X

فیکٹ چیک: مولانا سعد کے خلاف مقدمہ واپس لئے جانے کی بات جھوٹی، ایف آئی آر کے بعد سے فرار ہے مولانا

  • By Vishvas News
  • Updated: April 8, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ دہلی کے نظام الدین میں تبلیغی جماعت کے مرکز کے بعد سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مولانا سعد کے خلاف کیا گیا مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے، کیوں کہ ان پر لگائے گئے تمام الزامات غلط ثابت ہوئے ہیں۔ پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مرکز میں شامل ہوگوں کو بھی گھر بھیج دیا گیا ہے۔

وشواس نیوزکی پڑتال میں یہ دعویٰ جھوٹ نکلا۔ مولانا سعد کے خلاف مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کر پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک پیج ’آئی سپورٹ کنہیا کمار‘ نے وائرل پوسٹ کو اپنی پروفائل سے شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے،’’مولانا سعد صاحب کے اوپرلگائے گئےالزام غلط نکلے۔ دہلی حکومت نے کیس واپس لئے اور لوگوں کو گھر پہنچانے کا انتظام بھی کیا‘‘۔

پڑتال

مولانا سعد کی ورڈ سے سرچ کئے جانے پر ہمیں متعدد خبروں کے لنک ملے۔ اس کے مطابق، دہلی پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سےنظام الدین مرکز کے سربراہ مولانا سعد فرار ہیں، جن کی تلاش میں پولیس لگی ہوئی ہے۔ خبر کے مطابق دہلی پولیس کرائم برانچ کی کئی ٹیم مولانا سعد کو تلاش میں لگی ہوئی ہے۔

انڈیا ٹوڈے میں شائع خبر۔

رپورٹ کے مطابق، پولیس نے مولانا سعد سمیت دیگر ملزمان کے خلاف’ اپڈمک ڈزیز ایک، 1897 اور آئی پی سی کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا ہے۔

دینک جاگرن کے دہلی ایڈیشن میں ایک اپریل کو شائع خبر کے مطابق، ’دہلی کے نظام الدین واقع تبلیغی مرکز میں لاک ڈاؤن کے دوران جماعت کو روکنے کے معاملہ میں درج مقدمے کی جانچ پولیس افسر ایس این سریواستو نے کرائم برانچ کو سونپ دی ہے‘‘۔ خبر کے مطابق، ’پولیس نے ایف آئی آر میں مولانا سعد سمیت لوگوں کو نامزد کیا ہے‘‘۔

دینک جاگرن کے دہلی ایڈیشن میں ایک اپریل کو شائع خبر

رواں ماہ کی 28 تاریخ کو دباؤ بڑھنے پر مولانا سعد مرکز سے فرار ہو گئے تھے۔ اس درمیان مولانا سعد کا ایک آڈیو کلپ سامنے آیا ہے، جس میں انہوں نے کہا ہے کہ وہ ڈاکروں کے مشورہ پر ہی کوارنٹائن ہو گئے ہیں۔

نیوز ایجنسی اے این آئی نے دہلی پولیس کے ذرائع کے حوالے سے بتایا ہے کہ پولیس کی جانب سے نوٹس دئے جانے کے بعد 28 مارچ سے مولانا سعد کی موجودگی کو لے کر کوئی معلومات نہیں ہے۔

وشواس نیوز نے اس معاملہ کو لے کر دہلی پولیس کے ترجمان مندیپ سنگھ رندھاوا سے بات کی۔ انہوں نے بتایا کہ مولانا سعد ابھی انڈر گراؤنڈ ہے اور پولیس ان کی تلاش کر رہی ہے۔

ہمارے ساتھی دینک جاگرن کے سینئر چیف ایڈیٹر (کرائم) راکیش سنگھ نے بتایا کہ مولانا سعد کے خلاف کیس واپس لئے جانے کی بات بالکل غلط ہے۔ انہوں نے کہا، ’’دہلی پولیس نے اس معاملہ میں مولانا سعد سمیت سات لوگوں کے خلاف آئی پی سی کی مختلف دفعات میں مقدمہ درج کیا ہے اور ان کی تلاش کی جا رہی ہے۔ ایف آئی آر درج ہونے کے بعد سے ہی مولانا سمیت تمام ملزمان فرار ہیں۔ ساتھ ہی جن لوگوں کو مرکز سے نکالا گیا، جنہیں کوارنٹائن میں بھیجا گیا ہے‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کرنے والے فیس بک پیج ’آئی سپورٹ کنہیا کمار‘ کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس پیج کو 17,755 صارفین فالوو کرتے ہیں۔

نتیجہ: دہلی کے نظام الدین مرکز کے سربراہ مولانا سعد کے خلاف مقدمہ واپس لئے جانے کی بات جھوٹی ہے۔ دہلی پولیس کی جانب سے ایف آئی آر درج کئے جانے کے بعد سے مولانا سعد سمیت دیگر ملزمان فرار ہیں۔

  • Claim Review : وائرل پوسٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ مولانا سعد کے خلاف کیا گیا مقدمہ واپس لے لیا گیا ہے
  • Claimed By : FB Page- I Support Kanhaiya Kumar
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later