فیکٹ چیک: دیواروں پر قندہ قرآنی آیات کا یہ ویڈیو مصر کی مسجد کا ہے، ازبکستان کا نہیں
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں دعوی گمراہ کن پایا۔ یہ ویڈیو مصر کی دارالحکومت قائرہ کا ہے۔ قائرہ میں بنے اسلامی ثقافتی سینٹر کے اس ویڈیو کو کو ازبکستان کے حوالے سے شیئر کیا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Dec 5, 2024 at 02:21 PM
- Updated: Dec 5, 2024 at 04:49 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ ایک مرتبہ پھر سے ایک بار ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں دیواروں پر قرآن کی آیات لکھی ہوئی نظر آرہی ہیں۔ مختلف پلیٹ فارمز پر ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ وائرل ویڈیو ازبکستان کے شہر بخارا کا ہے اور یہ وہیں کی مسجد ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں دعوی گمراہ کن پایا۔ یہ ویڈیو مصر کی دارالحکومت قائرہ کا ہے۔ قائرہ میں بنے اسلامی ثقافتی سینٹر کے اس ویڈیو کو کو ازبکستان کے حوالے سے شیئر کیا جا رہا ہے۔
کیا ہےوائرل پوسٹ میں؟
فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’ازبیکستان کے شہر بخارا میں دنیا کا واحد قرآنی مصحف جو دیواراوں میں کندہ ہے۔ 30 پاروں کے لئے 30 الگ الگ کمرے۔ جن کی دیواروں پر خوبصورت خط نسخ میں قرآن کرین کندہ کیا گیا ہے۔ بہت سے خوبصورت ۔نظارہ ہے‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال
یہ ویڈیو اس سے قبل بھی ہم نے فیکٹ چیک کیا ہے اس وقت اپنی پڑتال میں ہمیں یہ ویڈیو ایک ایکسٹرا نیوز نام کے ویری فائڈ یوٹیوب چینل پر اپلوڈ ہوا ملا تھا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ ویڈیو مصر کے اسلامی ثقافتی مرکز میں قرآن پاک ہاؤس کا ہے۔
سرچ کئے جانے پر ہمیں اس معاملہ سے متعلق خبر ’اجیپٹ ٹوڈے‘ کی نیوز ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ ہوا ملی۔ یہاںخبر کو 23 مارچ 2023 کو اپلوڈ کیا گی ہے۔ وہیں دی گئی معلومات کے مطابق، ’’صدر جمہوریہ عبدالفتاح السیسی نے آج جمعرات کو مصر کے اسلامی ثقافتی مرکز میں، نئے انتظامی دارالحکومت میں، وزراء اور عرب وفود کے ایک گروپ کی موجودگی میں ایوان نوبل قرآن کا معائنہ کیا۔ جمہوریہ کے صدر کے مشیر برائے مذہبی امور ڈاکٹر اسامہ الازہری نے مصر کے اسلامک کلچرل سنٹر میں ایوانِ نوبل قرآن کا جائزہ لیا اور اس بات کی نشاندہی کی کہ قرآن پاک کے کچھ حصے مکمل طور پر کندہ ہیں۔ گھر کی دیواریں، کیونکہ ہر کمرے میں قرآن کا ایک حصہ شامل ہے‘‘۔ اس معاملہ سے متعلق خبر یہاں بھی پڑھی جا سکتی ہے۔

ہمیں اس ثقافتی مرکز کی افتتاحی تقریب کی معلومات مصری حکومت کی ویب سائٹ ‘اسٹیٹ انفارمیشن سروس’ پر ملی۔ جسے یہاں پڑھا جا سکتا ہے۔
اس سے قبل ہم نے ویڈیو کی تصدیق کے لئے مصر کے فیکٹ چیکر محمد صدام سے رابطہ کیا تھا اور انہوں نے ہمیں بتایا تھا کہ یہ ویڈیو قائرہ میں بنے اسلامک ثقافتی سنٹر کا ہے۔
اب باری تھی گمراہ کن پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں دعوی گمراہ کن پایا۔ یہ ویڈیو مصر کی دارالحکومت قائرہ کا ہے۔ قائرہ میں بنے اسلامی ثقافتی سینٹر کے اس ویڈیو کو کو ازبکستان کے حوالے سے شیئر کیا جا رہا ہے۔
- Claim Review : وائرل ویڈیو ازبکستان کے شہر بخارا کا ہے اور یہ وہیں کی مسجد ہے۔
- Claimed By : FB User- Mh Hussain
- Fact Check : گمراہ کن
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











