X

فیکٹ چیک: اترپردیش کے پجاری کا جنازہ کی تصویر پونے کے ڈاکٹر کی موت کے نام پر وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: September 3, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر کئی صارفین ایک جنازے کی تصویر کو شیئر کر رہے ہیں۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ پونے کے ایک ڈاکٹر کی کورونا وائرس کے سبب موت ہو گئی اور مسلم لوگوں نے ان کے آخری رسومات کی ادادئیگی کی۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ دعوی غلط نکلا۔ جنازے کی جس تصویر کو پونے کا بتا کر وائرل کیا جا رہا ہے، وہ اترپردیش کے میرٹھ کا معاملہ ہے۔ علاوہ ازیں مرنے والے شخص کا نام رمیش چند ماتھور تھا، جو مندر کی دیکھ ریکھ کیا کرتے تھے۔ حالاںکہ، وائرل پوسٹ میں مقتول کا نام ڈاکٹر رما کانت جوشی بتایا گیا ہے، جو پونے کے رہنے والے تھے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

سوشل میڈیا صارف ’یعقوب سعید‘ نے وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ’’انسانیت والی بات ہے، پونے کے ڈاکٹر رماکانت جوشی کورونا سے مر چکے ہیں، اور آخری رسومات کی ادائیگی مسلماوں نے کی‘‘۔

پوسٹ کا آرکائیو ورژن یہاں دیکھیں۔

کوہرام ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر لگی خبر ( آرکائیو لنک) میں بھی اس تصویر کا استعمال کیا گیا ہے اور دعوی کیا گیا ہے کہ مہاراشٹر کے پونے میں کورونا وبا سے متاثر ڈاکٹر کی موت ہو گئی، جس کے بعد تبلیغی جماعت کے لوگوں نے آگے آکر آخری رسومات کی ادائیگی کی۔

پڑتال

وائرل تصویر کو گوگل رورس امیج سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر ’ٹائمس آف انڈیا‘ کی ویب سائٹ پر 30 اپریل 2020 کو شائع ہوئی خبر میں ملی۔

टाइम्स ऑफ इंडिया की वेबसाइट पर 30 अप्रैल 2020 को प्रकाशित खबर

خبر کے مطابق ، ’’اترپردیش کے میرٹھ کے ایک مندر کے پجاری رمیش ماتھور کے انتقال کے بعد ، مسلمانوں نے ان کی لاش کو کندھا دیا۔ ماتھور اپنی بیوی اور بیٹے کے ساتھ میرٹھ کے شاہپیر گیٹ علاقے میں رہتے تھے، جو ایک مسلم اکثریتی علاقہ ہے۔

خبروں کو تلاش کرنے پر ، ہمیں 29 اپریل کو دینک جاگرن کی ویب سائٹ پر ایک خبر ملی۔ اسی میں جنازے کی ایک اور تصویر خبر میں لگی ہوئی ملی۔ رپورٹ کے مطابق ، ’’شاہ پیر گیٹ پر کایستھ دھرم شالا کے رہائشی پجاری کی موت کے بعد ، رشتہ دار اور لواحقین آخری ملاقات کے لئے نہیں آسکے۔ آس پاس کی مسلم کمیونٹی کے لوگوں نے جنازے کو سورج کُنڈ قبرستان پہنچایا‘۔

दैनिक जागरण में 29 अप्रैल को प्रकाशित खबर

اس رپورٹ میں کہا گیا ہے ، ’68 سالہ رمیش ماتھور اپنی بیوی ریکھا کے ساتھ کایستھ دھرم شالا میں رہتے تھے۔ رمیش دھرم شالہ کی دیکھ ریکھ کرنے کے علاوہ ، وہاں پر واقع چترا گپت جی مندر میں پوجا بھی کرتے تھے۔

اس کے بعد ہم نے اپنے ساتھی دینک جاگرن کے میرٹھ کے رپورٹر سے رابطہ کیا۔ اس بات کی تصدیق کرتے ہوئے سٹی رپورٹر اوم واجپئی نے کہا ، “یہ تصویر میرٹھ کے شاہ پیر گیٹ پر کایستھ دھرم شالا کے رہائشی پجاری کے آخری سفر کی ہے‘‘۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے ، “رمیش کی آنت میں گانٹھ تھی۔ منگل کی سہ پہر دو بجے ان کا انتقال ہوگیا۔ اس گھر میں صرف جوان بیٹا چندرامولی اور بیوی تھی۔ رمیش کی موت کی وجہ سے ماں اور بیٹا بے بس ہوگئے۔ تبھی محلے میں رہنے والے اکیل میاں وہاں پہنچ گئے۔ اور تمام لوگ دھرم شالہ میں جمع ہوگئے۔ مسلم خواتین نے پہنچ کر لائن سنبھال لی۔ اطلاع ملنے پر سابقہ ​​کونسلر حفظ الرحمان پہنچے اور بیٹے کو تسلی دی۔ اکیل میاں کچھ لوگوں کے ساتھ گنگا موٹر کمیٹی گئے۔ جنازے کا سامان وہاں سے لایا گیا تھا۔ جنازہ تیار کرنے والے مسلم معاشرے کے لوگ تھے۔ لاش کو اگ چندر مولی نے دی تھی۔ جنازے میں چلنے والے تمام لوگ رام نام ستیہ ہے بھی کہہ رہے تھے۔

وشواس نیوز نے اس جنازے میں شامل حزب الرحمان سے رابطہ کیا۔ انہوں نے بھی تصویر کی تصدیق کرتے ہوئے اسے رمیش ماتھور کے جنازے کی بتایا۔

اس کے بعد نے ہم نیوز سرچ کے ذریعہ پونے میں رماکانت جوشی کے نام کے کسی ڈاکٹر کی کورونا وائرس سے ہوئی موت کی خبر کو تلاش کرنے کی کوشش کی۔ سرچ میں ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملی جس میں ایسی کسے معاملہ کا ذکر ہو۔

پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صرف یعقوب سعید کی سوشل اسکننگ میں ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق مہاراشٹرا سے ہے۔

نتیجہ: پونے کے ڈاکٹر کی کورونا وائرس سے ہوئی موت اور مسلمانوں کے ان کا جنازہ میں شامل ہونے کے دعوی کے ساتھ وائرل ہو رہی تصویر اترپریدیش کے میرٹھ کی ہے، جہاں کے ایک پجاری کی موت کے بعد مسلمانوں نے ان کی لاش کو کندھا دیتے ہوئے ان کے آخری رسومات میں مدد کی تھی۔

  • Claim Review : دعوی کیا جا رہا ہے کہ پونے کے ایک ڈاکٹر کی کورونا وائرس کے سبب موت ہو گئی اور مسلم لوگوں نے ان کے آخری رسومات کی ادادئیگی کی۔
  • Claimed By : Yakub Sayed
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later