X

فیکٹ چیک: ایودھیہ معاملہ میں ایس سی کے فیصلہ کے بعد پی ایم مودی نے رنجن گوگوئی کو نہیں بھیجا ہندو راشٹرا سے متعلق خط

  • By Vishvas News
  • Updated: November 21, 2019

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ ایودھیہ معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد بنگلہ دیش سوشل میڈیا میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام سے ہندوستان کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو لکھا ’خط‘ وائرل ہو رہا ہے۔ خط میں وزیر اعظم نریندر مودی کے حوالے سے ایودھیہ معاملہ کی سماعت کر چکی آئینی بنچ کے ممبران کو ’ہندو راشٹرا‘ میں تعاون دینے کے لئے مبارک باد دی گئی ہے۔

وشواس نیوز کی پڑتال میں وزیر اعظم نریندر مودی کے نام سے سوشل میڈیا پر شیئر کیا جا رہا یہ خط فرضی ہے، جسے معاشرتی ہم آہنگی کو خراب کرنے کے مقصد سے تیار کیا گیا ہے۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں

وائرل پوسٹ میں وزیر اعظم نریندر مودی کے ’’دستخط‘‘ کے ساتھ سپریم کورٹ کے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو لکھے ’خط‘ کی تصویر شیئر کی گئی ہے۔

انگریزی میں لکھے گئے خط میں کہا گیا ہے، ’’میں ہندو راشٹرا میں آپ کے عظیم تعاون کے لئے آپ کو اور آپ کی بینچ (آئینی بینچ) میں شامل جسٹس ایس اے بوبڑے، جسٹس ڈی وائے چندر چوڑ، جسٹس اشوک بھوشن اور جسٹس ایس عبد النذیر کو مبارک باد دیتا ہوں۔ ہندو اس شاندار اور یادگار فیصلہ کے لئے ہمیشہ آپ کے اور آپ کی ٹیم کے شکرگزار رہیں گے، جو ہندو راشٹرا کی نئی تاریخ رقم کرےگا‘‘۔

پڑتال

سپریم کورٹ نے ایودھیہ معاملہ میں 9 نومبر 2018 کو فیصلہ دیا تھا، جسے سپریم کورٹ کی ویب سائٹ پر دیکھا جا سکتا ہے۔

کورٹ کے اس فیصلہ سے پہلے اور بعد میں وزیر اعظم نریندر مودی نے اس فیصلہ کو کسی کی فتح یا شکست سے جوڑ کر نہ دیکھنے کی اپیل کی تھی۔

رواں ماہ کی 8 تاریخ کو وزیر اعظم نریندر مودی نے ایودھیا فیصلے کے پیش نظر ٹویٹ میں کہا کہ ‘ایودھیا پر سپریم کورٹ کا جو بھی فیصلہ آئے گا، یہ کسی کی فتح یا شکست نہیں ہوگی۔ وطن عزیز سے میری اپیل ہے کہ ہم سب کی ترجیح ہونی چاہئے کہ اس فیصلے سے ہندوستان کی امن، اتحاد اور خیر سگالی کی عظیم روایت کو مزید تقویت ملنی چاہئے‘‘۔

سپریم کورٹ جب اس معاملہ میں فیصلہ دے رہا تھا، تب وزیر اعظم پنجاب میں کرتارپور کاریڈور کا افتتاح کر رہے تھے۔ اس کے بعد دیر شام انہوں نے ملک کو خطاب کیا، جسے یہاں سنا جا سکتا ہے۔

ہمیں وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے لکھے گئے دیگر خط کی تصاویر ملیں۔ دونوں ہی تصاویر میں دستخط اور خطاب میں ان کے طریقہ کے فرق کو صاف دیکھا جا سکتا ہے۔

سرچ میں ہمیں وزیر اعظم مودی کی جانب سے 11 سال کی بچی کے خط کو ان کا دیا گیا ایک اور جواب ملا، جس میں ان کے خطاب کے ایک جیسے طریقہ (نام کے بعد ’جی‘ کا استعمال) کو دیکھا جا سکتا ہے۔

وزیر اعظم اپنے خط میں نام کے خطاب کے بعد ’جی‘ کا استعمال کرتےہیں، جبکہ فرضی خط میں سپریم کورٹ کے ججیز کو (عزت) دینے کے بجائے (ذاتی طور پر) خطاب کیا گیا ہے۔

بنگلہ دیش کے مقامی میڈیا میں اس خط کے وائرل ہونے کے بعد ڈھاکہ میں تعینات سفارت خانہ کی جانب سے وائرل ہو رہے خط کو فرضی بتا کر خارج کیا گیا۔

बांग्लादेश में मौजूद भारतीय दूतावास की तरफ से जारी किया गया खंडन

سفارت خانہ کی جانب سے جاری پریس ریلیز میں کہا گیا ہے، ’’ہماری جانکاری میں یہ بات آئی ہے کہ مقامی میڈیا میں وزیر اعظم مودی کے نام سے چیف جسٹس کو لکھے خط وائرل ہو رہے ہیں۔ یہ خط مکمل طور سے فرضی اور غلط نیت کے ساتھ پھیلائے جا رہے ہیں۔ یہ بنگلہ دیش کے لوگوں کو گمراہ کرنے اور معاشراتی ہم آہنگی کو توڑنے کے لئے کیا گیا ہے۔ یہ ہندوستان کے خلاف فرضی تشہیر کی سازش ہے‘‘۔

ہندوستان کی وزارت خارجہ نے بھی اس کی تردید کی ہے۔ وزارت خارجہ کے ترجمان رویش کمار نے وائرل ہو رہے خط کو خارج کرتے ہوئے کہا کہ یہ (دو) برادریوں کے درمیان نفرت پھیلانے کے مقصد سے تیار کیا گیا فرضی خط ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس کا مقصد ہندوستان اور بنگلہ دیش کے لوگوں کے بیچ غلط فہمی پیدا کرنا ہے۔

اب باری تھی اس پوسٹ کو فرضی حوالے کے ساتھ وائر کرنے والی فیس بک صارف اشرف نیپو کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ اس صارف کا تعلق بنگلہ دیش سے ہے وہیں ان کو 7,090  لوگ فالوو کرتےہیں۔

نتیجہ: ایودھیہ معاملہ میں سپریم کورٹ کا فیصلہ آنے کے بعد وزیر اعظم نریندر مودی کی جانب سے سابق چیف جسٹس رنجن گوگوئی کو لکھا گیا خط فرضی ہے۔ وزیر اعظم نے ایسا کوئی خط رنجن گوگوئی کو نہیں لکھا، جس میں انہوں نے ’’ہندو راشٹر‘ میں تعاون کے لئے ان کا شکریہ ادا کیا۔

  • Claim Review : अयोध्या मामले में सुप्रीम कोर्ट के फैसले के बाद पीएम मोदी ने चीफ जस्टिस रंजग गोगोई को लिखी चिट्ठी
  • Claimed By : FB User- Ashraf Nipu
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later