X

فیکٹ چیک: سعودی عرب نے نہیں لگائی مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز پر پابندی، وائرل دعوی گمراہ کن ہے

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ سعودی عرب نے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز پر پابندی نہیں لگائی ہے، بلکہ آواز کو کم رکھنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔ پرانی خبر گمراہ کن دعوی کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: December 21, 2022

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر اکثر مشرق وسط سے متعلق تمام فرضی اور گمراہ کن خبریں وائرل ہوتی رہتی ہیں انہیں سنب کے بیچ ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں سعودی حکومت کو ٹارگیٹ کرتے ہوئے صارفین کے ذریعہ دعوی کیا جا رہا ہے کہ سعودی عرب کی حکومت نے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز پر پابندی لگا دی ہے۔ اور اب اذان لاؤڈ اسپیکر پر نہیں ہو سکے گی۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ سعودی عرب نے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز پر پابندی نہیں لگائی ہے، بلکہ آواز کو کم رکھنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔ پرانی خبر گمراہ کن دعوی کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’ سعودی عرب میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی۔ جس جو اپنے دین پر یقین ہے اسے ضرورت نہیں کے موذن اذان دے‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے نیوز سرچ کیا۔ سرچ میں ہمیں 26 مارچ 2022 کو گلف نیوز کی ویب سائٹ پر شائع ہوئی خبر ملی۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’ وزارت اسلامی امور نے اگلے ہفتے شروع ہونے والے رمضان المبارک سے قبل نشاندہی کی کہ لاؤڈ اسپیکر کی آواز کی سطح والیوم کے ایک تہائی سے زیادہ نہیں ہونی چاہیے۔ اور مساجد میں آؤٹ ڈور لاؤڈ سپیکر کا استعمال صرف اذان یا اذان تک محدود ہونا چاہیے‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

رائٹرس کی ویب سائٹ پر مئی 2021 کو شائع ہوئی خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق گزشتہ ہفتے ایک سرکلر میں اسلامی امور کی وزارت نے کہا کہ مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز کو ان کی ایک تہائی والیوم سے زیادہ نہیں ہونا چاہیے۔ اسپیکرز کو اذان کے بعد بند کر دیا جانا چاہئے انہیں خطبے تک نہیں چلانا چاہئے۔

بی بی سی کی 1 جون 2021 کی خبر کے مطابق، ’سعودی عرب میں اسلامی امور کی وزارت نے اعلان کیا کہ مساجد کے لاؤڈ سپیکروں کی آواز کو اپنی بلند ترین سطح سے کم کر کے اسے ایک تہائی تک اونچا کرنے کے بعد آذان دی جا ئے گی۔ ان ہدایات کے مطابق عام نمازوں میں صرف آذان اور اقامت کو بیرونی لاؤڈ سپیکروں پر ادا کیا جاسکے گا جبکہ مکمل نماز یا خطبات لاؤڈ سپیکر پر نہیں دیے جاسکیں گے۔ وزارتِ اسلامی امور کے وزیر عبد اللہ لطیف الشیخ نے کہا کہ یہ اقدام عوامی شکایات کے بعد اٹھایا گیا ہے‘۔

وشواس نیوز نے تصدیق کے لئے سعودی عرب ’الوطن‘ کے صحافی سُعود حافظ سے رابطہ کیا اور وائرل انہوں نے ہمیں بتایا کہ سعودی عرب حکومت نے لاؤڈ اسپیکر کی آواز کو کم کرنے کے ہدایات دی تھیں، پابندی لگائے جانے کا دعوی غلط ہے۔

گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ سعودی عرب نے مساجد کے لاؤڈ اسپیکرز پر پابندی نہیں لگائی ہے، بلکہ آواز کو کم رکھنے سے متعلق ہدایات جاری کی تھیں۔ پرانی خبر گمراہ کن دعوی کے ساتھ وائرل کی جا رہی ہے۔

  • Claim Review : سعودی عرب میں لاؤڈ اسپیکر پر پابندی
  • Claimed By : Rizwan Ali Siddiqui
  • Fact Check : گمراہ کن
گمراہ کن
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later