X
X

فیکٹ چیک: پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے لئے 50 فیصد کھانے کی اشیاء کی قیمت میں کمی کو لے کر نہیں پاس ہوا کوئی بل، دعوی فرضی ہے

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ بھاریہ پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل منظور نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وائرل کی جا رہی تصویر سال 2013 کی وزیر اعظم مودی کے پی ایم بننے سے پہلے کی ہے۔

  • By: Umam Noor
  • Published: Feb 24, 2025 at 03:24 PM
  • Updated: Feb 24, 2025 at 05:40 PM

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ پاکستان کے سوشل میڈیا صارفین وزیر اعظم نریدر مودی کی ایک تصویر کو شیئر کرتے ہوئے دعوی کر رہے ہیں کہ بھارتی پارلیمنٹ نے رمضان سے قبل مسلمانوں کے لئے 50 فیصد کھانے کی اشیاء کی قیمت میں کمی کو لے کر ایک بل منظور کیا ہے۔ وائرل کئے جا رہے دعوی کو مختلف پلیٹ فارمز پر شیئر کیا جا رہا ہے۔

وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ بھارتی پارلیمان میں ایسا کوئی بل منظور نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وائرل کی جا رہی تصویر سال 2013 کی وزیر اعظم نریندر مودی کے پی ایم بننے سے پہلے کی ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف نے وائرل پوسٹ کو شیئر کرتے ہوئے لکھا، ’’اج ہندوستان کے پارلیمنٹ ہاؤس میں وزیر اعظم نریندر مودی نے ہندوستان کےمسلمانوں کےلیے رمضان المبارک کےمہینے میں کھانے کی اشیاء 50% سستی کرنے کا بل منظور کرلیا جس پر مسلمانوں کی سربراہ نے وزیر اعظم نریندر مودی کا شکریہ ادا کیا ۔ اور ہمارے ملک کے حکمران اور تاجر دکاندار عوام کو رمضان المبارک میں ہر چیز ڈبل کر دیتے ہیں کہتے ہیں رمضان المبارک کمائی کا مہینہ ہوتا ہے افسوس‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کو شروع کرتے ہوئے سب سے پہلے ہم نے وائرل کی جا رہی تصویر کو سرچ کیا۔ گوگل لینس کے ذریعہ سرچ کئے جانے پر ہمیں یہ تصویر رائٹرس کی ویب سائٹ پر 10نومبر 2023 کو شائع ہوئے ایک آرٹیکل میں ملی۔ تصویر کے ساتھ دی گئی معلومات کے مطابق، یہ فوٹو 10 نومبر 2013 کی اس وقت کی ہے جب نریندر مودی وزیر اعظم عہدہ کے امیدوار تھے اور احمدآباد میں ایک ہسپتال کی افتتاح تقریب میں پہنچے تھے۔

پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم نے وائرل پوسٹ میں کئے جا رہے دعوی سے متعلق نیوز سرچ کیا۔ سرچ کئے جانے پر ہمیں ایسی کوئی خبر نہیں ملی کہ بھارتی پارلیمان میں رمضان سے پہلے مسلمانوں کے لئے وائرل دعوی جیسا کوئی بل پاس ہوا ہو۔ حالاںکہ اگر ایسی کسی بھی خبر میں حقیقت ہوتی تو سرخیوں میں موجود ہوتی۔

پڑتال کو آگے بڑھاتے ہوئے ہم سنسد کی آفیشیئل ویب سائٹ پر پہنچے اور وہاں پر راجیہ سبھی کے بل چیک کئے، حالاںکہ ہمیں وائرل پوسٹ سے متعلق کوئی بل نہیں ملا۔ تمام بلز یہاں دیکھے جا سکتے ہیں

مزید سرچ کئے جانے پر ہمیں ہمیں لوک سبھا میں بھی ایسا کوئی بل نہیں ملا جس کا وائرل دعوی میں ذکر ہے۔ نیچے دئے گئے اسکرین شاٹ میں حالیہ بل دیکھے جا سکتے ہیں، مکمل فہرست یہاں دیکھیں۔

قابل غور ہے کہ 2013 میں، حکومت ہند نے آبادی کی اکثریت کے لیے سستی خوراک تک رسائی کو یقینی بنانے کے لیے نیشنل فوڈ سیکیورٹی ایکٹ (این ایف ایس اے) منظور کیا تھا۔ اس ایکٹ کو رائٹ ٹو فوڈ ایکٹ کے نام سے بھی جانا جاتا ہے۔ این ایف ایس اے کا مقصد ہندوستان کی تقریباً دو تہائی آبادی کو سبسڈی والے غذائی اناج فراہم کرنا ہے۔ این ایف ایس اے ایکٹ 2013 سے متعلق معلومات یہاں پڑھی جا سکتی ہے۔

وائرل دعوی سے متعلق تصدیق کے لئے ہم نے ہمارے ساتھی دینک جاگرن میں کے قومی بیرو ہیڈ آشیتوش جھا سے رابطہ کیا۔ انہوں نے ہمیں تصدیق دیتے ہوئے بتایا کہ وائرل دعوی فرضی ہے، ایسا کوئی بل پارلیمان میں پاس نہیں ہوا ہے۔

اب باری تھی فرضی پوسٹ کو شیئر کرنے والے فیس بک صارف کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کو 58, 889 لوگ فالوو کرتے ہیں۔ وہیں اس پروفائل سے پاکستان سے متعلق پوسٹ شیئر کی جاتی ہیں۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ وائرل کیا جا رہا دعوی فرضی ہے۔ بھاریہ پارلیمنٹ میں ایسا کوئی بل منظور نہیں ہوا ہے۔ اس کے علاوہ وائرل کی جا رہی تصویر سال 2013 کی وزیر اعظم مودی کے پی ایم بننے سے پہلے کی ہے۔

  • Claim Review : بھارتی پارلیمینٹ نے رمضان سے قبل پارلیمنٹ میں مسلمانوں کے لئے 50 فیصد کھانے کی اشیاء کی قیمت میں کمی کو لے کر ایک بل منظور کیا ہے۔
  • Claimed By : FB User- Akram Sheikh
  • Fact Check : جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

اپنی راے دیں

No more pages to load

متعلقہ مضامین

Next pageNext pageNext page

Post saved! You can read it later