X

فیکٹ چیک: بنگلہ دیش میں ہرن کے شکار کے پرانے ویڈیو کو ہندوستان کا بتا کر کیا جا رہا ہے وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: May 10, 2021

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر آج کل ویڈیو وائرل ہو رہا ہے، جس میں ایک شخص کو ہرن کا شکار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں موجود شخص اپنی بندوق سے ہرن کے جھنڈ پر گولی چلاتا ہے اور ایک ہرن کو مار دیتا ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ دعوی کیا جا رہا ہے کہ ویڈیو میں موجود شخص بی جے پی ایم ایل اے انل اپادھیاے ہیں۔ ہم نے اپنی پڑتال میں پایا کہ یہ ویڈیو بنگلہ دیش کا ہے۔ ویڈیو میں موجود شخص ایک بنگلہ دیشی ہے، جو سڈنی میں رہتا ہے اور بنگلہ دیش کے چٹگاؤں میں اپنے فارم ہاؤس پر اس نے اس ہرن کا شکار کیا تھا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

وائرل پوسٹ میں ایک شخص ایک ہرن کا شکار کر رہا ہے۔ ویڈیو میں موجود شخص اپنی بندوق سے ایک ہرن کے جھنڈ پر گولی چلاتا ہے اور ایک ہرن کو مار گراتا ہے۔ اس پوسٹ کے ساتھ دعوی کیا جا رہا ہے، ’’سلمان خان ابھی بھی ہرنوں کے شکار کے لئے عدالتوں کا چکر لگا رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے اس ایم ایل اے انل اپادھائے ایک پارک میں ہرن کو گولی مار کر شکار کرنا سیکھ رہے ہیں۔ اسے وائرل کریں اور عدالت اسے سزا دے‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اس پوسٹ کی پڑتال کرنے کے لئے ہم نے اس ویڈیو کو ان ویڈ ٹول کی مدد سے کی فریمس نکالے اور انہیں گوگر رورس امیج پر سرچ کیا۔ سرچ میں ہمارے ہاتھ بنگلہ دیش کا سب سے بڑا انگریزی اخبار ڈیلی اسٹاف کی ایک خبر لگی، جس میں اس ویڈیو کا اسکرین شاٹ تھا۔ 12 جولائی 2015 کو شائع ہوئی ایک خبر میں لکھا تھا، ’’ترجمہ: ’’غیر حساسیت کے افسوسناک نمائش میں، ایک شخص نے چٹگاؤں میں اپنے غیر مجاز فارم میں نہ صرف ایک ہرن کو ہلاک کیا ، بلکہ اس کے ظلم کی ویڈیو کلپ بھی جاری کی، جس نے سوشل میڈیا پر غم و غصے پھیل گیا۔ خبر کے مطابق ، یہ ویڈیو معین الدین نام کے ایک فیس بک پیج سے اٹھا گیا ہے‘‘۔

ہمیں معین الدین کا فیس بک اکاؤنٹ ڈھنڈا اور معلوم ہوا کہ 13 جولائی 2015 کو اس صارف نے ایک پوسٹ شائع کی تھی، جس میں ڈیلی اسٹار کی اس خبر کے بارے میں بتایا گیا تھا۔ معین الدین کی اس پوسٹ کے مطابق ، وہ بنگلہ دیشی شہری ہے، جو آسٹریلیا میں رہتا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ بنگلہ دیش کے چٹگاؤں میں اس کا ایک فارم ہے ، جہاں وہ کچھ ہرن ، گائیں اور بہت سے دوسرے جانور رکھتا ہے۔ پوسٹ میں کہا گیا ہے کہ اس نے لائسنس شدہ بندوق سے ہرن کا شکار کیا۔ اس پوسٹ میں انہوں نے اس ہرن کو مارنے کے واقعہ پر بھی افسوس کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ وہ پھر سے ایسا نہیں کریں گے۔ تاہم ، اس ویڈیو کو صارف نے ڈلیٹ کردیا ہے۔

مزید تصدیق کے لئے ہم نے معین الدین کے فیس بک کے ذریعہ رابطہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ، ’یہ معاملہ پرانا ہے اور اس معاملہ میں پہلے ہی میں معفی مانگ چکا ہوں۔ یہ واقعہ میرے چٹگاؤں میں واقع فارم ہاوس کا تھا۔ ویڈیو میں، میں ہی تھا‘‘۔

اب ہم نے تفتیش کی کہ کیا بی جے پی میں انل اپادھیائے نام کا کوئی لیڈر ہے، جس نے ایسا کوئی کام کیا ہو؟ سرچ میں ہمیں انل اپادھیائے کے نام سے کوئی لیڈر نہیں ملا، جو بی جے پی سے جڑا ہوا ہے۔ مائے نیتا ڈاٹ انفو ویب سائٹ پر ہمیں انل اپادھیائے نام سے متعدد لیڈران کا ذکر ملا، لیکن ان میں سے کوئی بی جے پی س جڑا ہوا نہیں تھا۔



انیل اپادھیائے کے نام سے بی جے پی میں کوئی ایم ایل اے نہیں ہے۔ انیل اپادھیائے سوشل میڈیا پر ایک غیر حقیقی کردار ہیں ، جو بی جے پی ایم ایل اے کے نام پر مختلف ویڈیو اور تصاویر کے ذریعے وقتا فوقتا وائرل ہوتے ہیں۔ وشواس نیوز نے ماضی میں متعدد حقائق کی جانچ کی ہے ، جو یہاں پڑھ سکتے ہیں۔

اس پوسٹ کو متعدد لوگ سوشل میڈیا پر وائرل کر رہے ہیں۔ انہیں میں سے ایک ہیں سکھ کانگ نام کا ایک فیس بک صارف۔ پروفائل کے مطابق، صارف کا تعلق کویت سے ہے۔

نتیجہ: اپنی پڑتال میں ہم نے پایا کہ وائرل ویڈیو، جس میں ایک شخص کو ایک ہرن کا شکار کرتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے وہ بنگلہ دیش کا ہے، ہندوستان کا نہیں۔ بی جے پی میں انل اپدھیائےکے نام سے کوئی ایم ایل اے نہیں ہے۔ سوشل میڈیا پلیٹ فارم پر انل اپادھیائے ایک خیالی کردار ہے، جو وقتا فوقتا بی جے پی ایم ایل اے کے نام پر الگ الگ ویڈیو اور فوٹو کے ساتھ وائرل ہوتا رہتا ہے۔

  • Claim Review : سلمان خان ابھی بھی ہرنوں کے شکار کے لئے عدالتوں کا چکر لگا رہے ہیں۔ لیکن بی جے پی کے اس ایم ایل اے انل اپادھائے ایک پارک میں ہرن کو گولی مار کر شکار کرنا سیکھ رہے ہیں۔ اسے وائئرل کریں اور عدالت اسے سزا دے
  • Claimed By : Sukh Kang
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later