X
X

فیکٹ چیک: پہلگام حملے کے بعد سرحد پر فوجی گاڑیوں کو روکے جانے کا دعوی فرضی، 2009 کا تمل ناڈو کا ویڈیو پاکستان سے غلط حوالے سے وائرل

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں نے پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ اس ویڈیو کا جموں و کشمیر یا پہلگام حملے سے کوئی تعلق نہی ہے۔ مذکورہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو تمل ناڈو کا سال 2009 کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو فرضی دعو کے ساتھ پاکستان سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: May 6, 2025 at 06:22 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں کچھ لوگوں کو فوجی ٹرک پر توڑ پھوڑ کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو پاکستان سے شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ یہ ویڈیو جموں و کشمیر کا ہے جہاں کی عوام نے سرحد پر جا رہی فوجی گاڑیوں کو روک کر سامان لوٹ لیا۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں نے پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ اس ویڈیو کا جموں و کشمیر یا پہلگام حملے سے کوئی تعلق نہی ہے۔ مذکورہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو تمل ناڈو کا سال 2009 کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو فرضی دعو کے ساتھ پاکستان سے پھیلایا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو 5 مئی کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’بھارت میں اس وقت عوام فوج کے سخت خلاف ہوئی ہے – بارڈر پر جاتی ہوئی فوج پر لوگوں کا حملہ عوام نے گاڑیوں سے سازو سامان یہ کہتے ہوئے لوٹ لیا کہ ہمارے ٹیکس کے پیسوں پر عیاشی کرتے ہو اور ہمیں سیکیورٹی بھی نہیں دے سکتے۔ پہلگام فالز فلیگ نے بھارتی فوج کو عوام کے آگے بلکل برہنہ کر دیا‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ ویڈیو ایک یوٹیوب چینل پر 4 مئی 2009 کو اپلوڈ کیا ہوا ملا۔ یہاں ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، ”تمل حامی پیریار دراویدار کزگم (پی ڈی کے) سے تعلق رکھنے والوں نے ہندوستانی فوج کے فوجی ٹرکوں کے قافلے پر حملہ کیا‘‘۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں ایک اور بھی یوٹیوب چینل پر وائرل ویڈیو اپلوڈ کیا ہوا ملا۔ مئی 2009 کو اپلوڈ ہوئے ویڈیو کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، تمل حامی پی ڈی کے نے ہندوستانی فوج کے ٹرکوں کے قافلے پر حملہ کیا۔ اس حملے میں پانچ ٹرکوں کو نقصان پہنچا ہے۔

اس معاملہ سے متعلق مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں ہندوستان ٹائمز کی ویب سائٹ پر 2 مئی 2009 کو شائع ہوئی خبر ملی۔ یہاں خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، ’آج شام کو کوئمبٹور کے قریب ایک فوجی قافلے پر ناراض سیاسی مظاہرین کے ایک گروپ نے حملہ کیا۔ مظاہرین نے غلطی سے یہ سوچ کر حملہ کر دیا کہ قافلہ سری لنکا میں تملوں کے خلاف فوجی کارروائی کرنے والی راجا پاکسے حکومت کی حمایت کے لیے اسلحہ اور گولہ بارود لے کر جا رہا ہے‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

اب تک کی پڑتال سے یہ تو واضح تھا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2009 کا اور تمل ناڈو کا ہے۔ حالاںکہ پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے یہ جاننے کی کوشش کی کہ کیا پہلگام حملے کے بعد جموں و کشمیر میں فوج کے کسی قافلے روکیا گیا اور اس پر حملہ ہوا ہے۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں اس معاملہ سے متعلق کوئی حالیہ متعلقہ خبر نہیں حاصل ہوئی۔

وائرل دعوی سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے جموں و کشمیر کے ڈائریکٹوریٹ آف انفارمیشن اینڈ پبلک ریلیشنز کے سچن بالی سے رابطہ کیا اور انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ یہ دعوی بالکل غلط اور بےبنیاد ہے، پہلگام حملے کے بعد کسی بھی فوجی قافلے کو نا ہی لوٹا گیا ہے اور نا ہی حملہ کیا گیا ہے۔ لوگوں کو سرحد پار سے پھیلائی جا رہی ایسی افواہوں سے دور رہنا چاہئے‘‘۔

اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں نے پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ اس ویڈیو کا جموں و کشمیر یا پہلگام حملے سے کوئی تعلق نہی ہے۔ مذکورہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو تمل ناڈو کا سال 2009 کا ہے۔ پرانے ویڈیو کو فرضی دعو کے ساتھ پاکستان سے پھیلایا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : یہ ویڈیو جموں و کشمیر کا ہے جہاں کی عوام نے سرحد پر جا رہی فوجی گاڑیوں کو روک کر سامان لوٹ لیا۔
  • Claimed By : FB Page- Pti Balochistan
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later