X

فیکٹ چیک:گرم بھاپ اور چائے سے کورونا وائرس کے علاج کا دعوی کرنے والی پوسٹ فرضی ہے

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ گرم بھاپ اور چائے کے ذریعہ کورونا وائرس کا علاج کرنے والی پوسٹ فرضی ہے۔ عام جسمانی درجہ حرارت تقریبا 36.5 ° سلسیئس سے 37 ° سلسیئس تک رہتا ہے، چاہے باہر کا درجہ حرارت یا موسم کتنا بھی گرم ہو۔

  • By Vishvas News
  • Updated: June 16, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں یہ دعوی کیا گیا ہے کہ دن میں 4 بار گرم پانی سے غرارہ کرنے اور چار بار چائے پینے سے کورونا وائرس نہیں ہوگا۔ یہ علاج 4 دنوں میں وائرس کو مارتا ہے اور 5ویں دن وہ انسان کورونا وائرس فری ہو جاے گا۔ وشواس نیوز نے اس دعوی کی پڑتال کی اور پایا کہ یہ وائرل پوسٹ فرضی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف محمد مونر حسین نے ایک پوسٹ شیئر کی جس میں لکھا ہے
‘‘Important tips to remain corona free
very hot steam inhalation from kettle 4 times a day
Hot gargles 4 times a day
Hot tea 4 times a day
virus dies in 4 day
5th day you are corona negative’’

پڑتال

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، کچھ مغربی، روایتی یا گھریلو علاج سے ہلکے کووڈ 19 کے علامات سے نجات مل سکتی ہے، لیکن ایسی کوئی دوائی نہیں ہے جو اس بیماری سے بچا سکے۔ ڈبلیو ایچ او، اینٹی بائیوٹکس سمیت دوائیوں کے ساتھ کوویڈ ۔19 کی روک تھام یا کسی بھی خود ادویات کی سفارش نہیں کرتا ہے۔ تاہم ، دونوں مغربی اور روایتی دوائیوں کے لئے بہت سے کلینیکل ٹرائلز جاری ہیں۔

ڈبلیو ایچ او کے مطابق، عام جسمانی درجہ حرارت تقریبا 36.5 ڈگری سلسیئس سے 37 ڈگری سلسیئس تک رہتا ہے، چاہے باہر کا درجہ حرارت یا موسم کتنا بھی گرم ہو۔ اپنے آپ کو نئے کورونا وائرس سے بچانے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ الکحل سےبنے ہینڈ سینی ٹائزر سے ہاتھ صاف کرنا یا پھر ثابن اورپانی سے مسلسل ہاتھ دھوتے رہنا ہے۔ آپ کوڈ 19 وائرس سے متاثر ہو سکتے ہیں چاہے موسم کتنا بھی گرم ہو یا پھر درجہ حراحت کتنا بھی کم یا زیادہ کیوں نہ ہو۔

ایسی صورتحال میں، یہ ایک متھ ہے کہ کورونا وائرس کو مارنے کے لئے جسم کے درجہ حرارت میں اضافہ کرنا ضروری ہے۔ عام جسمانی درجہ حرارت تقریبا 36.5 ° سلسیئس سے 37 ° سلسیئس تک رہتا ہے ۔

ایک دیگر دعوی سے پتہ چلتا ہے کہ گرم چائے کورونا وائرس کو ٹھیک کرتی ہے۔ وزارت آیوش کے مطابق، ہربل چائے یا تلسی، دالچینی، کالی مرچی، سوکھی ادرک اور نکقہ سے بنا کاڑھا دن میں ایک یا دو بار پینے سے امیونٹی بڑھتی ہے جو کووڈ 19 کے دوران سیلف کیئر کے لئے اچھی ہے۔ حالاںکہ، وزارت اس طرح کے کووڈ 19 کے علاج کا دعوی نہیں کرتا ہے۔

