X

فیکٹ چیک: طیب اردگان کی فرانسیسی صدر کے ساتھ بے رخی کا دعوی فرضی، وائرل ویڈیو 2018 کا ہے

  • By Vishvas News
  • Updated: December 11, 2020

نئی دہلی (وشواس نیوز)۔ سوشل میڈیا پر ایک ویڈیو وائرل ہو رہا ہے جس میں ترکی کے صدر طیب اردگان، فرانسیسی صدرامیونل میکرون، روسی صدر ولادمیر پوتن اور جرمنی کی چانسلر اینجیلا مارکل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو میں ترکی کے صدر طیب اردگان کھڑے ہوتے ہیں اور جرمنی کی چانسلر اینجیلا مارکل اور پھر روسی صدر ولادمیر پوتن سے ہاتھ ملاتے ہیں۔ اور فرانسیسی صدر سے بغیر ہاتھ ملائے آگے بڑھ جاتے ہیں۔ اب اسی ویڈیو کو گزشتہ روز کا سمجھتے ہوئے اس حوالے کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہےکہ فرانس میں محمد کے کارٹون کے پیش آئے معاملہ کے بعد اجلاس میں اردگان نے امیونل میکرون کے ساتھ بے رخی اختیار کی اور دوسری طرف چل پڑے۔

وشواس نیوز نے ویڈیو کی پڑتال کی اور ہم نے پایا کہ حال ہی کا سمجھ کر جس ویڈیو کو وائرل کیا جا رہا ہے وہ اصل میں 2018 کا شام سے متعلق ہوئے ایک اجلاس کا ویڈیو ہے۔ علاوہ ازیں ویڈیو کی چھوٹی کلپ کو کاٹ کر فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کیا گیا ہے۔ پورے اجلاس کے دوران دونوں ہی رہنماؤں کے درمیان بے رخی یا ذلیل کرنے جیسا کوئی معاملہ نہیں ہوا تھا۔

کیا ہے وائرل پوسٹ میں؟

فیس بک صارف ’زارا شہزاد نے ایک 14 سیکنڈ کے ویڈیو کو شیئر کیا جس میں ترکی کے صدر طیب اردگان، فرانسیسی صدر امیونل میکرون، روسی صدر ولادمیر پوتن اور جرمنی کی چانسلر اینجیلا مارکل کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ویڈیو کو شیئر کرتے ہوئے صارف نے لکھا،’’‏فرانس کے گستاخ صدر کو دیکھ کر طیب اردغان نے دوسری طرف چل پڑے اور گستاخ فرانسیسی صدر سے ہاتھ بھی نہیں ملایا۔ ترک صدر نے ایسی بے رخی کی ایسا ذلیل کیا اسکو کہ وہ دیکھتا ہی رہ گیا‘‘۔

پوسٹ کے آرکائیو ورژن کو یہاں دیکھیں۔

پڑتال

اپنی پڑتال کا آغاز کرنے کے لئے سب سے پہلے اس ویڈیو کو ہم نے ان ویڈ ٹول میں ڈالا اور متعدد کی فریمس نکال کر انہیں گوگل رورس امیج کے ذریعہ سرچ کیا۔ سرچ میں ہمارے ہاتھ ‘اوراکٹیو‘ نام کے نیوز پورٹل کی ایک خبر لگی۔ 29 اکتوبر 2018 کو شائع کی گئی خبر میں ویڈیو کے ہی ایک اسکرین گریب کو دیکھا جا سکتا ہے۔ خبر میں بتایا گیا کہ روس، جرمنی، فرانس اور ترکی کے رہنماؤں نے ہفتہ (27 اکتوبر) کو شام میں جنگ بندی سے متعلق ایک اجلاس میں شرکت کی تھی۔

اب ہم نے مناسب کی ورڈ ڈال کر گوگل اوپن سرچ کیا اور ہمارے ہاتھ ’رپٹلی‘ کے آفیشیئل یوٹیوب پیج کی جانب سے 27 اکتوبر 2018 کو شیئر کیا گیا ویڈیو لگا۔ یہ اجلاس کا مکمل ویڈیو تھا، پورے ویڈیو کو دیکھنے پر بھی ہمیں ایسا کچھ نظر نہیں آیا جس سے یہ ظاہرہ ہوتا کہ کہ ترکی کے صدر طیب اردوگان نے فرانسیسی صدر امینول میکرون کے ساتھ بے رخی اختیار کی ہو۔ یا انہیں ذلیل کیا ہو۔

