X

فیکٹ چیک: این ایس اے کے تحت اتر پردیش کے متھورا جیل میں قید ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا دعوی غلط

  • By Vishvas News
  • Updated: July 24, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے پوسٹ میں گورکھ پور میڈیکل کالج کے سابق ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا دعوی کیا جا رہا ہے۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں کفیل خان کی رہائی کے دعوی کے ساتھ وائرل ہو رہا پوسٹ فرضی نکلا۔ ڈاکٹر کفیل خان نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت اترپردیش کے متھورا جیل میں قید ہیں۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’افروز خان شیخ‘ نے ایک پوسٹ شیئر کیاجس میں لکھا ہے، ’’الحد اللہ ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی ہو گئی ہے‘‘۔

پڑتال

نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت اترپردیش کے متھورا جیل میں قید گورکھپور میڈیکل کالج کے سابق ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا معاملہ سیاسی ہو چکا ہے۔ نیوز رپورٹ کے مطابق، اترپردیش کانگریس نے کفیل خان کی رہائی کی مانگ کو لے کر ملک بھر میں مہم چلانے کا فیصلہ کیا ہے۔

ABP की वेबसाइट पर 21 जुलाई को प्रकाशित रिपोर्ट

وشواس نیوز نے اس کی تصدیق کے لئے اترپردیش کانگریس محکمہ اقلیتی کے چیئرمین شاہنواز عالم سے بات کی۔ انہوں نے بتایا ، ‘ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کے مطالبے کے لئے کانگریس کی ملک بھی کی مہم 21جولائی کو شروع ہو چکی ہے اور 12 اگست کو ختم ہوگی۔‘‘ انہوں نے بھی کفیل خان کی رہائی کی خبر کو سیاسی حوصلہ افزائی قرار دیا‘‘۔

ایسے میں کفیل خان کی رہائی بڑی خبر ہوتی۔ نیوز سرچ میں ہمیں ایسی خبر نہیں ملی، جس میں ان کی رہائی کی جانکاری ہو۔

اس کے بعد وشواس نیوز نے متھورا کے جیل سپرنٹینڈینٹ شیلیندر کمار میتری سے فون پر بات کی۔ انہوں نے بتایا، ’’ڈاکٹر کفیل خان ابھی بھی جیل میں ہی ہیں اور انہیں ان کی رہائی سے منسلک کوئی حکم ابھی تک ملا نہیں ہے‘‘۔

دا ہندو میں شائع رپورٹ کے مطابق، علی گڑھ مسلم یونی ورسٹی میں سی اے اے اور این آر سی مخالف مظاہرہ کے دوران ’بھڑگاؤ‘ بھاشن دینے کے معاملہ میں کفیل خان کو این ایس اے کے تحت گرفتار کر جیل بھی دیا گیا تھا۔

دا ہندو میں شائع خبر

رپورٹ کے مطابق، انہیں 29 جنوری کو ممبئی سے گرفتار کر علی گڑھ لایا گیا تھا، جہاں کی مقامی عدالت نے انہیں 60 ہزار روپیے کے مچلکے پر 10 فروری کو ضمانت دے دی۔ حالاںکہ، 13 فروری کو جیل سے رہا کئے جانے کے کچھ ہی گھنٹے پہلے انہیں این ایس اے کے تحت گرفتار کر پھر سے جیل بھی دیا گیا۔


دا ہندو میں شائع ہوئی خبر

رپورٹ کے مطابق، خان نے الہ آباد ہایی کورٹ میں ضمانت کی عرضی لگائی تھی، جس پر 15 جولائی کو سماعت ہونا تھی۔ حالاںکہ، کورونا وبا کے سبب یہ تاریخ 22 جولائی ہو گئی۔

ہمارے ساتھی دینک جاگرن کے لکھنئو کے ریزیڈنٹ ایڈیٹر شرن اوستھی نے بتایا، ’کفیل خان کی ضمانت پر سماعت 15 جولائی کو ہونی تھی، جو کی ملتوی ہو کر 27 جولائی ہو چکی ہے۔‘۔

سوشل میڈیا سرچ میں صحافی عارف شاہ کا ایک ٹویٹ ملا، جس کے مطابق، کفیل خان کی ضمات کی عرضی پر 27 جولائی کو سنوائی ہونی ہے۔

فیس بک صارف افروز خان شیخ کی سوشل اسکیینگ میں ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق راجستھان سے ہے۔

نتیجہ: نیشنل سکیورٹی ایکٹ (این ایس اے) کے تحت اترپردیش کے متھورا جیل میں بند گورکھپور میڈیکل کالج کے سابق ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا دعوی فرضی ہے۔ کفیل خان ابھی بھی متھورا کی جیل میں بند ہیں۔

  • Claim Review : پوسٹ میں گورکھ پور میڈیکل کالج کے سابق ڈاکٹر کفیل خان کی رہائی کا دعوی کیا جا رہا ہے۔
  • Claimed By : FB User- AfRoj KhAn Khan Shaikh
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later