فیکٹ چیک: اویسی سے نہیں، نریندر مودی سے ہاتھ ملا رہے تھے امت شاہ

0

نئی دہلی (وشواس ٹیم) سوشل میڈیا پر ایک تصوير وائرل ہو رہی ہے۔ اس میں آل انڈیا مجلس اتحاد المسلمین (اے آئی ایم آئی ایم) کے صدر اسدالدین اویسی اور بی جے پی صدر امت شاہ کو مبینہ طور پر ہاتھ ملاتے ہوئے دیکھا جا سکتا ہے۔ وشواس ٹیم کی تفتیش میں یہ تصوير فرضی ثابت ہوئی۔ فوٹوشاپ کی مدد سے نریندر مودی کی تصوير کے اوپر اویسی کا چہرہ چسپاں کردیا گیا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

فیس بک پیج’ آئی سپورٹ راہل گاندھی‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) پر جيوتی ٹھاکر نے 9 اپریل 2019 کو فرضی تصویر کو اپ لوڈ کرتے ہوئے لکھا: جگری دوستوں کی ملاقات، دونوں کے درمیان ملک بھر میں ہندو مسلم کی طرف سے، ایک دوسرے کو جتانے کا خفیہ اتحاد ہو چکا ہے۔ کہاں ہو بھگتوں۔
I support Rahul Gandhi

یہ تصویر ٹویٹر اور واٹس ایپ پر بھی پھیلی ہوئی ہے۔

تفتیش

وشواس کی ٹیم نے وائرل تصویر کی تفتیش اور جانچ کرنے کا فیصلہ کیا۔ سب سے پہلے ہم نے وائرل تصویر کو گوگل ریورس امیج میں تلاش کیا۔ ہمیں کئی ایسی تصويریں ملیں، جو وائرل تصوير جیسی ہی تھیں۔ لیکن اس میں امت شاہ اسدالدين اویسی سے نہیں، بلکہ نریندر مودی سے ہاتھ ملا رہے ہیں۔

یہاں ہمیں ’بزنس ٹوڈے ڈاٹ ان‘ (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی خبر کا ایک لنک ملا۔ اس خبر میں نریندر مودی اور امت شاہ کی اسی تصوير کا استعمال کیا گیا تھا، جسے چھیڑچھاڑ کر کے اب وائرل کیا جا رہا ہے۔ اصل تصوير2014 میں ہوئے مہاراشٹر اور ہریانہ اسمبلی انتخابات کے نتائج کے اعلان کے بعد 19 اكتوبر 2014 کی ہے۔
Businesstoday.in

اب ہمیں یہ پتہ لگانا تھا کہ نریندر مودی اور امت شاہ کی اصل تصوير کس نے کلک کی تھی۔ یہ جاننے کے لئے ہم نے گوگل کے سرچ میں اس تصویر کو تلاش کرنا شروع کیا۔ کئی صفحات کو اسکین کرنے کے بعد آخر کار ہمیں گیٹی امیجز (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کا ایک لنک مل ہی گیا۔ یہ تصوير سجاد حسین نے کلک کی تھی۔ تصوير کے کیپشن میں انگریزی میں لکھا ہوا ہے
 Indian Prime Minister Narendra Modi is greeted by Bharatiya Janata Party (BJP) President Amit Shah (R) as Modi arrives at the party headquarters to attend the BJP Parliamentary Board meeting in New Delhi on October 19 2014. India’s right-wing ruling party secured strong victories in two important state elections  tightening its grip on power after storming to power nationally five months ago . Prime Minister Narendra Modi’s Bharatiya Janata Party (BJP) was assured of victory in Maharashtraof which financial hub Mumbai is the capital over its centre-left rival the Congress party which ruled the western state with its allies for 15 years. AFP PHOTO / SAJJAD HUSSAIN

تصوير کو سرچ کرنے کے بعد ہم نے واقعہ کی ویڈیو تلاش کرنا شروع کیا۔ اس کے لئے ہم نے یو ٹیوب (نیچے انگریزی میں دیکھیں) پر کی ورڈس ڈال کر سرچ کیا۔ کئی ویڈیو اسکین کرنے کے بعد ہمیں انڈیا ٹی وی (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کے یو ٹیوب چینل پر ایک ویڈیو مل ہی گیا 46 سیکنڈ پر ہمیں وہی زاویہ ملا، جو تصوير میں تھا۔ چینل نے یہ ویڈیو 19 اكتوبر 2014 کو اپ لوڈ کیا ہے۔
India TV, Youtube

تصوير کی سچائی کا پتہ لگانے کے بعد اب ہمیں یہ جاننا تھا کہ فرضی تصویر وائرل کرنے والی فیس بک صارف جيوتی ٹھاکر کون ہے اسٹاک اسکین ٹول (نیچے انگریزی میں دیکھیں) کی مدد سے ہمیں پتہ چلا کہ یہ فیس بک اکاؤنٹ فرضی ہے۔ اسے 1039 لوگ فالو کرتے ہیں۔
StalkScan

نتیجہ: وشواش کی ٹیم کی تفتیش میں پتہ چلا کہ جس تصوير کو اسدالدين اویسی اور امت شاہ کی بتا کر وائرل کیا جا رہا ہے دراصل، وہ نریندر مودی -امت شاہ کی ہے۔ تصوير 19 اكتوبر 2019 کی ہے اور اسے سجاد حسین نے نئی دہلی واقع بی جے پی کے دفتر میں کلک کی تھی۔

مکمل سچ جانیں…سب کو بتائیں

اگر آپ کو ایسی کسی بھی خبر پر شک ہے جس کا اثر آپ کے معاشرے اور ملک پر پڑ سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ ہمیں یہاں جانکاری بھیج سکتے ہیں۔ آپ ہم سے ای میل کے ذریعہ رابطہ کر سکتے ہیں
contact@vishvasnews.com
اس کے ساتھ ہی واٹس ایپ (نمبر9205270923 –) کے ذریعہ بھی اطلاع دے سکتے ہیں۔

Written BY Umam Noor
  • Claim Review : اسدالدین اویسی سے ہاتھ ملاتے امت شاہ
  • Claimed By : Jyoti Thakur
  • Fact Check : False

ٹیگز

متعلقہ مضامین