X
X

فیکٹ چیک: آر ایس ایس کارکنان نے نہیں کیا کرنل صوفیہ قریشی کے گھر حملہ، فرضی فرقہ وارانہ دعوی وائرل

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ کرنل صوفیہ قریشی کے کرناٹک کے بیلاگوی کے گھر میں کسی طرح کا کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔ وہیں اس پوسٹ کے ساتھ شیئر کی جا رہی تصویر کا بھی کرنل قریشی کے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تصویر 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کرناٹک کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ہوئے حملہ کی ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: May 19, 2025 at 06:25 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ کرنل صوفیہ قریشی کو لے کر مدھیہ پردیش کے وزیر وجے شاہ نے گزشتہ روز ایک متنازعہ بیان دیا تھا، اسی کے بعد سے سوشل میڈیا پر ایک تصویر وائرل ہو رہی ہے۔ وائرل تصویر میں نظر آرہے کمرے میں حملے کے بعد کے منظر کو دیکھا جا سکتا ہے۔ تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کیا جا رہا ہے کرنل صوفیہ قریشی کے کرناٹک کے گھر میں آر ایس ایس کے لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ اور یہ اسی کی تصویر ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ کرنل صوفیہ قریشی کے کرناٹک کے بیلاگوی کے گھر میں کسی طرح کا کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔ وہیں اس پوسٹ کے ساتھ شیئر کی جا رہی تصویر کا بھی کرنل قریشی کے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تصویر 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کرناٹک کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ہوئے حملہ کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’بڑی خبر کرنل صوفیہ قریشی — آر ایس ایس کی نفرت کا نیا نشانہ کرنل صوفیہ قریشی، بھارتی فوج کی مسلمان افسر، جنہیں حال ہی میں اچانک بھارتی فوج کی ترجمان مقرر کیا گیا، اُن کے خاندان کو ہندو_انتہا پسند تنظیم آر ایس ایس کے غنڈوں نے نشانہ بنایا ہے۔ باوثوق ذرائع کے مطابق، کرناٹک کے شہر بیلگاوی میں واقع اُن کے آبائی گھر پر رات تقریباً 3 بجے حملہ کیا گیا، جہاں اُن کے بیٹے سمیر کو بہیمانہ تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ حملہ آور اُن کی بیٹی حنیما کو ڈھونڈتے رہے، جو خوش قسمتی سے اُس وقت دہلی میں موجود تھی اور یوں بچ گئی۔ حملہ آوروں نے اہل خانہ کو سنگین دھمکیاں دیں، گھر کو آگ لگا دی، اور نعرے لگاتے ہوئے کہا: “ہندوستان میں مسلمانوں کی کوئی جگہ نہیں… یہ ہندوتوا کا دیش ہے!” باوثوق ذرائع کے مطابق، بھارتی فوج نے کرنل صوفیہ قریشی کو اپنی نقل و حرکت محدود رکھنے کا حکم دیا ہے، جبکہ اُن کے تمام اہل خانہ کو بیلگاوی سے دہلی منتقل کر دیا گیا ہے، کیونکہ اُن کا نام اب آر ایس ایس کی ہٹ لسٹ میں شامل ہو چکا ہے‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے گوگل لینس کے ذریعہ وائرل تصویر کو سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر ڈیکن ہیرالڈ کی نیوز ویب سائٹ پر اپلوڈ کی ہوئی ملی۔

ڈیکن ہیرالڈ کی 26 اپریل 2024 کی خبر کے مطابق، ’’کرناٹک کے چماراجن گاؤں میں لوک سبھا انتخابات 2024 کی ووٹنگ کا بائیکاٹ کرتے ہوئے پولنگ بوتھ پر پتھراؤ کیا گیا‘‘۔

