٹول میں بتایا گیا کہ یہ تصویر 94.59 فیصد اے آئی ہے۔

دوسری پوسٹ

دوسری پوسٹ شیئر کرکے دعویٰ کیا جارہا ہے کہ وزیراعظم مودی کی عمارت میں آگ لگی ہے۔ جب ہم نے خبر کی تلاش کی تو ہمیں اس سے متعلق کوئی معلومات نہیں ملی۔ جب وائرل ویڈیو کو ہائیو ماڈریشن پر اپ لوڈ کیا گیا تو یہ پایا گیا کہ یہ 75.9 فیصد امکان ہے کہ یہ اے آئی سے بنی ہے۔

اسی وقت، ہم نے اے آئی امیج ڈیٹیکٹر کی ویڈیو کا اسکرین شاٹ تلاش کیا۔ ٹول نے تصویر کو 96.01 فیصد اے آئی سے تیار کیا ہوا بتایا۔

تیسری پوسٹ

تیسری پوسٹ شیئر کرتے ہوئے کہا گیا ہے کہ 4 فروری 2025 کو مکیش امبانی کی جیو کمپنی میں آگ لگ گئی اور یہ اسی کی ویڈیو ہے۔ جب ہم نے خبر تلاش کی تو ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملی۔ ہم نے ہائیو ماڈریشن ڈاٹ کام ٹول کے ذریعے ویڈیو کا اسکرین شاٹ تلاش کیا۔ ٹول کے مطابق، یہ 98.4 فیصد اے آئی سے بنی ہے۔

وہیں اس ویڈیو کے اسکرین شاٹ کو اے آئی امیج ڈیٹیکٹر پر اپ لوڈ کئے جانے پر ہمیں معلوم ہوا کہ یہ تصیور 90.85 فیصد اے آئی سے تیار کردہ ہے۔

چوتھی پوسٹ

چوتھی پوسٹ میں جنگلات کے درمیان جلتی ہوئی عمارتوں کے ساتھ صارف نے دعویٰ کیا ہے کہ دبئی میں آگ لگی ہے، جس کی وجہ سے لاکھوں لوگوں کی جان چلی گئی ہے۔ جب ہم نے خبر کی تلاش کی تو ہمیں اس معاملے سے متعلق کوئی معلومات نہیں ملی۔ اگر ایسی کوئی خبر سچ ہوتی تو بین الاقوامی میڈیا میں ضرور موجود ہوتی۔

جب وائرل ویڈیو کو ہائیو ماڈریشن پر اپ لوڈ کیا گیا تو پتہ چلا کہ یہ 96.5 فیصد امکان ہے کہ اے آئی سے بنایا گیا ہے۔

اسی وقت، ہم نے اے آئی امیج ڈیٹیکٹر کی ویڈیو کا اسکرین شاٹ تلاش کیا۔ ٹول کے مطابق، 90.56 فیصد اسے اے آئی سے تیار کیا گیا ہے۔


ہم نے تصدیق کے لئے وائرل پوسٹ اے آئی ماہر اظہر مچوے کو بھیجی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ، چاروں ویڈیوز اے آئی سے بنائی گئیں ہیں۔ انہوں نے کہا، “یہ ویڈیوز حقیقی نہیں ہیں اور یہ تمام اے آئی کی مدد سے بنائی گئی ہیں‘‘۔

اب انسٹاگرام ہینڈل ’آفیشلراجکمارجی_78‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی باری تھی جس نے ان تمام پوسٹس کو شیئر کیا تھا۔ ہم نے پایا کہ صارف کو 2454 افراد فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں پایا کہ وائرل ہونے والے چاروں دعوے فرضی اور بے بنیاد ہیں۔ یہ تمام ویڈیوز آرٹیفیشل انٹیلیجنس (اے آئی) ٹولز کی مدد سے بنائی گئی ہیں۔ اے آئی کی طرف سے تیار کردہ ویڈیوز سے جھوٹ پھیلایا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : جلتی ہوئی عمارت کی یہ ویڈیو کشمیر کی ہے
  • Claimed By : Instagram User- official_rajkumar_ji_78
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later