فیکٹ چیک: جاوید اختر کے نام پر فرضی بیان ہو رہا ہے وائرل

0

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر آج کل معروف نغمہ نگار جاوید اختر کی تصویر کے ساتھ ایک پوسٹ وائرل ہو رہی ہے جس میں لکھا ہے، ’’مسلم اکثریتی کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو گھرواپسی نہیں کرنے دے رہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو بھی ہندوستان سے نکالا جائے۔ ہندوستان سکیولر ملک ہے، ہندووں کے باپ کی جاگیر نہیں‘‘۔ ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ پوسٹ غلط ہے۔ جاوید اختر نے ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

دعویٰ

وائرل پوسٹ میں معروف نغمہ نگار جاوید اختر کی تصویر کے ساتھ لکھا ہے، ’’مسلم اکثریتی کشمیر میں ہندو پنڈتوں کو گھرواپسی نہیں کرنے دے رہے اس کا یہ مطلب نہیں ہے کہ روہنگیا مسلمانوں کو بھی ہندوستان سے نکالا جائے۔ ہندوستان سکیولر ملک ہے، ہندووں کے باپ کی جاگیر نہیں‘‘۔

فیکٹ چیک

اس خبر کی پڑتال کے لئے ہم نے سب سے پہلے اس خبر کو مین اسٹریم میڈیا پر تلاش کیا پر کسی بھی بڑے میڈیا ادارے نے اس خبر کو نہیں چلایا تھا۔ اس کے بعد ہم نے جاوید اختر کے سوشل میڈیا اکاؤنٹ کو اسکین کیا۔ جاوید اختر کا کوئی بھی ویری فائڈ فیس بک اکاؤنٹ نہیں ہے اسلئے یہ کہہ پانا مشل ہے کہ وہ فیس بک پر ہیں بھی یا نہیں۔ ہم نے ان کے ٹویٹر اکانٹ کو جانچا تو پایا کہ انہوں نے کسی بھی ٹویٹ میں ایسا کچھ نہیں لکھا ہے۔

ہم نے تصدیق کے لئے جاوید اختر کے مینیجر شرون کمار سے بات کی جنہوں نے ہمیں بتایا کہ یہ خبر غلط ہے۔ جاوید اختر نے کبھی بھی ایسی کوئی بات نہیں کہی ہے۔

اس پوسٹ کو انجلی دھرمیش ٹھککر(نیچے انگریزی میں دیکھیں) نام کی ایک فیس بک صارف نے ’آئی سپورٹ نمو‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) نام کے ایک فیس بک پیج پر شیئر کیا تھا۔ اس پیج کے کل 479,592 ممبرس ہیں۔
Anjali Dharmesh Thakkar, I Support Namo

نتیجہ: ہماری پڑتال میں ہم نے پایا کہ یہ پوسٹ غلط ہے۔ جاوید اختر نے روہنگیا اور کشمیری پنڈتوں کو لے کر ایسا کوئی بیان نہیں دیا ہے۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com 
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 ) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

Written BY Umam Noor
  • Claim Review : جاوید اختر نے رہنگیا اور کشمیری پنڈتوں کو لے کر دیا متنازعہ بیان
  • Claimed By : I Support Namo
  • Fact Check : False

ٹیگز

متعلقہ مضامین