X

فیکٹ چیک:عدالت عظمی نے این آر سی/ سی اے اے سے منسلک نہیں دیا کوئی فیصلہ، نہ ہی اویسی نے کی ’ایسی‘ کوئی اپیل

  • By Vishvas News
  • Updated: January 20, 2020

نئی دہلی (وشواو نیوز)۔ سوشل میڈیا پر آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اور حیدرآباد سے لوک سبھا رکن پارلیمنٹ اسد الدین اویسی کے نام سے ایک اپیل وائرل ہو رہی ہے۔ اس میں مبینہ طور پر اویسی کے حوالے سے سی اے اے اور این آر سی کو لے کر اپیل کی گئی ہے۔ اس میں مبینہ طور سے سپریم کورٹ کا بھی حوالا دیا گیا ہے۔

وشواس نیوز نے جب اس پوسٹ کی پڑتال کی تو یہ فرضی نکلی۔ ہم نے پایا کہ نہ ہی اسد الدین اویسی نے ایسی کوئی اپیل مسلمانوں سے کی ہے اور نہ ہی سپریم کورٹ نے سی اے اے/ این آر سی کو لے کر اب تک (20 جنوری 2020)کوئی فیصلہ سنایا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

سوشل میڈیا صارف ’نوشاد اختر انصاری‘ نے 16 جنوری 2020 کو ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں اسد الدین اویسی کی تصویر بنی تھی اور لکھا تھا: ’’ اسد الدین اویسی، اپیل! اپیل!! اپیل!!! سبھی مسلم مرد اور خواتین سے میری گزارش ہے کہ، میری بات کو غور سے پڑھیں اور دوسروں تک پہنچائے۔ سی سی اے اور این آر سی کا معاملہ اب سپریم کورٹ میں پہنچ چکا ہے جس میں یہ بات طے کی گئ ہے کہ، 4 کروڑ مسلمانوں کا آئی ڈی کے ساتھ دستخط کورٹ میں پیش ہو گئے تو یہ تمام بل ہندوستان میں پاس ہو جائیں گے۔ اسلئے مہربانی کر کے کسی کو اپنا کوئی آئی ڈی اور نہ کسی کاغذ پر دستخط کریں۔ ہر مسلمانوں سے گزارش ہے کہ، اللہ کے واستے اسے زیادہ سے زیادہ شیئر کریں‘‘۔

پڑتال کئے جانے تک اس پوسٹ کو 379 صارفین شیئر کر چکے ہیں۔

پڑتال

دعوےٰ کی پڑتال کے لئے ہم نے سب سے پہلے ’’اسد الدین اویسی+اپیل + سی اے اے این آر سی+ سپریم کورٹ+ 4 کروڑ مسلمان‘‘ انگریزی میں کی ورڈ ڈال کر گوگل میں سرچ کیا، لیکن ہمارے ہاتھ ایسی کوئی خبر نہیں لگی۔

وائرل کی جا رہی اپیل کی سچائی جاننے کے لئے ہم اے آئی ایم آئی ایم کے ٹویٹر ہینڈل ایٹ اے آئی ایم آئی ایم نیشنل پر بھی گئے، لیکن وہاں ہمارے ہاتھ ایسی کوئی اپیل نہیں لگی۔

ہم نے اسد اویسی کے ٹویٹر ہیڈل ایٹ اسد اویسی کی بھی اسکیننگ کی، لیکن وہاں بھی ہمیں وائرل کنٹینٹ جیسی کوئی اپیل نہیں ملی۔

اسد الدین اویسی کے فیس بک پیج پر بھی ہمیں ایسی کوئی اپیل نہیں ملی۔

وائرل اپیل کی حقیقت جاننے کے لئے وشواس نیوز نے سیدھے اسد الدین اویسی سے رابطہ کیا۔ انہوں نے وشواس نیوز کو بتایا کہ وائرل اپیل پوری طرح فرضی اور بکواس ہے۔ انہوں نے ایسی کوئی اپیل نہیں کی ہے۔

اب یہ بات تو صاف ہو چکی تھی کہ وائرل کی جا رہی اپیل فرضی ہے، لیکن اس پوائینٹ کی پڑتال کرنی باقی تھی کہ کیا سپریم کورٹ کی جانب سے ’ 4 کروڑ مسلمانوں کا آئی ڈی کے ساتھ دستخط کورٹ میں پیش ہو گئے تو یہ تمام بل ہندوستان میں پاس ہو جائیں گے‘‘ جیسا کوئی فیصلہ آیا ہے۔ یہ جاننے کے لئے ہم نے دینک جاگرن کی لیگل بیورو ہیڈ مالا دکشت سے بات کی اور انہوں نے بتایا، ’’سی اے اے کو لے کر اب تک 60 سے زیادہ عرضیاں داخل ہو چکی ہیں۔ سپریم کورٹ نے تمام عرضیوں کو نوٹس میں لیا ہے۔ اب تک سپریم کورٹ کی جانب سے کوئی فیصلہ نہیں آیا ہے، 22 جنوری کو اس پر سماعت ہوگی‘‘۔

سرچ میں ہمیں دیکن جاگرن کی خبر بھی ملی، جس میں بتایا گیا ’’سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ 22 جنوری کو سے اے اے سے متعلقہ عرضیوں پر ماعت ہوگی‘‘۔ مکمل خبر یہاں پڑھیں۔

اب باری تھی نوشاد اختر انصاری کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق کانپور سے ہے علاوہ ازیں اس پروفائل سے اس سے قبل بھی فرضی پوسٹ شیئر کی جا چکی ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں اسد الدین کے نام سے وائرل کی جا رہی اپیل کو فرضی پایا۔ اویسی نے یہ اپیل جاری نہیں کی ہے۔ اور نہ ہی سپریم کورٹ نے اب تک (20 جنوری 2020) سی اے اے کو لے کر داخل کی گئی عرضیوں پر کوئی فیصلہ نہیں سنایا ہے۔

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

  • وہاٹس اپپ 9205270923
  • ٹیلیگرام 9205270923
  • ای میل contact@vishvasnews.com
جانیں سچی اور فرضی خبروں کی حقیقت کوئز کھیلیں اور خبروں کی حقیقت چیک کرنے کا طریقہ سیکھیں

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later