X

فیکٹ چیک: یوپی پولیس نے اس بچے کی مدد کی تھی، گرفتار کرنے کی خبر جھوٹی ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: July 9, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے، جس میں ایک تصویر استعمال کرتے ہوئے یوپی پولیس کو ٹارگیٹ کیا جا رہا ہے۔ اس تصویر میں 2 پولیس اہکاروں کے درمیان ایک چھوٹا سا بچا دکھائی دے رہا ہے، جس کے پیروں میں تالا اور زنجیر لگی ہوئی ہے۔ دعوی کیا جا رہا ہے کہ یوپی پولیس نے اس بچے کو اسلئے پکڑا، کیوں کہ یہ بچا مسلمان ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں وائرل پوسٹ کو فرضی پایا۔ 2 سال پہلے گوتم بدھ نگر میں پی آر وی 1873 نے اس بچے کی مدد کر اس بچے کو زنجیروں سے آزاد کروایا تھا۔ اب اسی معاملہ کی تصویر کو فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’عرفان مرزا’ نے وائرل تصویر کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’وکاس دوبے سے بھی خطرناک مجرم ہے۔ یہ اتنا بڑا گناہ گار ہے کہ آپ دیکھ سکتے ہیں۔ سر عام سر پر ٹوپی لگاکر گھومتا ہے اور مسلمان خاندان میں پیدہ ہوا ہے اور ان بہادر پولیس نے اسے گرفتار کر لیا ہے‘‘۔

پڑتال

گوگل رورس امیج سے پڑتال کی شروعات کرتے ہوئے ہم نے سچ کو تلاش کرنا شروع کیا۔ گوگل رورس امیج کرنے پر یہ صاف ہو گیا کہ وائرل تصویر کے ساتھ کیا جا رہا دعوی بالکل غلط ہے۔ ہمیں یہ تصویر یوپی پولیس کے ڈائل 112 کے آفیشیئل ٹویٹر ہینڈل پر ملی۔ اس تصویر کو 20 جنوری 2018 کو اپ لوڈ کیا گیا تھا اور اس کے ساتھ لکھا گیا تھا: ’’گوتم بدھ نگر۔ پی آر وی 1873 نے منگرولی پولیا جیور کے پاس زنجیروں سے جکڑے بچے کو جس میں تالا لگا تھا، کو زنجیروں سے مکت کر خاندان کو اطلاع دیتےہوئے تھانہ پہنچایا‘‘۔

مطلب یہ بات صاف ہے کہ اس بچے کو پولیس والوں نے بچایا تھا۔ یہ ٹویٹ آپ نیچے دیکھ سکتے ہیں۔

اب ہم نے سیدھے یو پی پولیس کے ڈائر 112 کے آفیشیئل ویب سائ کی جانب رخ کیا۔ سرچ کرنے پر ہمیں اس معاملہ سے منسلک ایک آفشیئیل دستاویز مل گیا۔ دستاویز کے مطابق معاملہ کی تفصیل:’پی آر وی 1873 کو تھانہ جیور کے اندر تاریخ 19.01.2018 کو وقت 0818 بجے ایونٹ 0828 کے ذریعہ کالر نے اطلاع دی کہ منگرولی پولیہ ہائی وے پر ایک زنجیر سے جکڑٓ ہوا بچہ ملا ہے جو بہت رو رہا ہے۔ اس معلومات پر پی آر وی نے فورا موقع پر پہنچ کر بچے کو اپنی سپردگی میں لیا، بچے کو زنجیروں سے آزاد کرا کر بچے سے بات کرنے پر معلوم ہوا کہ بچے کا نام عارف ولد اکبر رہائشی قریشیان قصبہ پلول ضلع فرید آباد، ہریانہ ہے۔ بچے کو مقامی تھانے کے سپرد کیا گیا۔ مقامی تھانہ سے معلومات کرنے پر معلوم ہوا کہ بچے کو تعلیم حاصل کرنے کے لئے مدرسہ بھیجا گیا تھا۔ بچے کو اس کے والد کے حوالے کر دیا گیا‘‘۔



مذکورہ معاملہ کو لے کر ہم نے دینک جاگرن کے گوتم بدھ نگر کرائم رپورٹر پراوین سے رابطہ کیا۔ پراوین نے تصویر کو دیکھتے ہوئے بتایا کہ یہ معاملہ 2 سال پرانا ہے اور اس بچے کو پولیس والوں نے بچایا تھا۔

پوسٹ کو فرضی دعوی کے ساتھ شیئر کرنے والے فیس بک صارف عرفان مرزا کی سوشل اسکیننگ کرنے پر پتہ چلا کہ اس صارف کو 403 صارفین فالوو کرتےہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل پوسٹ فرض؁ ہے۔ 2 سال پہلے گوتم بدھ نگر میں پی آر وی 1873 نے اس بچے کی مدد کر مذکورہ بچے کو زنجیروں سے آزاد کروایا تھا۔ اب اسی معاملہ کو فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : دعوی کیا جا رہا ہے کہ یوپی پولیس نے اس بچے کو اسلئے پکڑا، کیوں کہ یہ بچا مسلمان ہے
  • Claimed By : FB User- Irfan Mirza
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later