اپنی مزید سرچ میں ہمیں فوٹو ایجنسی اے ایف پی کی جانب سے مذکورہ اجلاس کی کھینچی گئی تصویر بھی ملی جس میں دونوں رہنما ایک دوسرے سے ہاتھ ملاتے ہوئے نظر آرہے ہیں۔ تصویر کو اوزان کوسے نام کے فوٹو گرفر نے کھینچا تھا۔

اے ایف پی کی ویب سائٹ پر فوٹو گرافر اوزان کوسے کی ہمیں ایک تصویر اور بھی ملی جو ویڈیو کی ہی اسٹل امیج تھی۔

اب ہم نے تصدیق کے لئے اجلاس میں موجود اے ایف پی کے فوٹوگرافر اوزان کوسے سے رابطہ کیا اور ان کے ساتھ وائرل ویڈیو اور اس کے ساتھ کیا جا رہا دعوی شیئر کیا جس پر انہوں نے ہمیں بتایا کہ، ’یہ ایونٹ 28 اکتوبر 2018 کو فرانس کارٹون معاملہ سے پہلے ہوا تھا۔ اجلاس کے دوران میکرون اور اردوگن دونوں ہی رہنما ایک دوسرے سے بےحد خوش مزاجی سے پیش آرہے تھے۔ وائرل ویڈیو اجلاس کےاختتام اور فیملی فوٹو سے پہلے کا ہے۔ ممکن ہے کی اردگان، میکرون سے ہاتھ ملانا بھول گئے ہوں لیکن بعد میں وہ آتے ہیں اور ہاتھ بھی ملاتے ہیں جسے وائرل ویڈیو میں نہیں دکھایا گیا ہے‘‘۔

اب باری تھی پوسٹ کو فرضی دعوی کے ساتھ شیئر کرنے والی فیس بک صارف زارا شہزاد کی سوشل اسکیننگ کرنے کی۔ ہم نے پایا کہ صارف کا تعلق پاکستان سے ہے۔

نتیجہ: وشواس نیوز نے اپنی پڑتال میں پایا کہ طبب اردگان کی امیونل میکرون کے ساتھ بیروخی کے نام پر جس ویڈیو کو وائرل کیا جا رہا ہے وہ 2018 کا فرانس کارٹون معاملہ سے پہلے ویڈیو کا ہے۔ جب چار ممالک کے رہنماؤں کے درمیان شام سے متعلق اجلاس ہوا تھا۔ اب اسی معاملہ کے پرانے ویڈیو کو جان بوجھ کر فرضی دعوی کے ساتھ وائرل کیا جا رہا ہے۔

  • Claim Review : ‏فرانس کے گستاخ صدر کو دیکھ کر طیب اردغان نے دوسری طرف چل پڑے اور گستاخ فرانسیسی صدر سے ہاتھ بھی نہیں ملایا ترک صدر نے ایسی بے رخی کی ایسا ذلیل کیا اسکو کہ وہ دیکھتا ہی رہ گیا
  • Claimed By : Zara Shahzad
  • Fact Check : جھوٹ‎
جھوٹ‎
    فرضی خبروں کی نوعیت کو بتانے والے علامت
  • سچ
  • گمراہ کن
  • جھوٹ‎

مکمل حقیقت جانیں... کسی معلومات یا افواہ پر شک ہو تو ہمیں بتائیں

سب کو بتائیں، سچ جاننا آپ کا حق ہے۔ اگر آپ کو ایسے کسی بھی میسج یا افواہ پر شبہ ہے جس کا اثر معاشرے، ملک یا آپ پر ہو سکتا ہے تو ہمیں بتائیں۔ آپ نیچے دئے گئے کسی بھی ذرائع ابلاغ کے ذریعہ معلومات بھیج سکتے ہیں۔

ٹیگز

متعلقہ مضامین

Post saved! You can read it later