فیکٹ چیک: سیریا کی صیدنایا جیل سے نکالے گئے قیدی کا یہ ویڈیو اصلی نہیں اے آئی سے بنا ہے
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ویڈیو اصل نہیں ہے۔ بلکہ اسے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ اے آئی ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ سیریا کی صیدنایا جیل سے رہا ہوئے قیدی کا بتاتے ہوئے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- By: Umam Noor
- Published: Dec 19, 2024 at 05:11 PM
- Updated: Dec 19, 2024 at 05:35 PM
نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ایک شخص کو کسی سرنگ جیسی قید سے مبینہ طور پر باہر آتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارفین دعوی کر رہے ہیں کہ سیریا کی صیدنایا جیل کا قیدی ہے جو گزشتہ 13 سالوں سے جیل میں قید تھا اور اب اسے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باہر نکالا گیا ہے۔
وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ویڈیو اصل نہیں ہے۔ بلکہ اسے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ اے آئی ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ سیریا کی صیدنایا جیل سے رہا ہوئے قیدی کا بتاتے ہوئے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
وائرل پوسٹ میں کیا ہے؟
وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے، فیس بک صارف نے لکھا، “شامی صحافی کے بقول،کہہ رہا ہے کہ( صیدیانا جیل) زیریں زمین ایسے قیدی دیکھے جو کسی نے بیس سال کسی نے 15,10,5,سال تک سورج کی روشنی تک نہیں دیکھا،اور اُن میں سے ایک یہ ہے جو 13,سال کے بعد پہلی بار روشنی میسر آئی،‘‘۔
پوسٹ کے آرکائیو کو ورژن یہاں دیکھیں ۔

پڑتال
اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے ویڈیو کو غور سے دیکھا۔ ویڈیو میں نظر آرہے شخص کے دانت اور ہاتھوں کی انگلیوں کی بناوٹ مختلف نظر آئی، وہیں یہ ویڈیو دیکھنے میں غیر حقیقی لگا جس سے ہمیں اس ویڈیو کے اے آئی سے بنے ہونے کا شبہ ہوا۔
اس بنیاد پر تحقیقات کا آغاز کرتے ہوئے، ہم نے وائرل ویڈیو کو اے آئی ویڈیو اور امیج ریکگنیشن ٹول ہائیو ماڈریشن پر اپ لوڈ کیا۔ یہاں ملنے والے نتائج کے مطابق، یہ 82 فیصد اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ (0-1 کے پیمانے پر) اس ویڈیو کو ’ہیلوو‘ کی مدد سے بنائے جانے کا امکان تقریباً پچاس فیصد (0.46) ہے۔

مزید سرچ کرتے ہوئے، ہم نے ہیلوو کو تلاش کیا اور ہیلوو اے آئی ڈاٹ ویڈیو نامی ویب سائٹ پر پہنچ گئے۔ اس میں دی گئی معلومات کے مطابق اس کے ذریعے اے آئی ویڈیوز اور مختصر کلپس بنائے جا سکتے ہیں۔

پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے اس ویڈیو کو ایک اور ٹول ‘اے آئی امیج ڈٹیکٹر ڈاٹ او آر جی’ پر بھی اپلوڈ کیا ۔ یہاں ملے نتائج کے مطابق یہ ویڈیو 79.55 فیصد مصنوعی ذہانت کے ذریعہ تیار کیا گیا ہے۔

ہم نے مزید تفصیلات کے لیے ڈی اے یو (ایم سی اے اقدام) سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمارے ساتھ ہائیوو اے آئی کا تجزیہ شیئر کیا، جس کے مطابق، اس ویڈیو کے اے آئی سے بنائے جانے کا امکان بہت زیادہ ہے اور ہیلوو سے اس کے بنائے جانے کا امکان سب سے زیادہ (0.97) ہے۔

ہائیو اے آئی اور ہائیو ماڈریشن ٹولز دونوں کا تجزیہ اس اعلی امکان کی تصدیق کرتا ہے کہ یہ ویڈیو ہیلوو پلیٹ فارم پر بنائی گئی تھی۔
پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے فیکٹ چیکرز کے لئے موجود اے آئی ٹول ویڈ ایڈوانس کی مدد سے وائرل ویڈیو کو سرچ کیا۔ ٹول نے ویڈیو کو 97 فیصد اے آئی بتایا۔
اب باری تھی اے آئی تصویر کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف نے خود سے متعلق کوئی بھی معلومات شیئر نہیں کی ہے۔ وہیں صارف کو43 لوگ فالوو کرتے ہیں۔
نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل ویڈیو اصل نہیں ہے۔ بلکہ اسے مصنوعی ذہانت یعنی اے آئی کے ذریعے بنایا گیا ہے۔ اے آئی ویڈیو کو فرضی دعوی کے ساتھ سیریا کی صیدنایا جیل سے رہا ہوئے قیدی کا بتاتے ہوئے فرضی دعوی کے ساتھ پھیلایا جا رہا ہے۔
- Claim Review : یہ قیدی 13 سالوں سے جیل میں قید تھا اور اب اسے بشار الاسد کی حکومت کے خاتمے کے بعد باہر نکالا گیا ہے۔
- Claimed By : FB User- Kashmiri kashmiri
- Fact Check : جھوٹ
مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں
سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔











