X

فیکٹ چیک: بابری مسجد کے نام پر وائرل ہو رہی تصویر گلبرگ کے جامعہ مسجد کی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: August 7, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ ایودھیہ میں بننے والے رام مندر کے بھومی پوجن کے بعد سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے، جسے بابری مسجد کا بتایا جا رہا ہے۔

وشواس نیوز کی جانچ میں یہ دعوی غلط نکلا۔ جس تصویر کو ایودھیہ میں (انہدام سے قبل) بابری مسجد کا بتا کر وائرل کیا جا رہا ہے، وہ اصل میں کرناٹک کے گلبرگ میں موجود جامعہ مسجد کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’انور تیز پور‘ نے وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’آج کا دن پوری دنیا کے لئے یوم سیاہ ہے۔ ہندوستان کا نظام انصاف ہی ایسا نظام ہے جس میں انصاف کے بغیر کسی ثبوت کے اعتماد اور اعتماد کی بنیاد پر لوگوں کی ضروریات کو پورا کیا جاسکتا ہے۔ سیکولر ملک کے نام پر 500 سالہ قدیم بابری مسجد کو منہدم کر مندر تعمیر کیا گیا تو دنیا کے مسلمانوں کے دل میں رہے گا کہ مسجد تھی آپ‘‘۔

پڑتال

گوگل رورس امیج سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر فوٹو ایجنسی الامی ڈاٹ کام کی ویب سائٹ پر ملی۔ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ تصویر کرناٹک کے گلبرگ میں موجود جامعہ مسجد کی ہے۔

Source-alamy.com

گلبرگ جامعہ مسجد کی ورڈ سے سرچ کرنے پر ہمیں یوٹیوب پر کئی ایسے ویڈیو ملے، جس میں گلبرگ کا قلعہ اور اس مسجد کی تصاویر کو دیکھا جا سکتا ہے۔

ڈریم میڈیا نام کے یوٹیوب چینل پر 28 ستمبر 2014 کو اپ لوڈ کئے گئے ویڈیو میں مسجد کو دیکھا جا سکتا ہے، جو وائرل ہو رہی تصویر سے ملتی ہوئی ہے۔

ہمارے ساتھی دینک جانگر کے ایودھیہ کے انچارج رپورٹر رما شرن اوستھی نے بتایا، وائرل ہو رہی تصویر کے ساتھ کیا جا رہا دعوی بالکل غلط ہے۔ یہ بابری مسجد کی تصویر نہیں ہے‘‘۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی دعوی کے ساتھ شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنےکی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق آسام کے تیز پور سے ہے۔

نتیجہ: ایودھیہ میں (انہدام سے قبل) بابری مسجد کے دعوی کے ساتھ وائرل ہو رہی تصویر اصل میں کرناٹک کے گلبرگ میں موجود جامعہ مسجد کی ہے۔

  • Claim Review : بابری مسجد کی تصویر
  • Claimed By : FB User- Anowar Tezpur
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later