X

فیکٹ چیک: شاہین باغ کا مظاہر نہیں، پلوامہ میں پکڑا گیا مشتبہ دہشت گرد ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: January 28, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر برقع پہنے ہوئے ایک شخص کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، جسے لے کر دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ وہ دہلی کے شاہین باغ میں خواتین کے لباس میں مظاہرہ کر رہا تھا۔

وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعویٰ غلط نکلا۔ برقع پہنے جس شخص کی تصویر کو دہلی کے شاہین باغ کا بتا کر وائرل کیا جا رہا ہے، وہ اصل میں جموں و کشمیر میں پکڑے گئے مشتبہ دہشت گرد کی تصویر ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’دیپک شرما‘ نے برقع پہنے ایک شخص کی تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے،’’ شاہین باغ سے سلما کا برقع پہن کر بلما بھی پہنچ رہے ہیں۔ بریانی اور 500 روپیے کا سوال ہے بھائی‘‘۔

سوشل میڈیا پر اس پوسٹ کو ملتے جلتے دعووں کے ساتھ دیگر صارفین بھی شیئر کر رہے ہیں۔

پڑتال

گوگل رورس امیج کئے جانے پر ’این ڈی ٹی وی خبر‘ کی ویب سائٹ پر نیوز ایجنسی کے حوالے کے لکھی گئی خبر کا لنک ملا، جس میں اس تصویر کا استعمال کیا گیا ہے۔ 16 اکتوبر 2015 کو شائع خبر کے مطابق، ’کشمیر میں برقع پہنے دہشت گردوں نے بازار میں گولیاں چلائیں، جس کے سبب تین لوگ زخمی ہوئے گئے‘‘۔

اس وقت کے پولیس انسپکٹر جنرل (کشمیر زون) ایس جے ایم گیلانی کے مطابق، ’دہشت گردوں نے پلوامہ شہر میں سکیورٹی فورسز کو دیکھ کر گولیاں چلائیں، جس کے سبب متعدد شہری زخمی ہوئے گئے۔ برقع پہنے ایک مشتبہ دہشت گرد کو گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔

خبر سے ملے کی ورڈ کے ساتھ نیوز سرچ کرنے پر ہمیں انگریزی نیوز چینل ’ٹائمس ناؤ‘ کے ویری فائڈ یو ٹیوب چینل پر اپ لوڈ ویڈیو بولیٹن ملا، جس میں اسی شخص کی تصویر دکھائی گئی ہے۔

ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ’کشمیر میں سکیورٹی فورسز نے برقع میں دہشت گرد کو پکڑا‘ خبر کے مطابق، یہ معاملہ 16 اکتوبر 2015 کا ہے، جب جموں و کشمیر کے پلوامہ ضلع میں پولیس نے ایک مشتبہ دہشت گرد کو پکڑا۔ مشکوک دہشت گرد برقع پہنے ہوئے تھا اور اس کی شناخت بطور طارق احمد ہوئی ہیں‘‘۔

ایک دیگر نیوز رپورٹ سے بھی اس کی تصدیق ہوتی ہے۔ 17 اکتوبر 2015 کی اس رپورٹ کے مطابق، ’جب پلوامہ میں برقع پہنے دہشت گردوں نے بھیڑ پر گولیاں چلائی تھیں۔ پولیس نے اس دوران ایک برقع پہنے شخص کو گرفتار کیا تھا، جبکہ دو دہشت گرد فرار ہونے میں کامیاب ہوئے گئے تھے۔ پکڑے گئے برقع پہنے شخص کی شناخت طارق احمد کے طور پر ہوئی تھی‘‘۔

ہمارے ساتھی دینک جاگرن کے کشمیر بیورو نے بھی اس کی تصدیق دی۔ انہوں نے بتایا، ’’یہ کشمیر کی پرانی تصویر ہے‘‘۔

غور طلب ہے کہ شہریت ترمیمی قانون کے خلاف دہلی کے شاہین میں گزشتہ ایک ماہ سے زیادہ وقت سے مظاہرہ چل رہا ہے، جبکہ وائرل ہو رہی شخص کی تصویر تقریبا پانچ سال پرانی ہے۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق دہلی سے ہے علاوہ ازیں اس صارف کو 642 لوگ فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: دہلی کے شاہین باغ میں جاری مظاہرے کے دوران برقع پہنے شخص کی تصویر وائرل ہو رہی ہے، وہ جموں و کشمیر کے پلوامہ میں گرفتار ہوئے مشتبہ دہشت گرد کی ہے، جسے 2015 میں پکڑا گیا تھا۔

  • Claim Review : #शाहीनबाग मे सलमा का #बुरखा पहनकर #बलमा भी पहुंच रहे है,
  • Claimed By : Fb User- Deepak Sharma
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later