فیکٹ چیک: کیرالہ میں ایک عام سڑک حادثے کی ویڈیو کو نفرت انگیز جرم کے طور پر کیا جا رہا شیئر
وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں یہ دعویٰ فرضی پایا۔ جو ویڈیو وائرل ہو رہا ہے وہ کیرالہ میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ہے، جس کا کسی قسم کے نفرت انگیز جرائم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک عام حادثہ تھا۔ مزید یہ کہ کار کی ٹکر کے بعد کار ڈرائیور جائے حادثہ سے فرار نہیں ہوا بلکہ متاثرہ کی مدد کے لیے واپس آیا۔ تاہم وائرل کلپ میں یہ حصہ نہیں دکھایا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کار ڈرائیور ٹکر کے بعد جائے حادثہ سے فرار ہوگیا تھا۔
- By: Abhishek Parashar
- Published: May 2, 2025 at 06:44 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ مختلف سوشل میڈیا پلیٹ فارمز پر کار حادثے کی ویڈیو کلپ شیئر کی جا رہی ہے، جس میں بچے کے ساتھ چل رہی خاتون کو ایک کار کی زد میں آتے دیکھا جا سکتا ہے۔ صارفین اس ویڈیو کو شیئر کر رہے ہیں اور دعویٰ کر رہے ہیں کہ کار ڈرائیور نے خاتون کو اس لیے ٹکر ماری کیونکہ اس نے برقعہ پہن رکھا تھا اور یہ اس کی مسلم شناخت کی وجہ سے جان بوجھ کر کیا گیا۔
وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں یہ دعویٰ فرضی پایا۔ جو ویڈیو وائرل ہو رہا ہے وہ کیرالہ میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ہے، جس کا کسی قسم کے نفرت انگیز جرائم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک عام حادثہ تھا۔ مزید یہ کہ کار کی ٹکر کے بعد کار ڈرائیور جائے حادثہ سے فرار نہیں ہوا بلکہ متاثرہ کی مدد کے لیے واپس آیا۔ تاہم وائرل کلپ میں یہ حصہ نہیں دکھایا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کار ڈرائیور ٹکر کے بعد جائے حادثہ سے فرار ہوگیا تھا۔
کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟
سوشل میڈیا صارف ‘ماسٹر جی’ نے وائرل ویڈیو شیئر کرتے ہوئے لکھا، “بھارت پر دہشت گردوں کا راج ہے، وہ بھارت میں مسلمانوں کے ساتھ ویسا ہی سلوک کر رہے ہیں، وہ اسرائیل کی طرح انسانی حقوق کی خلاف ورزی کر رہے ہیں۔ اقوام متحدہ کے انسانی حقوق دی وحشی انسان”۔
اسی تناظر میں کئی دیگر صارفین نے اس ویڈیو کلپ کو نفرت انگیز جرم قرار دیتے ہوئے شیئر کیا ہے۔
پڑتال
وائرل ویڈیو کے کی فریموں کو ریورس امیج تلاش کرنے پر، ہمیں کیرالہ کے مقامی نیوز پورٹل ماتربھومی ڈاٹ کام کی ایک رپورٹ ملی، جس میں اس واقعے کا ذکر کیا گیا تھا۔
رپورٹ کے مطابق، “کوٹکل، ملاپورم میں ایک پیدل چلنے والے کو کار نے ٹکر مار دی۔ حادثہ اس وقت پیش آیا جب وہ اپنے بچے کے ساتھ چل رہی تھی۔ خاتون کو شدید چوٹیں آئیں اور بچہ معجزانہ طور پر بچ گیا۔ حادثہ گزشتہ ہفتہ کو کوٹکل ایچ ایم ایس اسپتال کے قریب پیش آیا جس میں سواگاتماڈو، کوٹاککل کی رہنے والی بدریا زخمی ہو گئی۔ حادثہ کے وقت وہ اپنے بیے امیر محمد کو لینے کے لے آنگنباڑی سے واپس آرہی تھی۔ بدریا کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے۔
انڈیا ٹوڈے کی 2 مئی کی رپورٹ میں بھی اس واقعے کا ذکر ہے۔ رپورٹ میں ہمیں اس واقعے کی اصل اور مکمل ویڈیو ملی، جس میں دیکھا جا سکتا ہے کہ کار کی ٹکر کے بعد کار ڈرائیور زخمی خاتون کی مدد کے لیے واپس آتا ہے۔
اطلاعات کے مطابق خاتون کا اسپتال میں علاج چل رہا ہے اور وہ محفوظ ہے۔ ہم نے اس واقعہ کے حوالے سے کوٹکل پولیس اسٹیشن سے رابطہ کیا۔ سرکل انسپکٹر سنگیت پوناتھل نے ہمیں بتایا کہ یہ نفرت انگیز جرم نہیں تھا بلکہ کار کی تیز رفتاری کی وجہ سے ایک عام سڑک حادثہ تھا۔
اس کا مطلب یہ دعوی غلط ہے کہ کار ڈرائیور نے خاتون کو اس لیے ٹکر ماری کہ وہ مسلمان تھی۔
ہمیں اس واقعے کے بارے میں اخبار میں شائع ہونے والی خبر کا اسکرین شاٹ ماتر بھومی اخبار کے مقامی بیورو سے بھی ملا، جس میں کہیں بھی نفرت انگیز جرائم کا ذکر نہیں ہے۔

جعلی اور اشتعال انگیز فرقہ وارانہ دعووں کے ساتھ وائرل ویڈیو کو شیئر کرنے والے صارف کی سوشل اسکیننگ میں ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی جانچ میں یہ دعویٰ فرضی پایا۔ جو ویڈیو وائرل ہو رہا ہے وہ کیرالہ میں پیش آنے والے ایک واقعے کا ہے، جس کا کسی قسم کے نفرت انگیز جرائم سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ ایک عام حادثہ تھا۔ مزید یہ کہ کار کی ٹکر کے بعد کار ڈرائیور جائے حادثہ سے فرار نہیں ہوا بلکہ متاثرہ کی مدد کے لیے واپس آیا۔ تاہم وائرل کلپ میں یہ حصہ نہیں دکھایا گیا ہے جس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ کار ڈرائیور ٹکر کے بعد جائے حادثہ سے فرار ہوگیا تھا۔
- Claim Review : کار ڈرائیور نے خاتون کو اس لیے ٹکر ماری کیونکہ اس نے برقعہ پہن رکھا تھا اور یہ اس کی مسلم شناخت کی وجہ سے جان بوجھ کر کیا گیا۔
- Claimed By : X User- Shariful Haque Dalim
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