اسی بناد پر سرچ کئے جانے پر ہمیں اس معاملہ سے متعلق خبر نیو انڈئن ایکسپریس کی ویب سائٹ پر 27 اپریل 2024 کو شائع ہوئی ملی۔ خبر میں بتایا گیا کہ، ’مالے مہادیشورا وائلڈ لائف سینکچری کے اندیگناتھا گاؤں میں جمعہ کو اس وقت کشیدگی پھیل گئی جب لوگوں نے وہاں کے ایک پولنگ بوتھ میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں (ای وی ایم) کو آگ لگا دی۔ مشتعل افراد نے اپنے گاؤں میں پینے کے پانی، سڑکوں اور بجلی جیسی بنیادی سہولیات کی کمی کے خلاف احتجاج میں پولنگ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔ انہوں نے الزام لگایا کہ مقامی عہدیداروں نے کچھ نہیں کیا، اسلئے سب نے مل کر اس بار پولنگ کا بائیکاٹ کرنے کا فیصلہ کیا‘‘۔

یہ تصویر ای ٹی وی بھارت کی ویب سائٹ پر بھی اپلوڈ کی ہوئی۔ 27 اپریل 2024 کی خبر کے مطابق، ’الیکشن کمیشن نے ہفتے کے روز اعلان کیا کہ کرناٹک کے چامراج نگر پارلیمانی حلقہ کے تحت ہنور کے ایک پولنگ اسٹیشن پر 29 اپریل (پیر) کو دوبارہ پولنگ ہوگی۔ دریں اثنا، پولیس نے کہا کہ ہنور تعلقہ کے انڈیگنٹا گاؤں میں پیش آئے اس واقعہ کے سلسلے میں اب تک 25 ملزمان کو گرفتار کیا گیا ہے‘‘۔

اب تک کی پڑتال سے یہ تو واضح تھا کہ وائرل کی جا رہی تصویر کا تعلق ووٹنگ سے اور 2024 سے ہے۔ اپنی پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے وائرل پوسٹ میں کئے جا رہے دعوی سے متعلق نیوز سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں ایسی کوئی قابل اعتماد رپورٹ نہیں ملی جس میں اس بات کا ذکر ہو کرنل صوفیہ قریشی کے کرناٹک کے گھر میں کسی قسم کا کوئی حملہ ہوا ہو۔

قابل غور ہے کہ کرنل صوفیہ قریشی کے شوہر کا آبائی مکان کرناکٹ کے بیلاگوی کے کنوور گاؤں میں ہے۔ وائرل دعوی سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے بیلاگوی کے ایس پی (سوپرنٹیڈنینٹ آف پولیس) بھیماشنکر گولیڈ سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ، کرنل صوفیہ قریشی کے گھر کوئی حملہ نہیں ہوا ہے، یہ ایک فرضی خبر ہے جو کئی روز سے سوشل میڈیا پر گردش کر رہی ہے لیکن یہ بالکل غلط ہے‘‘۔

ڈیکن ہیرالڈ کی 15 مئی کی خبر کے مطابق، کرنل صوفیہ قریشی کے کرناٹک کے گھر میں حملہ کو لے کر پھیل رہی اس فرضی خبر کے مطابق میں ایف آئی آر بھی ہوئی ہیں۔ مکمل خبر یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق جموں و کشمیر سے ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ کرنل صوفیہ قریشی کے کرناٹک کے بیلاگوی کے گھر میں کسی طرح کا کوئی حملہ نہیں ہوا ہے۔ وہیں اس پوسٹ کے ساتھ شیئر کی جا رہی تصویر کا بھی کرنل قریشی کے کوئی تعلق نہیں ہے۔ یہ تصویر 2024 کے لوک سبھا انتخابات کے دوران کرناٹک کے ایک پولنگ اسٹیشن میں ہوئے حملہ کی ہے۔

  • Claim Review : کرنل صوفیہ قریشی کے کرناٹک کے گھر میں آر ایس ایس کے لوگوں نے حملہ کر دیا ہے۔ اور یہ اسی کی تصویر ہے۔
  • Claimed By : FB User- Umar Zarrar
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later