X

فیکٹ چیک: ٹوٹی سڑک کی یہ تصویر وارانسی کی نہیں، گجرات کے احمد آباد کی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: August 24, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہی ہے ایک تصویر میں سڑک پر بنے بڑے سے گڑھے کو دیکھا جا سکتا ہے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ٹوٹی سڑک کی یہ تصویر اترپردیش کے وارانسی کی ہے۔

وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعوی گمراہ کن نکلا۔ سڑک میں بنے گڈھے کی تصویر گجرات کے احمد آباد کی ہے، جسے وارانسی کے نام پر پھیلایا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

ٹویٹر صارف ’محمد صحاب الدین نے وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’دنیا کا پہلا انڈر واٹر کرکٹ اسٹیڈیم بنارس میں بن کر تیار، وہ بھی سڑک کے بیچوں بیچ‘‘۔

پڑتال

گوگل رورس امیج کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر سنجیو بھٹ (آئی پی ایس) کے آفیشیئل ٹویٹر پروفائل پر ملی۔ 29 جولائی 2017 کو اس تصویر کے ساتھ دیگر تین تصاویر کو ٹویٹ کرتے ہوئے انہوں نے اسے گجرات کے احمد آباد کا بتایا ہے۔

سرچ میں ہمیں سائنوس ٹوڈے ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر 2 اگست 2018 کو شائع کردہ رپورٹ ملی،جس میں اس تصویر کا استعمال کیا گیا ہے۔ خبر میں اس تصویر کے احمد آباد کے سواستک چوراہے کا بتایا گیا ہے۔

sinewstoday.com पर प्रकाशित रिपोर्ट

ہمارے ساتھی دینک جاگرن کے واراسنی کے رپورٹر شاشوت مشر نے اس تصویر کے وارانسی کے ہونے کا دعوی کو خارج کیا۔ حالاںکہ، یہ پہلی بار نہیں ہے جب یہ تصویر غلط کے ساتھ وائرل ہوئی ہے۔ اس سے پہلے بھی یہ تصویر وارانسی اور آگرا۔ لکھنئو ایکپریس وے کے نام پر سوشل میڈیا پر وائرل ہو چکی ہے۔

پوسٹ کو گمراہ کن دعوی کے ساتھ شیئر کرنے والے ٹویٹر صارف ’محمد صحاب الدین‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے پر ہم نے پایا کہ اس صارف کو 340 صارفین فالوو کرتےہیں۔

نتیجہ: اترپردیش کے وارانسی کے نام پر ٹوٹی سڑک کی وائرل ہو رہی تصویر گجرات کے احمد آباد کی ہے۔

  • Claim Review : دعوی کیا جا رہا ہے کہ ٹوٹی سڑک کی یہ تصویر اترپردیش کے وارانسی کی ہے۔
  • Claimed By : Md Sahabuddin
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later