X

فیکٹ چیک: میک ان انڈیا کے تحت 2 کروڑ نوجوانوں کو مفت لیپ ٹاپ دینے والی خبر فرضی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: May 30, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ آج کل سوشل میڈیا ایک میسج وائرل ہو رہا ہے جس میں لکھا ہے ’’نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کی خوشی میں میک ان انڈیا کے تحت 2 کروڑ نوجوانوں کو مفت لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا ہے، ابھی تک 30 لاکھ نوجوان اپلائی کر چکے ہیں۔ اب آپ کی باری ہے آخری تاریخ سے پہلے اپنی درخواست جلد از جلد جمع کریں‘‘۔ اصل میں یہ خبر غلط ہے۔ شیئر کیا جا رہا لنک کلک بیٹ ہے۔ اس کا میک ان انڈیا سے کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

دعویٰ

وائرل میسج میں لکھا ہے، ’’ نریندر مودی کے دوبارہ وزیر اعظم بننے کی خوشی میں میک ان انڈیا کے تحت 2 کروڑ نوجوانوں کو مفت لیپ ٹاپ دینے کا اعلان کیا ہے،  ابھی تک 30 لاکھ نوجوان درخواست دے چکے ہیں اب آپ کی باری ہے۔ آخری تاریخ سے پہلے اپنی درخواست جلد از جلد جمع کریں‘‘۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرنے کے لئے ہم نے اس میسج میں دئے لنک پر کلک کیا۔ اس لنک پر کلک کرتے ہی ہمارے سامنے مودی لیپ ٹاپ سرکاری یوجنا (نیچے لنک دیکھیں) سے ایک پیج کھلا۔ اس پیج پر وزیر اعظم کی تصویر کے ساتھ میک ان انڈیا کا لوگو لگا ہے۔
http://modi-laptop.saarkari-yojna.in

اس لوگو کے اوپر لکھا ہے’2 کروڑ نوجوانوں کو مفت لیپ ٹاپ دینے کی اسکیم‘۔

اس کے نیچے آپ سے ایک فارم بھرنے کو کہا جاتا ہے جہاں آپ سے آپ کا نام، آپ کا موبائل نمبر، آپ کی عمر اور آپ کی ریاست کی معلومات مانگی جاتی ہے۔

اس فارم کو بھرنے پر اگلے پیج پر آپ سے سوال پوچھا جاتا ہے’ سوال 1: کیا آپ کے پاس پہلے سے لیپ ٹاپ ہے؟‘‘۔ اس سوال کا جواب دینے پر اگلے پیج پر آپ سے سوال پوچھا جاتا ہے۔ سوال 2: کیا آپ وزیر اعظم کی اس اسکیم کے بارے میں اپنے دوستوں کو بتائیں گے؟‘‘۔ اس جواب میں بھی ہاں یا نا کا آپشن ہے۔


جواب سبمٹ کرنے پر اگلے پیج پر آپ کو بتایا جاتا ہے ’’فارم سبمٹیڈ 70,92,128  سکسیسفولی۔  درخواست دہندگان! ہمیں آپ کی درخواست مل گئی ہے‘‘۔ اس کے نیچے لکھا ہے، ’’ وزیر اعظم کی اس اسکیم اور میک ان انڈیا کی تشہیر کے لئے  آپ کو 10 گروپ میں یا دوستوں کو واٹس ایپ پر شیئر کرنا پڑے گا‘‘ اور اس کے نیچے لکھا ہے ’’اس کے بعد نیلے بٹن پر کلک کرکے اپنا رجسٹریشن نمبر حاصل کریں‘‘۔

ہم نے اس پوسٹ کو 10 لوگوں کے ساتھ شیئر کیا اور سبمٹ کرنے پر ہمارے سامنے ایک نیا پیج کھلا جس میں لکھا تھا، ’’ ہمیں آپ کی درخواست مل گئی ہے‘‘۔
“Note Down Below Mention Application Number for Future Refernce.”।
درخواست کا اسٹیٹس نیچے دی گئی آفیشیئل ایپ ڈاؤن لوڈ کرنے پر دیکھ سکتے ہیں اور آپ کا رجسٹریشن نمبر ہے
WZZKCLWY7FZVQO

ہم نے ایپ کو ڈاؤن لوڈ کیا تو پایا کہ یہ 4فن (نیچے انگریزی میں دیکھیں) نام کی ایک موبائل ایپ ہے جہاں سے جوکس وغیرہ ڈاؤن لوڈ کئے جاتے ہیں۔
4fun

وائرل میسج میں لکھی ویب سائٹ ’میک ان انڈیا‘ کی آفیشیئل ویب سائٹ نہیں ہے۔ میک ان انڈیا کی آفیشیئل ویب سائٹ کا پتہ میک ان انڈیا ڈاٹ کام (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ہے، تاہم وائرل میسج میں لکھی ویب سائٹ کا پتہ مودی لیپ ٹاپ سرکاری یوجنا (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ہے۔
www.makeinindia.com, http://modi-laptop.saarkari-yojna।in/claim.html 

ہم نے اس وائرل یو آر ایل کو ہو ایز (نیچے انگریزی میں دیکھیں) ٹول پر سرچ کیا تو پایا کہ اس یو آر ایل کو 26 مئی 2019 کو ہی بنایا گیا ہے۔
WHOIS 

وائرل میسج میں لکھی ویب سائٹ ’اباوٹ اس‘ سیکشن بھی ہے۔ اس واضح طور سے لکھا ہے کہ اس ویب سائٹ کا ہندوستانی حکومت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

پڑتال کے لئے ہم نے میک ان انڈیا کی ویب سائٹ پر اس خبر کو سرچ کیا لیکن ایسی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ ہم نے مزید تصدیق کے لئے ویب سائٹ پر دئے گئے نمبر پر فون کیا لیکن ہمیں بتایا گیا کہ میک ان انڈیا کے تحت 2 کروڑ لیپ ٹاپ بانٹے جانے والی خبر غلط ہے۔

ایسے فرضی لنک کے سلسلہ میں پوچھے جانے پر انفارمیشن سکیورٹی اجوکیشن اینڈ اویئرنیس (آئی ایس آئی اے) کے اسوسیئٹ ڈائریکٹر، اے ایس مورتی نے کہا، ’’ یہ تمام لنک کچھ وقت کے لئے کام کرتے ہیں اور ڈیٹا جمع کرنے کے بعد، وہ  مستقل طور پر بند ہو جاتے ہیں۔ ’’ صارفین کو پھنسنے سے بچنے کے لئے سرکاری ویب سائٹ یا متعلقہ وزارتوں یا محکموں کی ویب سائٹوں کے ساتھ ایسی اسکیموں کو کراس چیک کرنا چاہئے۔ یہاں تک کہ لوگوں کو سرکاری ویب سائٹوں کے طور پر اسکوف ویب سائٹ کا استعمال کر کے پھنسایا جا سکتا ہے۔ سب سے اچھا طریقہ ہے کہ باقائدہ طور پر بنے ہوئے یو آر ایل کو پہچنانے کے لئے براوزر کو اپ ڈیٹ کریں‘‘۔

نتیجہ: ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ وائرل میسج فرضی ہے۔ مودی حکومت نے ایسا کوئی اعلان نہیں کیا ہے۔ متعلقہ وزارت کی سرکاری ویب سائٹ پر ایسی کوئی اطلاع موجود نہیں ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later