بی بی سی نے اپنی رپورٹ میں واضح کیا ہے کہ چائے پینے سے کورونا وائرس سے ٹھیک ہونے کا پوسٹ کا دعوی، پوری طری سے فرضی ہے۔ پوسٹ میں جھوٹا دعوی کیا گیا ہے کہ چین میں کووڈ 19 سے متاثر ہوئے لوگوں کو دن میں تین بار چائے دی جاتی ہے۔ یہ پوسٹ ڈاکٹر لی وینلیانگ کے ایک بیان سے بنائی گئی تھی، جو چائے اور کورونا وائرس کے اثارات پر ریسرچ کر رہے تھے، لیکن وہ وائرس کے ماہر کے بجائے ایک ایکھوں کے ماہر تھے۔ اور چین کے اسپتال مریضوں کو چائے دے کر کووڈ 19 کا علاج نہیں کر رہے تھے۔

پوسٹ میں آگے بتایا گیا کہ کورونا وائرس کاعلاج خود سے کرنے کے لئے گرم پانی سے 4 دن تک غرارہ کرنا چاہئے۔ وشواس نیوز نے پہلے بھی اس موضوع پر فیکٹ چیک کر اس دعوی کو خارج کیا ہے۔ فیک چیک یہاں پڑھیں۔

وشواس نیوز نے کیرالہ کے جنرل فزیشیئن اور کورونا وائرس کے مریضوں کا علاج کر رہے ڈاکٹر سنجیو کمار سے بات کی۔ انہوں نے کہا، ’پوسٹ میں کیا گیا دعوی ہلکی کھانسی اور بخار کے علامات میں آرام پہنچا سکتا ہے، حالاںکہ یہ کورونا وائرس کا علاج نہیں کرتا ہے۔ اگر کسی میں کووڈ کی علامات نظر آئیں تو انہیں خود کا علاج کرنے کے بجائے کسی ڈاکٹر سے رابطہ کرنا چاہئے‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف محمد مونر حسین کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کو 1270 صارفین فالوو کرتے ہیں علاوہ ازیں اس صارف کا تعلق دھاکہ سے ہے۔

ڈس کلیمر، اعلامیہ دست برداری: وشواس نیوز کی کورونا وائرس (کووڈ-19) سے منسلک فیکٹ چیک خبروں کو پڑھتے یا اسے شیئر کرتے وقت آپ کو اس بات پر غور کرنا ہوگا کہ جن اعداد و شمار یا ریسرچ متعقلہ ڈیٹا کا استعمال کیا گیا ہے، وہ مسلسل بدل رہے ہیں۔ بدل اسلئے رہے ہیں کیوں کہ اس وبا سے جڑے اعداد و شمار (متاثرین اور ٹھیک ہونے والے مریضوں کی تعداد، اس سے ہونے والی اموات کی تعداد) میں مسلسل تبدیلیاں ہو رہی ہیں۔ اس کے ساتھ ہی اس بیماری کا ویکسین بننے سے منسلک چل رہے تمام ریسرچ کے پختہ نتائج آنے باقی ہیں، اور اس وجہ سے علاج اور بچاؤ کو لے کر فراہم کردہ اعداد و شمار میں بھی تبدیلیاں ہو سکتی ہیں۔ اسلئے ضروری ہے کہ خبر میں استعمال کئے گئے ڈیٹا کو اس کی تاریخ سے جوڑ کر دیکھا جائے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ گرم بھاپ اور چائے کے ذریعہ کورونا وائرس کا علاج کرنے والی پوسٹ فرضی ہے۔ عام جسمانی درجہ حرارت تقریبا 36.5 ° سلسیئس سے 37 ° سلسیئس تک رہتا ہے، چاہے باہر کا درجہ حرارت یا موسم کتنا بھی گرم ہو۔

  • Claim Review : گرم بھاپ اور چائے سے کورونا وائرس کے علاج کا دعوی کیا جا رہا ہے۔
  • Claimed By : FB User- Md Monir Hossain
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later