X

فیکٹ چیک: جھارکھنڈ کے ماک ڈرل کا ویڈیو پولیس کی کاروائی کے نام سے ہوا وائرل

  • By Vishvas News
  • Updated: December 24, 2019

نئی دہلی (وشواس ٹیم)۔ سوشل میڈیا پر پولیس کی جانب سے لوگوں پر ظلم کے نام سے ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے۔ دعویٰ کیا جا رہا ہے کہ ’’یہ ہندوستان کا ویڈیو ہے کیا ظلم ہو رہا ہے انسانوں پر‘‘۔ وشواس نیوز کی پڑتال میں یہ دعویٰ غلط نکلا۔ اصل میں یہ ویڈیو جھارکھنڈ کے کھونٹی میں 2017 میں ہوئی ماک ڈرل کا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پر شیئر کئے ویڈیو کے ساتھ لکھا ہوا ہے’’یہ ہندوستان کا ویڈیو ہے کیا ظلم ہو رہا ہے انسانوں پر‘‘۔ پوسٹ کی آرکائیو ورژن یہاں دیکھیں۔

پڑتال

ہم نے اپنی پڑتال کا آغاز کیا اور سب سے پہلے ویڈیو کے کی فریمس کا رورس امیج سرچ کیا اور ہمیں یوٹیوب پر یہی ویڈیو ملا۔ گنیش سناسی نام کے صارف نے یوٹیوب کے اپنے چینل پر اسی ویڈیو کو 1 نموبر 2017 کو اپ لوڈ کیا تھا۔

ویڈیو کے ڈسکپشن میں انہوں نے لکھا ہوا ہے کہ یہ ویڈیو کھونٹی پولیس کے ماک ڈرل کا ہے۔

وشواس نیوز نے یوٹیوب کے اس ویڈیو کی حقیقت کی تصدیق کے لئے کھونٹی پولیس سے رابطہ کیا۔ جھارکھنڈ کے کھونٹی پولیس اسٹیشن کے ایس ایچ او جےدیپ نے بتایا کہ ان کی پوسٹنگ اسی سال تھانے میں ہوئی ہے، اسلئے انہیں اس بارے میں کوئی خاص معلومات نہیں ہے۔ جے دیپ کے پہلے تھانے میں تیعنات ایس ایچ او نے بھی اس معاملہ میں کچھ بھی نہیں بتایا۔

یوٹیوب پر یہ ویڈیو ایک نمبر 2017 کو اپ لوڈ کیا گیا تھ، ہم نے ان افسران سے رابطہ کیا، جو اس وقت اس علاقہ میں تعینات تھے۔ اس وقت کھونٹی کے ڈی ایس پی (پروبیشنر) آشوتوش کمار سے وشواس نیوز نے بات کی۔ آشوتوش ابھی چترا ضلع کے ٹنڈوا میں سب ڈویژنل افسر (ایس ڈی پی او) تعینات ہیں۔

انہوں نے ویڈیو کی تصدیق کرتے ہوئے بتایا، ’’ان کے وقت کھنٹی میں ماک ڈرل ہوا تھا اور وائرل ہو رہا ویڈیو اسی ڈرل کا ہے‘‘۔

نتیجہ: پولیس کے ظلم کے نام سے وائرل ہو رہا ویڈیو فرضی ہے۔ اصل میں یہ ویڈیو جھارکھنڈ کے کھونٹی میں 2017 میں ہوئی ماک ڈرل کا ہے۔

  • Claim Review : Ye india ki hi vedio hai kya zulm ho raha hai insano per
  • Claimed By : Fb User- Shahenshah Raza
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later