X

فیکٹ چیک: اترپردیش کے ٹانڈا میں لاک ڈاؤن کے دوران کی پولیس کی پٹائی سے مسلم شخص کی موت کا دعویٰ غلط

اترپردیش کے امبیڈکر ضلع کے ٹانڈا میں لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کی پٹائی سے مسلم نوجوان کی موت کا دعویٰ غلط ہے۔

  • By Vishvas News
  • Updated: April 23, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہے ایک پوسٹ میں دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اترپردیش کے ٹانڈا میں پولیس نے ایک مسلم نوجوان کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کے معاملہ میں پیٹ کر مار ڈالا۔ سوشل میڈیا پر متعدد صارفین اس معاملہ کو ملتے جلتے دعوے کے ساتھ شیئر کر رہےہیں۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ دعویٰ غلط نکلا۔ متوفی نوجوان کی موت کی وجہ حادثہ کے دوران لگی چوٹ تھی نہ کی پولیس کی پٹائی۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’فیصل نجمی‘ نے 19 اپریل کو ایک ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا ہے، ’’کہتے ہیں سب سے مشکل ہوتا ہے جوان اولاد کا جنازہ جب بوڑھے باپ کو اٹھانا پڑتا پڑے۔ ٹانڈا میں 22 سال کے رضوان احمد کا پولیس نے پیٹ پیٹ کر قتل کر دیا۔ بزرگ والد کا درد دل چیر دینےوالا ہے۔ اللہ ان کے ساتھ سبر اور رحم کا معاملہ عطا فرمائے۔ وردی والے قاتل ہیں۔ پولیس آتنکی ہے‘‘۔

پڑتال

اترپردیش، ٹانڈا اور رضوان کی ورڈ ک ساتھ سرچ کرنے پر ہمیں ’دا ہندو‘ میں 18 اپریل 2020 کو شائع ایک خبر ملی۔ اس کے مطابق، اترپردیش کے امبیڈکر ضلع کے ٹانڈا میں ایک مزدور رضوان کی موت ہو گئی۔ خبر کے مطابق، رضوان کے والد نے اس کی موت کے لئے پولیس کی پٹائی کے ذمہ دار بتایا ہے۔ اس رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ اس معاملہ میں ابھی پوسٹ مارٹم رپورٹ سامنے نہیں آئی ہے۔

سرچ میں ہمں امبیڈکر پولیس کے ویری فائڈ ٹویٹر ہینڈل پر جاری کیا گیا بیان ملا، جس میں انہوں نے ان الزمات کو خارج کیا ہے۔ 19 اپریل کو جاری کئے گئے بیان کے مطابق، 18 اپریل کو جنپد امبیڈکر کے قصبہ ٹانڈا میں رضوان کی موت سے منسلک یہ الزام لگایا گیا تھا کہ پولیس کی پٹائی کی وجہ سے اس کی موت ہوئی ہے۔ پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے مطابق، متوفی کے دل اور پھیپھڑے میں وائرس پایا گیا ہے۔ مہلک کے جسم پر جو چوٹیں آئیں ہیں، وہ تمام موٹر سائکل سے گرنے کی وجہ آئی ہے، جس کی تصدیق مقامی ڈاکٹر نے کی ہے۔ سی ایچ سی کے ڈاکٹر کی میڈیکل رپورٹ میں بھی چوٹیں 5-6 دن پرانی بتائی ہیں۔ متوفی کے پوسٹ مارٹم رپورٹ کے بنیاد پر پولیس پر لگایا گیا الزمام بےبنیاد پایا گیا ہے‘‘۔

امبیڈکر پولیس کے ویری فائڈ ٹویٹر ہینڈل پر ایس پی کا بھی بیان ملا، جس میں انہوں نےان الزمات کو خارج کیا ہے۔ انہوں نے کہا، ’’حقائق کے مطابق، ’متوفی نوجوان کے جسم پر پٹائی کے نشان نہیں ملے ہیں۔ سی سی ٹی وی میں بھی پولیس کے ذریعہ نوجوان کی پاٹی کے ثبوت نہیں ملے ہیں‘‘۔

امیڈکر پولیس نے اس کے ساتھ متوفی نوجوان کے خاندانی ڈاکٹر کا بیان بھی جاری کیا ہے، جس میں وہ حادثہ میں لگی چوٹوں کے بارے میں معلومات دیتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ ڈاکٹر عبد الحکیم نے بتایا کہ موٹر سائکل حادثہ کے بعد وہ میرے پاس آیا تھا۔اس کے دائیں ران میں چوٹیں آئیں اور اس کی بائیں ٹانگ میں سوجن تھی ، جس کی وجہ سے انفیکشن ہوا تھا۔ گھر والوں نے بتایا کہ اسے چوٹ موٹر سائکل کے گرنے کی وجہ سے لگی تھی۔

وشواس نیوز نے اس معاملہ کو لے کر امبیڈکر نگر کے ایڈیشنل ایس پی اونیش کمار مشرا سے بات کی۔ انہوں نے بتایا، ’’متوفی کی پوسٹ مارٹم رپورٹ آچکی ہے اور اس کی موت کی وجہ پولیس کی پٹائی نہیں، بلکہ حادثہ میں لگی چوٹ کی وجہ سے ہوا انفیکشن ہے۔ اس کے جسم پر لاٹھی کی چوٹ کا کوئی نشان نہیں ہے۔ پولیس کی پٹائی کی وجہ سے ہوئی موت کا الزام بےبنیاد ہے۔ سی سی ٹی وی فوٹیج میں بھی ہمیں ایسا کوئی ثبوت نہیں ملا ہے، جس سے پولیس کے ذریعہ ان کی پٹائی کی تصدیق ہوتی ہو‘‘۔

انہوں نے کہا،’’پولیس نے اس مقامی ڈاکٹر کا بھی بیان جاری کیا ہے۔ اس میں انہوں نے کہا تھا کہ وہ موٹر سائکل سے گرنے کے بعد علاج کے لئے ان کے پاس آیا تھا‘‘۔ وشواس نیوز کے پاس متوفی کے پوسٹ مارٹم کی رپورٹ کے کی کاپی ہے، جسے نیچے دیکھا جا سکتا ہے۔

نتیجہ: اترپردیش کے امبیڈکر ضلع کے ٹانڈا میں لاک ڈاؤن کے دوران پولیس کی پٹائی سے مسلم نوجوان کی موت کا دعویٰ غلط ہے۔

  • Claim Review : دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ اترپردیش کے ٹانڈا میں پولیس نے ایک مسلم نوجوان کو لاک ڈاؤن کی خلاف ورزی کرنے کے معاملہ میں پیٹ کر مار ڈالا
  • Claimed By : FB User- Faisal Najmi
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later