فیکٹ چیک: بچے کے باقیات ملنے کے دعوی سے وائرل ہو رہی یہ تصویر اے آئی سے بنائی گئی ہے
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ بچے کے باقیات ملنے کے دعوی سے وائرل ہو رہی یہ تصویر اصلی نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Mar 26, 2025 at 02:34 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ اسرائیل اور حماس کے درمیان چل رہی جنگ کے بیچ سوشل میڈیا پر ایک فوٹو وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر میں ایک خاتون کو بچے کے باقیات کے ساتھ لپٹ کر روتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وہیں تصیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ، غزہ میں ایک ماں نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے کے بعد اپنے گھر کے ملبے تلے تلاش کرنے کے بعد اپنے بیٹے کی باقیات کو گلے لگا لیا جسے بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ بچے کے باقیات ملنے کے دعوی سے وائرل ہو رہی یہ تصویر اصلی نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیا ہے؟
وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے، فیس بک صارف نے لکھا، “غزہ میں ایک ماں نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے کے بعد اپنے گھر کے ملبے تلے تلاش کرنے کے بعد اپنے بیٹے کی باقیات کو گلے لگا لیا، جسے صہ یونی بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔ یہ منظر فلسطینی ماؤں کے درد اور مصائب کا خلاصہ ہے جو جارحیت اور جبری بے گھر ہونے کی روشنی میں اپنی زندگی کی خوشیوں اور مسکرانے کی وجہیں تلاش کرتی رہتی ہیں‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو کو ورژن یہاں دیکھیں ۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ فوٹو ’ان ویژوئل آرٹس‘ نام کے ایٹسٹاگرام ہینڈل پر اپلوڈ کی ہوئی ملی۔ یہاں تصویر کو 21 مارچ 2025 کو دیگر اور بھی تصاویر کے ساتھ اپلوڈ کیا گیا ہے۔ وہیں کیپشن میں دی گئی معلومات کے مطابق، یہ اے آئی سے بنی ہوئی تصویر ہے۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا وائرل تصویر کو اے آئی سے تیار کردہ تصاویر کو چیک کرنے والے ٹول ڈی کاپنی پر اپ لوڈ کیا۔ اس میں اےآئی کے ذریعے تصویر بننے کا امکان 95.82 فیصد پایا گیا۔

تصویر کو ایک اور ٹول ‘اے آئی امیج ڈٹیکٹر ڈاٹ او آر جی‘ پر بھی اپلوڈ کیا ۔ یہاں اے آئی کے ذریعے وائرل تصویر بننے کا امکان 70.16 فیصد تھا۔

وائرل پوسٹ سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے اے آئی تصاویر بنانے والے آرٹیسٹ بھارگو ولیرا سے رابطہ کیا اور وائرل پوسٹ ان کے ساتھ شیئر کی۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ اے آئی تصویر ہی ہے۔
اس سے قبل غزہ کے حالات کو بیان کرتا ایک بچے کا اے آئی ویڈیو بھی اصل سمجھتے ہوئے وائرل ہو چکا ہے، جس کا فیکٹ چیک وشواس نیوز نے کیا تھا۔ ہماری رپورٹ یہاں پڑھیں۔
اسرائل- حماس جنگ کے دوران وائرل ہوئی گمراہ کن پوسٹ کا وشواس نیوز نے وقتا- فوقتا فیکٹ چیک کیا ہے۔ ہمارے اردو کے فیکٹ چیک یہاں پڑھے جا سکتے ہیں۔
اب باری تھی اے آئی تصویر کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کے تقریبا تین ہزار فالوورز ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ بچے کے باقیات ملنے کے دعوی سے وائرل ہو رہی یہ تصویر اصلی نہیں ہے۔ بلکہ یہ اسے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔
- Claim Review : غزہ میں ایک ماں نے ڈیڑھ سال سے زائد عرصے کے بعد اپنے گھر کے ملبے تلے تلاش کرنے کے بعد اپنے بیٹے کی باقیات کو گلے لگا لیا جسے بمباری کا نشانہ بنایا گیا تھا۔
- Claimed By : FB User- Hudaiba Hassan
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











