X
X

فیکٹ چیک: ’پاکستان زندہ باد‘ کے نعرے کے پرانے ویڈیو کو کیا جا رہا فرضی دعوی سے وائرل

آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے اے آئی ایم) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے اسٹیج کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Oct 25, 2025 at 06:16 PM

نیو دہلی (وشواس نیوز)۔ آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے اے آئی ایم) کے سربراہ اور رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے اسٹیج کا ایک ویڈیو سوشل میڈیا پر وائرل ہو رہا ہے۔ وائرل ویڈیو میں اویسی کو اسٹیج سے اترتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ اسی دوران ایک لڑکی اسٹیج پر چڑھ کر مبینہ طور پر پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے لگتی ہے۔

نعرے لگتے ہی اسٹیج پر ہڑکمپ مچ جاتا ہے اور اویسی لڑکی سے مائیک لینے اور اسے نیچے اترنے کے لیے کہتے ہیں۔ اب اسی ویڈیو کو حالیہ بتاتے ہوئے اویسی کو نشانہ بنا کر شیئر کیا جا رہا ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا ویڈیو سال 2020 کا ہے۔ شہریت (ترمیمی) قانون کے احتجاج میں منعقدہ اویسی کی ریلی میں اسٹیج پر ’پاکستان زندہ باد‘ کا نعرہ امولیا لیونہ نامی طالبہ نے لگایا تھا، جس کا اویسی نے بھی مخالفت کی تھی۔ وہیں، اس واقعہ کے بعد امولیا لیونہ کے خلاف بغاوت کا کیس درج کر کے اسے گرفتار کر لیا گیا تھا۔

وائرل پوسٹ میں کیا ہے؟

انسٹا گرام صارف ‘ہری سروج’ نے 4 اکتوبر کو وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، “اویسی کے اسٹیج پر لگے پاکستان زندہ باد کے نعرے۔”

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے وائرل ویڈیو کے کی فریمز نکالے اور گوگل لینس کے ذریعے سرچ کیا۔ سرچ کرنے پر ہمیں روزنامہ جاگرن کی 21 فروری 2020 کی خبر ملی۔ خبر میں دی گئی معلومات کے مطابق، “کرناٹک کے بنگلورو میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین کے صدر اسد الدین اویسی ایک ریلی سے خطاب کرنے جا رہے تھے کہ ایک لڑکی ان کے اسٹیج پر پہنچی اور پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے لگی۔ اس دوران اسد الدین اویسی بھی اسٹیج پر موجود تھے اور انہوں نے اس کی مخالفت کی۔ اس کے بعد لڑکی سے مائیک چھین لیا گیا، لیکن پھر بھی وہ پاکستان کی حمایت میں نعرے لگاتی رہی۔ لہٰذا منتظمین نے فوری طور پر پولیس کو بلایا۔ پولیس نے مظاہرہ کرنے والی لڑکی کو حراست میں لے لیا اور تھانے لے گئی۔ مظاہرہ کرنے والی لڑکی کی شناخت امولیا لیونہ کے طور پر ہوئی۔

دی ہندو کی 21 فروری 2020 کی خبر میں بتایا گیا، “شہریت ترمیمی قانون” کے خلاف منعقدہ ایک مظاہرے میں اس وقت ہنگامہ مچ گیا جب اے آئی ایم آئی ایم کے سربراہ اسد الدین اویسی کی موجودگی میں اسٹیج پر بولنے آئی ایک طالبہ نے اچانک “پاکستان زندہ باد” کے نعرے لگا دیے۔ طالبہ کو گرفتار کر کے اس پر بغاوت کا مقدمہ کر دیا گیا ہے۔

اسی بنیاد پر ہم نے اپنی پڑتال کو آگے بڑھایا اور ہمیں اس واقعہ سے جڑی خبر 21 فروری 2020 کو آج تک کی ویب سائٹ پر ملی۔ دی گئی معلومات کے مطابق، امولیا لیونہ کے متنازع نعروں کو سن کر نہ صرف سیاست سلگ رہی ہے، بلکہ خود اس کے والد نے بیٹی کے بیانات سے پلّہ جھاڑ لیا ہے۔ چکمنگلور میں والد جے ڈی ایس کے رہنما ہیں، لیکن کہتے ہیں کہ بیٹی کے بیانات سے ان کا کوئی لینا دینا نہیں ہے۔

نیوز سرچ کرنے پر ہمیں نیو انڈین ایکسپریس کی 20 جولائی 2020 کی خبر کے مطابق، کرناٹک ہائی کورٹ نے وکیل ایچ ایل وشالا رگھو کی اس درخواست کو مسترد کر دیا، جس میں امولیا لیونہ کے بغاوت کے مقدمہ کی تفتیش این آئی اے کو سونپنے کی مانگ کی گئی تھی۔ عدالت نے کہا کہ یہ معاملہ این آئی اے تفتیش کے قابل نہیں ہے۔ امولیا کو فروری 2020 میں سی اے اے مخالف ریلی میں “پاکستان زندہ باد” نعرہ لگانے پر گرفتار کیا گیا تھا اور جون میں ضمانت ملی تھی۔

وائرل ویڈیو سے جڑی تصدیق کے لیے ہم نے کرناٹک کے سینئر صحافی یاسر مشتاق سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ ویڈیو کئی سال پرانا ہے، اس معاملے کو انہوں نے خود کور کیا تھا۔ مشتاق نے ہمیں امولیا کے حوالے سے بتایا، “اس کا کسی پارٹی سے تعلق نہیں تھا، وہ کچھ سوشل گروپس کے ساتھ جڑی ہوئی تھی۔”

اب باری تھی غلط پوسٹ کو شیئر کرنے والے انسٹا گرام صارف ‘ہری سروج’ کی سوشل سکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کو 381 لوگ فالو کرتے ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ 2020 میں بنگلورو میں منعقدہ ایک اجتماع کے دوران امولیا لیونہ نامی طالبہ کے پاکستان زندہ باد کے نعرے لگانے کی ویڈیو کو غلط طور پر حالیہ بنا کر پیش کیا جا رہا ہے، جس کی اس وقت اویسی نے بھی مخالفت کی تھی۔ پرانے ویڈیو کو جھوٹے دعوے کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : حال ہی میں اویسی کے اسٹیج پر 'پاکستان زندہ باد' کے نعرے لگائے گئے۔
  • Claimed By : Insta User- Hari Saroj
  • Fact Check : گمراہ کن

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later